عزیر بلوچ نے میرے ساتھ ہی چھلانگ لگا دی
08 جولائی 2020 (22:46) 2020-07-08

ان دنوں کراچی میں دہشت گردی اور لسانی فسادات کے حوالے سے تین جے آئی ٹی رپورٹوں کے بارے میں زبردست مباحثہ اور شدید تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے… صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور کراچی میں 2018ء کے چنائو میںمنتخب ہونے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جو اس وقت بحری امور کے وفاقی وزیر ہیں کے درمیان تین مخفی رپورٹوں خاص طور پر لیاری کے سرکردہ دہشت گرد عزیر بلوچ کے حوالے سے بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ کون سی رپورٹ مستند اور اصل حقائق پر مبنی ہے… وہ جسے پیپلز پارٹی کی حکومت منظرعام پر لائی ہے یا جسے علی زیدی ایوان کی تقریروں اور پریس کانفرنسوں میں لہرا لہرا کردکھاتے ہیں… سید علی زیدی نے برملا الزام عائد کیا تھا لیاری کے مشہور زمانہ دہشت گرد اور علاقے میں اس کی دہشت گردی اور کاروبار کی وجہ سے بااثر ترین شخصیت عزیر بلوچ درحقیقت پی پی پی کا پروردہ ہے اور اسے مسلسل زرداری صاحب کی سرپرستی حاصل رہی ہے… ان کے کہنے کے مطابق اس تعلق یا باہمی جوڑ کاذکر عزیر بلوچ کے بارے میں جے آئی ٹی میں موجود جو ایک مستند دستاویز کا درجہ رکھتی ہے تاہم ان کے مطابق پی پی پی حکومت نے اس میں ردوبدل کیا ہے… پیپلز پارٹی والے اس الزام کی کھلے الفاظ میں تردید کرتے ہیں ان کادعویٰ ہے ہمارے کسی لیڈر کے عزیر بلوچ کے ساتھ براہ راست تعلقات رہے ہیں نہ زرداری صاحب سمیت عزیر بلوچ لیاری کے گینگ وار لیڈر کی حیثیت سے 198 افراد کے قاتل ہونے کا اقرار کیا ہے یہ سب کچھ لیاری کے اندر اس کے اور اس کے مقتول باپ رحمن ڈکیت کی مقابلے کی دشمن دہشت گردی تنظیموں کے ساتھ رقابت اور عرصہ دراز سے چلی آنے والی خونریز لڑائیوں کا نتیجہ ہے… جواب میں علی زیدی صاحب اپنے مؤقف کی عکاس جے آئی ٹی جو ان کے نزدیک مستند ہے سامنے لے آئے… جواب الجواب کے طور پر پیپلز پارٹی اپنے دعوے کے مطابق اصلی اور سرکاری جے آئی ٹی سامنے لے آئی ہے جس میں اس کی قیادت کے کسی فرد کاعزیر بلوچ یا اس کی دہشت گرد تنظیم پیپلز امن کمیٹی کے ساتھ تعلق یا واسطہ نہیں بتایا گیا… اس کے ساتھ سندھ کی حکمران جماعت2012ء کے سانحہ بلدیہ کراچی اور نثار مورائی کے بارے میں اب تک مخفی چلی آ رہی جے آئی ٹی رپورٹوں کو بھی عوام کے سامنے پیش کردیا ہے… کون اپنے دعاوی کے بارے میں کتنا درست اور کون کتنا غلط ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں… مباحثہ اگرچہ تلخ سے تلخ تر ہو گیا ہے طرفین کی جانب سے پوائنٹ سکورنگ کا سیاسی کھیل جاری ہے… جلد دم توڑ دے گا یا زیادہ طول کھینچے گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا… تاہم اس لفظی محارب اور جدال نے کراچی میں ہونے والی سالوں کو محیط دہشت گردی کے بارے میں اہل وطن کو کئی حقائق سے باخبر کردیا ہے… کئی کرداروں کے چہروں سے مثلاً ذوالفقار مرزا پردہ اٹھا ہے… جس نے ایم کیو ایم کے علیحدہ ہو جانے والے گروپ ایم کیو ایم حقیقی کے سرغنہ آفاق احمد کو اسلحہ گفٹ کیا… دو بار پچیس پچیس کروڑ بھی دیا ہے یوں شہر میں اپنی پسند کے دہشت گردوں کو پروان چڑھانے اور طاقتور بنانے میں مدد فراہم کی… یہ صاحب پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت میں وزیر داخلہ تھے تو منشیات سمگل کرتے تھے… ان کی اہلیہ محترمہ قومی اسمبلی کی سپیکر ہوا کرتی تھیں… آج کل تحریک انصاف سے جا ملی ہیں اس کی اہم رکن قومی اسمبلی ہیں…

تاہم تینوں سامنے آنے والی رپورٹوں میں سے جو بلدیہ کراچی کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے یا لگائے جانے کے ظالمانہ ترین واقعہ سے ہے جس میں 260 سے زائد کام کرنے والے جل کر بھسم ہو گئے تھے… اس اندوہناک اور حد درجے انسانیت دشمن واقعے کے بارے میں ایم کیو ایم کا دعویٰ تھا فیکٹری کے اندر ناقص حفاظتی انتظامات کے باعث بجلی کی تاروں سے اچانک آگ بھڑک جانے کی بنا پر پیش آیا… جبکہ باخبر مبصرین کی تب بھی یہ رائے تھی اور اب متعلقہ جے آئی ٹی نے تصدیق کی ہے کہ الطاف حسین کی ہدایت پر اس کے زورآور کارندے فیکٹری کے مالکوں سے بیس کروڑ روپے کا بھتہ وصول کرنے گئے تھے… انہوں نے اتنی بڑی رقم پیش کرنے سے معذوری کا اظہار کیا ردعمل میں ایم کیو ایم کے دو منصوبہ کاروں عبدالرحمن بھولا اور حماد صدیقی کی خفیہ ہدایات کے تحت چلتی فیکٹری کو اچانک نذرآتش کر دیا گیا… مزدوروں اور کارکنوں کو جانیں بچانے کے لئے باہر نکل جانے کا موقع تک نہ ملا… پونے تین سو بے گناہ مرد اور عورتوں کی زندگیاں نذرآتش ہو گئیں، قیامت صغریٰ برپا ہوئی… ایم کیو ایم کی جانب سے بار بار انکار کے باوجود جے آئی ٹی رپورٹ منظرعام پر آ جانے کی وجہ سے شہر قائد کی اس سے بڑی دہشت گرد تنظیم کے اس جرم عظیم میں براہ راست ملوث ہونے سے

انکار نہیں کیا جاسکتا… اسی دوران یہ حقیقت بھی طشت ازبام ہوئی ہے کہ 2010ء میں لندن کے اندر ایم کیو ایم کے سابق قائدین میں سے ایک ڈاکٹر عمران فاروق کے علیحدہ راستہ اختیار کر لینے پر اسے شہر کے وسط میں جو دن دیہاڑے قتل کیا گیا تھا اس کے پس پردہ بھی الطاف حسین کا نہ قابو آنے والے جذبہ انتقام کام دکھا رہا تھا… لندن اور کراچی دونوں مقامات پر مقدمے چلے کسی نتیجہ تک نہ پہنچے… ایم کیو ایم والے اپنے قائد یا اس کے ساتھیوں میں کسی کے ملوث ہونے سے صاف انکار کرتے رہے ہیں… لیکن اب جو الطاف حسین کی ذات کسی کام کی نہیں رہی… لندن والوں کی نہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی (جنہوں نے اسے اور اس کی تنظیم کو پروان چڑھایا تھا) تو مقدمے کے فیصلے کا اعلان کردیاگیا ہے… اسی طرح 2012ء کے بلدیہ فیکٹری کے سانحہ عظیم کے پس پردہ اصل چہروں کو اس وقت تک بے نقاب نہیں ہونے دیا گیا جب تک ان دہشت گردوں کی ضرورت باقی رہی… الطاف حسین کو لندن والوں نے پناہ دے رکھی تھی شہریت بھی عطا کی تھی کیونکہ وہ اٹھتے بیٹھتے خفیہ طور پر ان کے کام آنے کے وعدے وعید کرتاتھا… کامل وفاداری کا اظہار کرتا تھا… اسی طرح پاکستانی ایجنسیوں اور اسٹیبلشمنٹ کا BLUE EYED BOY بھی تھا… دونوں کا مفاد اس کے جرائم پر پردہ ڈالے رکھنے میں تھا… اب جو اس کا ڈنگ باقی نہیں رہا… کراچی میں اس کی سیاسی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے… عوامی مقبولیت کا غبارہ پھٹ گیا ہے اس کے پاکستان دشمن بیانات نے اس کے مکروہ عزائم پر پردہ باقی نہیں رہنے دیا تو سانحہ بلدیہ فیکٹری کی مخفی جے آئی ٹی رپورٹ سے بھی ملک کے عوام کو باخبر کردیا گیا ہے… ان جرائم کی پاداش میں کس کو کتنی سزا ملتی ہے اس کے بارے میں سردست کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ہزاروں مصلحتیں آڑے آ سکتی ہیں… یہ ذوالفقار علی بھٹو اور نوازشریف کے خلاف مقدمے تھوڑی ہیں چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ ترین سیاستدانوں کو ’’کیفرکردار‘‘ تک پہنچانے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہ کی جائے یوں ساری دنیا میں پاکستانی انصاف کا بول بالا ہوا…

میں صحافی ہونے کے ناطے ایم کیو ایم کے زمانہ عروج میں جب جب کراچی گیا دوسرے سیاسی مراکز کے علاوہ اس تنظیم کے صدر دفتر نائن زیرو جانے کا ضرور موقع ملا… کیونکہ اس شہر عظیم کے انتخابی و ہنگامی سیاست کے سوتے یہیں سے پھوٹتے تھے اس لئے الطاف حسین کی نمائندگی کرنے والے اس شہر کے مقامی قائدین سے بالمشافہ ملاقاتیں اور تبادلہ خیالات نائن زیرو کے دفاتر میں ہی ممکن تھا… 1995ء میں لندن جانا ہوا تو الطاف حسین سے تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع بھی ملا جس کا خلاصہ روزنامہ ’جنگ‘ میں میرے کالم کے اندر اور روزنامہ جسارت کے سنڈے ایڈیشن میں مکمل متن کے ساتھ شائع ہوا… لیکن لیاری کے گنجان آبادی کے بلوچ نسل کے لوگوں کے علاقے اور وہاں کے حالات سے براہ راست واقفیت حاصل کرنے کے مواقع کم کم ملے… لیاری کو پرانا اور تاریخی لحاظ سے اصلی کراچی کہا جاتا ہے… یہاں پر آباد بلوچ نسل کے لوگ شہر کے قدیمی باشندے ہیں… نسلوں سے ان کے تعلقات گوادر کے لوگوں اور ایرانی بلوچوں کے ساتھ چلے آ رہے ہیں… یہ ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے… اس کے مشہور زمانہ GANG WARRIOR سردار عبدالرحمن بلوچ جسے رحمن کے نام سے پکارا جاتا تھا کادبدبہ دیکھا نہ جاتا تھا… وہ اپنے حریف دہشت گردوں کے ساتھ ہر آن آمادہ جنگ رہتا تھا… ایران کے ساتھ بھی اس کے گہرے تعلقات تھے اور ٹرانسپورٹ کا بڑا بزنس تھا… روزانہ کے حساب سے کئی مسافر بسیں اور مال بردار ٹرک لیاری سے گوادر آتے اور جاتے ہیں… ایک لڑائی میں اس کے قتل ہو جانے کے بعد بیٹے عزیر بلوچ نے باپ کی جگہ سنبھال لی… دہشت گردی اور سمگلنگ کو فروغ دینے میں کسی سے پیچھے نہ رہا… ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات استوار ہوگئے اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں میں اگر کھیلتا نہیں تھا تو اس کیساتھ مغائرت بھی نہ تھی… ایم کیو ایم کے مدمقابل تنظیم پیپلز امن کمیٹی اسی نے قائم کی تھی… اس نیم طلسماتی شخصیت سے ملاقات اور تبادلہ خیال کرنے کی میری عرصے سے خواہش تھی… 2012ء کے آغاز پر ہم نے ’نئی بات‘ کے کراچی ایڈیشن کا باقاعدہ اجراء کیا تو اس ضمن میں، میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد تین مقامات پر جانے کا فیصلہ کیا… ایک نائن زیرو… دوسرا ملیر اور وہاں عزیر بلوچ کے ساتھ ملاقات اور تیسرا کراچی پریس کلب… ایک روز صبح دس بجے ایم کیو ایم کے دفتر نائن زیرو میں وہاں مقیم قائدین سے ملاقات ہوئی ملکی حالات اور ایم کیو ایم کا کردار زیربحث آیا… اسی دن دوپہر کے وقت عزیر بلوچ صاحب نے لیاری کے اندر اپنے محل نما خوبصورت مکان پر دوپہر کے کھانے کی دعوت دے رکھی تھی… میں اپنے ایک سینئر رپورٹر اور کیمرہ مین کے ساتھ وہاں پہنچا… پہلے مجھے لیاری کی قدیم اور تنگ و تاریک گلیوں کی سیر کرائی گئی یہ بھی مچھیروں کی بستی ہوتی تھی… اس کے بعد عزیر بلوچ اور ان کے ایک ساتھی حسن حبیب کے ساتھ کھانے کی نشست تھی… جس کا اہتمام سردیوں کی خوشگوار دوپہر کے وقت محل نما مکان کے خوبصورت لان میںکیا گیا… اس لان تک پہنچنے کے لئے محل میں واقع ایک چھوٹے سے سوئمنگ پول کے جو خوبصورت ماربل سے بنا ہوا اور تقریباً چھ فٹ گہرا تھا کناروں سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا… ہم نے لان میں بیٹھ کر کھانا کھایا… عزیر بلوچ اور اس کی تنظیم کی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کی… سوال جواب کی طویل نشست ہوئی… کھانے سے فراغت کے بعد میں اٹھا اور باہر کی جانب چل نکلا… بے دھیانی میں میرا قدم پول کی جانب اٹھ کھڑا ہوا اور میں دھڑام سے نیچے جا گرا… یہ منظر دیکھتے ہی عزیر بلوچ نے بھی اپنے مہمان کے بچائو کی خاطر چھلانگ لگا دی… ہمارا فوٹوگرافر بھی پیچھے نہ رہا… انہیں خدشہ تھا میری کسی نہ کسی ہڈی پر شدید ضرب آئی ہو گی اور میں اٹھنے کے قابل نہیں رہا ہوں گا… عزیر بلوچ کے انگوٹھے پر چوٹ لگ گئی تھی اور خون بہہ رہا تھا… مجھے اٹھانے کی کوشش کی… میں نے کہا آپ پیچھے رہیں میں خود اٹھ کر کھڑا ہونے کی کوشش کروں گا… تھوڑی سی ہمت جمع کر کے میں اپنے پائوں پر کھڑا ہو گیا… یہ دیکھ کر سب حیران ہوئے… کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا… مجھے محل کے ڈرائنگ روم میں لے جایا گیا اور مشورہ دیا گیا کہ باتھ روم میں جا کر اپنے جسم کامعائنہ کروں… میں نے اندر جا کر جائزہ لیا تو دائیں ٹانگ والے اوپر کے حصے پر معمولی سی ضرب آئی تھی… ہلکا سا درد ہو رہا تھا… اسی اثناء میں ڈاکٹر کو بلا لیا گیا اس نے بھی میرے جسم کا بغور جائزہ لیا اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ دے دیا… مجھے پیشکش کی گئی کہ خصوصی ایمبولینس کا اہتمام کر کے ہوٹل بھجوا دیتے ہیں… میں نے ضرورت محسوس نہ کی نارمل حالت میں واپس چلا گیا… ساتھیوں کو علم ہو چکا تھا… سب سخت تشویش میں مبتلا تھے… میں نے دو گھنٹے آرام کیا اور بعداز عصر کراچی پریس کلب کی تقریب میں تقریر کرنے وہاں چلا گیا… یوں ملیر کے اس دہشت گرد اور سمگلر سے جس کا ان دنوں ملک کی سیاسی فضائوں میں بڑا چرچا ہے یادگار ملاقات رہی…


ای پیپر