اگست اور ایک اور آل پارٹیز کانفرنس
08 جولائی 2020 (22:45) 2020-07-08

جولائی 2019 میں مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ اگر حکومت اگست 2019 میں مستعفی نہ ہوئی تو اکتوبر 2019 میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ مارچ ہوا بھی مگر سنگی بیچ راہ میں چھوڑ گئے اور قافلہ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی بکھر گیا۔ اب جولائی 2020 میں ایک مرتبہ پھر آل پارٹیز کانفرنس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ مریم اورنگزیب کے بقول اس مرتبہ اے پی سی کی میزبانی شہباز شریف کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن کہتے ہی کہ مائنس ون نہیں مائنس آل چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو بھی جون میں کورونا اور این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر اے پی سی بلانے کی تجویز دے چکے ہیں۔بجٹ سے قبل اور کورونا کے باعث اپوزیشن کے پاس اے پی سی کا کوئی واضح ایجنڈا نہیں تھا مگرپیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی غلط ٹائمنگ نے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اپوزیشن جو پہلے سے کسی ایجنڈے کی منتظر تھی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 33 فیصد اضافے کو تاریخ کی سب سے بڑی چوری قرار دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کرایوں، اشیاء خورونوش اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافے کا باعث بنا ہے۔ افراط زر کا معاملہ پی ٹی آئی کی حکومت کو پہلے دن سے ہی درپیش ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے حکومتی فیصلے سے آئل کمپنیوں کو 300ارب روپے کا فائدہ پہنچا ہے۔اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک وزیر اعظم نے جس جس چیز پر نوٹس لیا ہے یا جن مافیاز کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے ان اشیا کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوا ہے اور مافیا مزید مضبوط بھی ۔ گندم پر نوٹس لیا تو گندم کی قیمت 1300روپے فی من سے 2ہزار روپے فی من تک پہنچ گئی ۔حکومت نے رٹ قائم کرنے کی کوشش کی تو آٹا غائب ہو گیا نتیجہ یہ ہوا کہ

گندم کی سرکاری قیمت بھی بڑھانی پڑی۔ وزیراعظم کو شوگر مافیا نظر آیا تو چینی کی قیمت بھی 90 فیصد تک بڑھ گئی ۔ چینی بحران کی تحقیق کرائی گئی تو چینی غائب ہو گئی اور نتیجہ مہنگی چینی کی صورت میں سامنے آیا۔اسی طرح آئل کمپنیوں کی یونین نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔ موجود ہ صورتحال یہ ہے کہ بال اپوزیشن کے ہاتھ میں ہے اگر درست شاٹ کھیلا گیا تو مائنس ون کے ساتھ ساتھ مائنس تھری کا ایجنڈا بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ بلاول بھٹو اے پی سی کے لئے شہباز شریف، مولانا فضل الرحمٰن ، سردار اختر مینگل ، آفتاب شیر پاؤ اور میر حاصل بزنجو سے ٹیلی فون پر رابطہ کر چکے ہیں ۔ بجٹ تو پاس ہو گیا اپوزیشن کچھ نہیں کر سکی مگر اب آل پارٹیز کانفرنس اور اس کے بعد کی حکمت عملی اہم ہے ۔ 2019 کے آزادی مارچ کے مقابلے میں حالات قدرے مختلف ہیں ۔ 2019کا اگست کچھ اس لئے بھی نتیجہ خیز نہ ثابت ہو ا کہ اپوزیشن جماعتیں بظاہر ایک مگر اندر سے الگ تھیں ۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے آزادی مارچ میں شرکت ضرور کی مگر محض حاضری کے لئے ۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اس وقت حکومت کو مزید وقت دینے کے حق میں تھیں ۔اس مرتبہ صورتحال مختلف ہے اپوزیشن کو سیاست چمکانے کے لئے سرگرمی چاہیے ۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کا ایجنڈا لے کر اگر اپوزیشن احتجاج کے لئے نکلتی ہے تو عوام میں خوب پذیرائی ملنے کا امکان ہے ۔ ن لیگ پر مفاہمت کی سیاست ا ور نیب کیسز پر ڈیل کے الزمات کا سامنا تھا ۔ پیپلزپارٹی پر بھی اپنے کیسز ختم کروانے کے لئے حکومت کو بلیک میل کرنے کا الزام تھا ۔ مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی مارچ کی ناکام کا غم ہے اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی موجود صورتحال میں حکومت سے تنگ ہیں ۔ ان حالات میں سیاست کو زندہ رکھنے کے لئے اے پی سی کال اور پھر تحریک کا سلسلہ حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ مائنس تھری فارمولا تو فی الحال کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ کوئی جماعت کورونا اور دیگر قدرتی آفات کے دور میں اقتدار سنبھالنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔مائنس ون فارمولا البتہ اس وقت اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی ہی پہلی ترجیح ہے ۔مائنس ون کے تحت بہترین آپشن پر غور جاری ہے مگر پی ٹی آئی کے اندر سے ہی اپوزیشن کے اعتراض کے بغیر اور اسٹیبلیشمنٹ کے لئے بھی قابل قبول نام پر اتفاق اب تک نہیں ہو سکا۔کورونا کی وبا اور معاشی صورتحال اس وقت حالات کو وزیر اعظم کے حق میں لے جا رہے ہیں ۔کوئی ایسے حالات میںوزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنے کو تیار نہیں ہے ۔عمران خان کے پاس موقع ابھی بھی ہے کہ وہ معاشی چیلنج سے نمٹنے کے لئے اپوزیش کے ساتھ مل کر حکمت عملی تہہ کریں ۔ دنیا بھر کے ممالک موجود ہ صورتحال میں اپنے ملک میں سیاسی استحکام پر زور دے رہے ہیں مگر یہاں کورونا کی وجہ سے معاشی عدم استحکام کا سامنا تو ہے ہی لیکن اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی جماعت کے ارکان بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ بجٹ کے دوران ہی وفاقی وزراء کی بیان بازی نے یہ تاثر دیا ہے کہ حکومتی جماعت کے رہنما آپسی لڑائیوں اور دھڑے بازی کی سیاست میں مصروف ہیں ۔اپویشن تو اپنا واویلا کرتی ہی ہے مگر وطن عزیز کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یوں لگتا ہے کہ ممبر کی اپنی جماعت ، اپنا نظریہ اور اپنا ایجنڈا ہے ۔ پی ٹی آئی کی قیادت سے گزارش ہے کہ آپکے مطابق جمہوریت کا یہ حسن پارٹی کی حد تک تو جچتا ہے مگر حکومت چلانے کے لئے اب خدارا ایک پالیسی بنا لیں اگر آپکی اپنی کابینہ ہی ایک پیج پر نہیں ہو گی تو کیا خا ک صوبوں اور اداروں کو ایک پیج پر لائیں گے۔


ای پیپر