لاکھوں فرشتوں کے ساتھ چلنے والا ” ڈاکٹر آصف محمود جاہ“
08 جون 2018 2018-06-08

کیا آپ نے کبھی ڈاکٹر آصف جاہ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، یا وہ آپ کی سمجھ میں کبھی آئے ہیں، میں نے تو جب بھی ، اُن کے کام پہ غور کرنا چاہا، تو ہمیشہ وہ میرے فہم و ادراک کی دَسترس سے باہر نکلے،
جب میں یہ سمجھتا ہوں، کہ وہ بہت سادہ ہیں، اور بعض لوگ تو اُنہیں سادہ لُوح بھی سمجھنے لگتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے ، کہ وہ تو نہایت ذہین و فطین ہیں، اور جب آپ اپنی رائے پہ قائم رہ کر اُنہیں زیرک و ذہین سمجھنے لگتے ہیں، تو وہ حد سے زیادہ سَادہ نظر آتے ہیں، بلکہ اپنے اتنے سادہ کہ دو دفعہ سادہ اُنہیں کہ وہ فرو مسلمان کا فرق بھی نہیں سمجھ پاتے، اور مستحق جان کر ، اور انسانیت کی لاج رکھتے ہوئے دونوں کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں، مثلاً تھر میں ہندوﺅں کیلئے حکومت سے زیادہ اُنہوں نے کنویں کھدوائے شاید اس لئے کہ اللہ سبحان و تعالیٰ، دو لاکھ میں ایک کنواں بنتا ہے، الحمد للہ ہم نے بھی ایک کنواں کھدوایا ہے۔ جس کا بھلا چاہتا ہے، تو اُسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے، اور پھر سمجھ اتنی عطا فرمائی ، کہ اُنہوں نے اپنے بیٹے کو پہلے حافظ قرآن بنا کر جنت فردوس میں جگہ پکی کرلینے کے بعد پھر اُسے ڈینٹل ڈاکٹر بنانے کے لئے تعلیم دلانی شروع کر دی ہے۔
لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اُنہیںاپنی اہلیہ کا بھی شکر گذار ہونا چاہئے، جو ہر مَرحلے پہ خاموشی کے ساتھ ، اُن کا قدم قدم پر بچوں کے ساتھ ، ساتھ دیتی نظر آتی ہیں، اور مصیبت زدگان کے لئے ، شب و روز اِمدادی پیکٹ بنانے میں شدید گرمی و سردی میں مصروفِ کار رہتی ہیں۔
ڈاکٹر آصف محمود جاہ، مجھے اور آپ کو کیسے سمجھ آسکتے ہیں، کیونکہ وہ آپ کو اگر دفتروں، یا ویرانوں اور کھلیانوں میں ، اذان دیتے یا نمازیوں کی امانت کرتے نظر آتے ہیں، تو دُوسرے ہی لمحے وہ ایک با اُصول ، قانون پسند اور سخت گِر منتظم ہونے کی دھاک بٹھاتے ہی ”عالم گیر فلاح کار“ کی عالم گیر شہرت حاصل کرلیتے ہیں۔ ملکیت کی کرامت ، اور آدابِ فرزندگی فرزندانِ اسلام میں اِس طرح ، نسل دَرنسل سُرورو، وَجدان بلکہ فلاحِ انسانیت کا جُنون بن کر رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے، جس کی افادیت و اہمیت سے مُفکرِ اسلام متاثر ہو کر فرماتے ہیں کہ
نظر حیات پہ رکھتا ہے میر و دانش مند
حیات کیا ہے، حضور و سرورو نورو وُجود
ایک دِن میں بظاہر سُرور آبگیںاور آرام و آسائش ، رَاحت و استراحت سے عاری اِس شخص بے تنازع کو راحل ایوانِ اقتدار میں دیکھ کر دسواس میں مبتلا ہوگیا، کہ خوشامد اور چاپلوسی سے ماورا ڈاکٹر آصف محمود کا یہاں کیا کام.... مگر میں یہ بھول بیٹھا کہ کام ہی تو نام بناتا ہے، اُن کے کام سے صرف متاثرین آفت زدگان ہی نہیں بلکہ متاثرین میں حکمران بھی شامل ہُوگئے ہیں، گو میں سمجھتا ہوں کہ اِن جیسے وفا شعاروں اور دلداروں کو تمناءستائش و داد و آفریں نہیں ہوتی، مگر قدرت خدا کی کہ ہر چیز پہ قدرت رکھنے والا جس کے اذِن کے بغیر نہ تو پتا چلتا ہے، نہ کونپل پھوٹتی ہے، نہ بُلبل کی کو کو اور نہ ہی غلامان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِل سے ہُوک نکلتی ہے،
وہ جنرل راحیل شریف سے ایوانِ صدر میں مُسلسل محو گفتگو تھے، دیکھنے والوں کو اچنبا اِس لئے نہیں ہُوا، کہ ضرب حزب و غضب کا ہیرو، اور فلاحِ و بقا انسانیت کا ہیرو، عُدو، یعنی مشرکین کی بچھائی ہوئی چال، اور پانی چُھوڑ کر پاکستانی قصبات، شہر و دیہات کو بے حال کرنے کے منصوبوں کو کیسے ناکام بناسکا؟
مگر جب یہ طے ہے کہ اَچھائی رَب ، رحمان کی طرف سے ہے، اور ہر مسلمان کی اللہ آزمائش ضرور کرتا ہے، مگر بُرائی انسانی اَعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہم جب عبادت و ریاضت کی سعی کرتے ہیں، تو پھر ہم اپنی جانب کیوں منسوب کردیتے ہیں، حالانکہ وہ تو محض اور محض توفیق ربانی ہے،
یہی توفیق عبدالستار ایدھی، چھیپا، ڈاکٹر امجد ثاقب، اور محمد آصف محمود جاہ کو اللہ نے دی، اور سوچنے کی بات ہے کہ انسان مدتوں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے سرفراز ہوتا رہتا ہے۔ مگر اللہ سُبحان و تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا، حالانکہ رب رحمن و رحیم کا فرمان ہے، کہ میرا شکر ادا کرو میں تمہیں دوگنا دونگا، اور جس نعمت پہ شکر ادا کر دیا جائے، تو اللہ تعالیٰ نہ وہ نعمت سلب کرتا ہے، نہ واپس لیتا ہے۔ مگر اتنا لمبا عرصہ زندگانی اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کی فراوانی اور دستیابی سے فائدہ اُٹھا کر وہ نہ تو شکر انے کے نوافل پڑھتا ہے، اور نہ شکرانے کے کلمات ادا کرتا ہے۔ بلکہ فائدے کی چیزوں کو خود کو عقلمند سمجھتے ہوئے اپنے آپ سے منسوب کر دیتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجیہہ اگر تم تنگ دست ہو جاﺅ، تو گبھراﺅ مت ، اس لئے کہ بہت دنوں تک کشادہ دست رہ چکے ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ جب کِسی قوم کو آزمانے پر آتا ہے تو اُس رسی جس کو اُس نے ڈھیلا کیا ہوتا ہے، ذرا سا کھینچتا ہے، تو آفاتِ اَرضی و سمادیٰ نازل فرما دیتا ہے، اور کِسی انسان کو آزماتا ہے تو جب اُس کے رزق میں کمی آجاتی ہے، تو کوتاہی اور نااہلی سمجھنے کی بجائے ناشکری کے کلمات فوراً ادا کرنا شروع کر دیتا ہے، اس طرح سے اللہ کی رَاہ پر نہ چلنے والا شیطان لعین کے بہکاوے میں کتنی جلدی آجاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔
مگر جب خالق و مالک، صراطِ مستقیم پر اپنے دُوستوں کو رَاہ منزل مُراد پہ چلا دیتا ہے، تو پھر وہ اُس کی آنکھیں بن جاتا ہے، جس سے وہ دیکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس کے ہاتھ بن جاتا ہے، جس سے وہ چھوتا ہے۔
حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ، اُس کے پاﺅں بن جاتا ہے، جس سے وہ چلتا ہے، قربان جائیں، اُس کی رحمت ، پہ جو اُس کی تمام صفات پہ حاوی ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا، کہ میں ، اس کے پاﺅں بن جاتا ہوں، ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں، اللہ مزید فرماتا ہے، بندہ میری طرف دس قدم بڑھاتا ہے، تو میں بھاگ کر اُس کی جانب بڑھتا ہوں،
راقم کا خیال ہے، چونکہ ابلیس انسان کے خون میں گردش کرتا رہتا ہے، لہٰذا نیکی کا کام کرنے والے ہر انسان کو استغفار مُسلسل کرنا چاہئے، اگر ہمارے نبی آخرالزماں، روزانہ ستر بار استغفر اللہ پڑھتے تھے، ہمیں تو رات دن تو بہ کرنی چاہئے، مبادا، وہ عبادت و نیکی کے زعم میں ایک ” ذرہ تکبیر“ نہ شامل کر دے، مختصر یہ کہ جس شخص نے خود متعدد کتابیں لکھی ہوں، اور جس پر کتابیں لکھنے کی لگن ہُو، حضور کا فرمان ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم میں بیمار تھا، تونے میری عیادت نہیں کی، بندہ عرض کریگا تو رَب العالمین ہے میں تیری کیسے عیادت کرتا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، فلاں شخص بیمار تھا، تو اُس کی عیادت کرتا، تو مجھے وہاں پاتا، مگر ڈاکٹر آصف تو رہتے ہیں بیماروں کے ساتھ ، بعض اُوقات خود بخار میں پھنک رہے ہوتے ہیں، اور مریض کی نبض پہ ہاتھ ہوتا ہے، حدیث مبارکہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی کی عیادت کو جاتا ہے تو وہ جنت کے باغ میں رہتا ہے،
مگر ڈاکٹر آصف محمود تو گردن تک سیلابی پانی میں ڈوبا، بیماروں کا نہ صرف مفت علاج بلکہ انہیں مفت دوائیاں بھی دے رہا ہوتا ہے، حدیث شریف میں لکھا ہے ، کہ رحمت العالمین رمضان میں اتنے سخی اور دریا دل ہو جاتے تھے، کہ تیز ترین آندھی بھی ان کی سخاوت کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔
قارئین محترم، ہم بھی تو اُسی محبوب خدا کے غلام ہیں، ڈاکٹر آصف میری بیٹی مروہ خان کی حسبِ استطاعت ، کی خدام ختم نبوت ، فلاحی تنظیم کی مدد کر رہے ہوتے ہیں، اور کبھی ڈاکٹر آصف مروہ خان کی تنظیم جو حضور کے نام پر بنائی ہے، اُسے دُعاﺅں اور تعاون سے خود کفیل بنانے کے گرو اور دعائیں دے رہے ہوتے ہیں۔ میں اپنی جھولی ایدھی صاحب کی طرح چوکوں، چوراہوں، سڑکوں اور بازاروں میں آپ کے آگے پھیلانے کیلئے تیار ہوں، خدا کی خاطر خدا کو قرض دو، خدا تو خود کہتا ہے کہ مجھے قرض دو گے ، تو میں ساتھ سو گنا سے بھی زیادہ کر کے دُونگا، یقین نہ آئے تو کر کے دیکھ لیں، حضور فرماتے ہیں کہ میری اُمت میں کچھ ایسے لوگ ہیں، کہ اگر وہ تم سے ایک پیسہ مانگیں تو تم انکو نہ دو، مگر وہ اللہ تعالیٰ سے جنت مانگیں تو اللہ انکو جنت دیدے، اور اللہ کی قسم کھا بیٹھیں تو وہ قسم پوری کر دیتا ہے، حدیث مبارکہ یہ بھی ہے کہ نیکی کا کام فوراً کر دینا چاہئے اور اُس میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں کرنی چاہئے، ایک ایسا شخص جس نے محکمے کو لکھ کر دیا ہو، کہ بیشک میری ترقی نہ کی جائے مگر مجھے لاہور سے تبدیل نہ کیا جائے، کیونکہ میں نے غریبوں کے لیے، ایک ایک پیسہ اکٹھا کر کے کسٹمز کیئر ہسپتال بنایا ہے، جہاں غریبوں کا دوائی سمیت مفت علاج کیا جاتا ہے، حضور نے فرمایا کہ جو مسلمان کسی بیمار کی عیادت کیلئے جاتا ہے، تو 60 ہزار فرشتے ، اُس کے ساتھ چلتے ہیں، اور جب وہ بیمار کیلئے دُعا کرتا ہے تو وہ آمین کہتے ہیں، ہزاروں فرشتوں کیساتھ رہنے والے ، اس شخص نے ” پرنم“ آنکھوں سے مجھے بتایا تھا کہ مجھے خود سمجھ نہیں آتی، مثلاً شام کے مصیبت زدگان کیلئے جو مہاجرین مدینہ کی طرح لٹتے، پٹتے اور ڈوپتے ہوئے ، جب ترکی پہنچے، تو میرا دل بہت رنجیدہ و آبدیدہ ہوا، میں نے جُوں ہی اُن کی مدد کا ارادہ کیا، تو دیکھتے ہی دیکھتے ٹرکوں کے ٹرک بھرنا شروع ہوگئے، اور ہمارے یہ قافلے استنبول پہنچنا شروع ہوگئے، میں یہ سنکر بڑا حیران ہوا، کہ اب تک تو ہمارے جرائم کے بین الاقوامی گینگ دنیا میں مشہور تھے۔ الحمد للہ ، اب ڈاکٹر آصف ، عزت مآب نبی حضرت سلمان ؓ کے دربار والا آصف بنکر پاکستان کا نام روش کر رہا ہے۔ آخر میں گزارش ہے کہ خواہ آپ سو روپے دیں ، یا لاکھ اللہ کی خاطر آپ ڈاکٹر آصف سے 0333-4292691 پر رابطہ کریں۔


ای پیپر