سترسالہ گند۔۔ذمہ دارکون۔۔؟
08 جولائی 2020 (22:44) 2020-07-08

اس بات اورحقیقت سے ہم سفیدمسلمانوں کوکیا۔۔؟کسی کالے کافرکوبھی انکارنہیں کہ یہ ملک ،،پہلے ،، والوںنے لوٹامگرسوال پر یہ ہے کہ یہ پہلے والے آخرتھے کون ۔؟یاہے کون۔؟ آج ہرمسئلے،گناہ اوربرائی کوپہلے والوں کے کھاتے میں ڈالنے والے ذرہ اپنے آس پاس اور اردگرد بھی نظرڈالیں کہ کہیں وہی ،،سابقون الاولون،،آج سابقون الاخرین کا درجہ پاکرکہیںان کے ساتھ تونہیں چمٹے ہوئے۔۔؟وزیراعظم عمران خان سے ایمانداری کے سرٹیفکیٹ لے کرآج ریاست مدینہ کے انتظام وانصرام میں حفیظ شیخ کی طرح جو ایمانداری،دیانت داری اوروفاداری کے ساتھ امیرالمومنین کا ہاتھ بٹا کر ’’مال غنیمت وعشر‘‘کی چوکیداری کے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں کہیں یہی وہ ایماندارتونہیں جن کونادان کپتان ’’سابقون‘‘ کا نام دے کر22سال تک ہرجگہ لتاڑتے رہے۔کپتان کوتوبھولنے کی عادت ہے اس بے چارے کوتویہ بھی یادنہیں رہتاکہ وہ اس ملک کے وزیراعظم ہیں یا نہیں ۔لیکن ہمیں جہاں تک یادپڑتاہے ۔آج کپتان کی کابینہ میں شامل ہوکر حفیظ شیخ،فوادچوہدری،شیخ رشید،اعظم سواتی،فردوس عاشق اعوان،غلام سرورخان اورعمرایوب خان جیسے یہ جوبڑے بڑے ایمانداربنے پھر رہے ہیں ان میں سے ایک دونہیں اکثرکا،،سابقون،،کے ساتھ واسطہ یابلاواسطہ کوئی نہ کوئی تعلق اوررشتہ ضروررہاہے۔حفیظ شیخ اورعمرایوب کی طرح ان میں سے اکثرتوجس طرح آج کپتان کے نورنظرہیں اسی طرح یہ کسی دوراورزمانے میںسابقین کے بھی دائیں اوربائیں بازورہے ہیں۔ کہنے والے تویہاں تک کہتے ہیں کہ ،،سابقون،،میں سابق وزیراعظم نوازشریف اورآصف علی زرداری کی طرح جن کو،،وڈے چوراورڈاکوئوں،، کااعزازملایہ اعلیٰ اعزازبھی ان بے چاروں کوانہی ایمانداروں کی ایمانداری کی وجہ سے ملاورنہ نوازشریف اورزرداری جیسے نکموں اوربزدلوں میں تو اتنی ہمت اورطاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے بل بوتے پردنیاکے اتنے بڑے اعزاز کواپنے نام کرتے۔مطلب سابقہ گناہوں،جرائم اورلوٹ مار میں جتناکرداراورہاتھ سابق وزیراعظم نوازشریف اورآصف علی زرداری کاہے ان سے زیادہ عمل دخل ان سیاسی خانہ بدوشوں کابھی ہے جوآج تحریک انصاف کی سیاسی چھتری تلے حکومتی سیرگاہ میں پڑائوڈالے ہوئے ہیں۔وزیراعظم عمران خان جن سابقین کی موروثی سیاست کوزندہ دفن کرنے آئے تھے انہوں نے انہی سابقین کوصادقین بناکرایک بارپھرقوم پرمسلط کردیا۔جس ٹیم کے ساتھ کھیل کرمیاں نوازشریف اورآصف علی زرداری لوٹ مار،کرپشن اورکمیشن میں بدنامی

کاداغ اپنے ماتھے پرسجانے سے بچ نہیں سکے آج عمران خان اس ٹیم کے ساتھ کھیل کرلوٹ مار،کرپشن اورکمیشن جیسے گناہوں سے اپنی حکومت کوکیسے بچاپائیں گے۔۔؟کپتان سیاست کوبھی کرکٹ کاکوئی کھیل سمجھ رہے ہیں مگرانتہائی معذرت کے ساتھ سیاست اورکرکٹ میں زمین وآسمان کافرق ہے۔کرکٹ کے کھیل میں شائدکہ مخالف ٹیم کے کسی کھلاڑی کوکھیلانے سے اس کھلاڑی کی میچ فکسنگ اوربال ٹمپرنگ کے گناہ دھل جاتے ہوں لیکن سیاست کے کھیل میں چوراورلٹیراہمیشہ چور ولٹیرا ہی رہتاہے۔اس ملک کی تباہی اور بربادی کے ذمہ داراگرسابقین ہی ہیں توپھرآپ شہدکی مکھیوں کی طرح موجودہ حکومت سے چمٹنے اور ہر گھرودرکے چمچے بننے والے ان وزیروں اورمشیروں کوسابقین میں سے ہرگز منفی نہیں کرسکتے۔ملک میں پھیلائے گئے سترسالہ گندکے جتنے ذمہ دارمیاں نوازشریف اورآصف علی زرداری ہیں اتنے ہی عمرانی حکومت کاحصہ بننے والے یہ لاڈلے شہزادے بھی ہیں ۔صرف ایک نوازشریف اورزرداری یان لیگ وپیپلزپارٹی کی طرف انگلیاں اٹھاکر سترسالہ گنداورسابقین کاذکرکرنے والوں کوزیادہ نہیں توتھوڑی سی شرم کرنی چاہئیے۔الحق للقریب ثم للبعید۔۔مجرم اورملزم بغل کے نیچے ہوں توپھردوراشارے کرنے کاتک نہیں بنتا۔ہم یہ نہیں کہتے کہ نوازشریف یازرداری کوئی چوراورڈاکونہیں۔ یا ان دونوں نے سترسالوں میں کوئی گند نہیں پھیلایا۔ نوازشریف اورزرداری کے بارے میں توجس طرح تم کہتے ہواسی طرح ہم مان لیتے ہیں۔واللہ ہمیں نہ پہلے کسی چور اور ڈاکوسے کوئی ہمدردی تھی نہ اب ہے۔ نواز اور زرداری اگر چور ہیں تو انہیں چوکوں اور چوراہوں پر گھسیٹ کر ضرور نشان عبرت بنایاجائے لیکن نوازشریف اورزرداری سے پہلے جو چور اور ڈاکو فرشتے بن کراب آپ کے بغل میں چھپے ہوئے ہیں پہلے ذرہ ان کی خبرلیکران کاکام تو تمام کردیں تاکہ دنیاکوپتہ چلے کہ واقعی آپ ملک لوٹنے اورتباہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مخلص ہیں ۔صرف ایک علی باباکوپکڑکرچالیس چوروں کوچھوڑنایہ کوئی انصاف اوراحتساب نہیں۔بلی کے گلے میں چربی باندھ کرتحریک انصاف کی موجودہ حکومت جس طرح کرپشن وکمیشن سے پاک پاکستان اورریاست مدینہ بنانے چلی ہے ۔اس طرح کوئی ریاست اورنیاپاکستان تودورکوئی ایک پرزہ بھی نیانہیں بنے گا۔ماضی میں جن جن چوروں اورلٹیروں نے نوازشریف،آصف علی زرداری،ق لیگ اوردیگرکے ساتھ مل کرملک کودونوں ہاتھوں سے لوٹاآج وہی چور اور ڈاکو فرشتے بن کرتحریک انصاف اوروزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئے پاکستان تعمیرکررہے ہیں۔جن لوگوں کی ساری زندگیاں کرپشن وکمیشن کے سائے تلے گزریں۔ جن لوگوں نے اس ملک کوتباہ کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔جولوگ اس ملک کوتباہ کرنے کے لئے کبھی مسلم لیگ،کبھی پیپلزپارٹی،کبھی ق لیگ اورکبھی آمروں کے کندھوں پرسوارہونے کوثواب سمجھتے رہے ہیں آج وہ لوگ بھی،، سابق حکمرانوں ،،کومجرم اورگناہ گارکہتے ہوئے نہیں تھکتے۔وزیراعظم قوم کاباپ ہو یانہ لیکن وزیروں اورمشیروں کاباپ تو ضرور ہوتا ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف اگرچورتھے توپھران کے یہ وزیرمشیربیٹے چوری اورحرام کاری میں برابرکے شریک کیسے نہیں۔سچ تویہ ہے کہ اس گلشن کواجاڑنے میں جتناہاتھ بڑے چوروں اورڈاکوئوں کاہے اتناہی خودکوفرشتے سمجھنے والے ان موٹے چوروں اورڈاکوئوں کا بھی ہے جوآج ایمانداری کے سرٹیفکیٹ لیکرتحریک انصاف کی حکومت میں وزارتوں کے مزے لوٹ اورعیاشیاں اڑارہے ہیں۔ایماندارکپتان کے آج جووزیر اورمشیربنے پھررہے ہیں یہی لوگ پچھلے ادوارمیں نوازشریف اورآصف علی زرداری کے بھی وزیر اور مشیر ہوا کرتے تھے۔ اقتدارکی مستی میں مست ہوکرآج یہ جوعمران خان اورپی ٹی آئی کے گن گارہے ہیں کسی دوراورزمانے میں یہی لوگ نوازشریف اورآصف علی زرداری کے فضائل بیان کرتے ہوئے بھی نہیں تھکتے تھے ۔جولوگ تین باراس ملک کے وزیراعظم رہنے والے شریف کے نہ ہوسکے وہ جذبات کے سمندرمیں بہنے والے کپتان کے کیا ہونگے۔۔؟موسمی پرندوں اورپیٹ کی پوجاکرنے والوں کوجہاں حالات سازگاراورموسم اچھا لگتا ہے یہ پھروہی پڑائوڈالتے ہیں ۔یہ ان کی عادت بھی ہے اورفطرت بھی۔۔اپنی اسی مجبوری کے ہاتھوں یہ برسوں سے کبھی ن لیگ ،کبھی پی پی پی ،کبھی ق لیگ کے مہمان بن رہے ہیں اورکبھی پی ٹی آئی کے میزبان۔وزیراعظم عمران خان اورتحریک انصاف کے نادان کارکن تویہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے فضائل بیان کرنے والے یہ بٹیرے کہیں عمربھرکے لئے اب انہی کے ہوگئے ہیں لیکن ایسا بالکل بھی نہیں۔ ان بٹیروں کاکام پیٹ محض پیٹ بھرناہے اوریہ کام یہ سترسال سے انتہائی ایمانداری اوروفاداری کے ساتھ کررہے ہیں ۔یہ نوازشریف،آصف علی زرداری اوروزیراعظم عمران خان کوتودھوکہ دے سکتے ہیں۔ان سے بے ایمانی اوربیوفائی تو کرسکتے ہیں لیکن یہ اپنے پیٹ کے ساتھ کبھی دھوکہ اوربے ایمانی نہیں کرسکتے۔یہ سترسالوں میں کبھی ن،کبھی پ،کبھی ق اورکبھی ج کی کشتی میں سوارہوکر آدھے سے زیادہ ملک کھاگئے لیکن ان کے جہنم پھربھی نہیں بھرے۔سترسال سے ملک کولوٹتے ہوئے جن کے دل اورکلیجے ٹھنڈے نہیں ہوئے اب کیاخاک ہونگے۔کوئی مانے یانہ ۔۔لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس ملک اورقوم کے اصل مجرم اورگناہ گاریہی بے ضمیر،لوٹے اوربھگوڑے لوگ ہیں جن کی بھوک اوربھونک کی وجہ سے یہ ملک تباہی اوربربادی کے اس مقام تک پہنچا۔


ای پیپر