ویڈیو سکینڈل کے تشنہ پہلو
08 جولائی 2020 2020-07-08

لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو کرپشن کے الزامات میں سزا دینے والے احتساب عدالت کے سابق جج ملک ارشد کو مس کنڈکٹ ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ اس اجلاس سے قبل چیف جسٹس نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کو ارشد ملک کے خلاف مس کنڈکٹ کے الزامات کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔ جسٹس سردار نعیم نے بطور انکوائری آفیسر ارشد ملک کو قصور وار قرار دیا تھا اور رپورٹ انتظامی کمیٹی کو ارسال کر دی تھی۔ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہے کہ ارشد ملک نے ناصر بٹ وغیرہ سے ملاقاتیں کیں۔ ارشد ملک نے ان ملاقاتوں اور غیر اخلاقی ویڈیو کا اپنے بیان خلفی میں بھی اعتراف کیا ہے۔ اعلی حکام کے علم میں لائے بغیر یہ ملاقاتیں مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتی ہیں اور ججز کے ضابطہ اخلاق کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ انکوائری رپورٹ میں انھیں ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کی روشنی میں جمعے کے روز تین جولائی کو ارشد ملک کو برطرف کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ ویڈیو سکینڈل گزشتہ سال چھ جولائی کو منظر عام پر آیا تھا جب مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوز جاری کیں، جن کے مطابق، سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا دباو¿ پر سنائی گئی۔ تاہم ارشد ملک نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے سولہ جولائی کو الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت ایف آئی اے کو درخواست دی جس پر ایف آئی اے نے سائبر کرائم کی شقوں کے تحت ان کی ویڈیو بنانے کے حوالے سے مقدمہ درج کیا۔ سترہ جولائی کو ایف آئی اے نے ویڈیو فراہم کرنے میں ملوث ایک ملزم طارق محمود کو گرفتار کرلیا۔ ملزم طارق محمود کی یو ایس بی سے جج ارشد ملک کی غیر اخلاقی ویڈیو برآمد ہوئی۔ ملزم نے ایف آئی کو بتایا کہ اس نے دو ہزار تین میں جج ارشد ملک کی ملتان میں قابل اعتراض ویڈیو بنا لی تھی اور اسے بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتا تھا۔ ملزم نے ایف آئی اے کو بتایا کہ اس سال جون میں اس نے مسلم لیگ ن لاہور کے ایک مقامی رہنما میاں سلیم رضا کووہ متنازعہ ویڈیو تیرہ ملین روپے اور ایک لینڈ کروزر گاڑی کے عوض فروخت کی اور سلیم رضا نے یہ ویڈیو ناصر بٹ کو بیچ دی۔اس مقدمے کے دو ملزمان ناصر بٹ اور سلیم رضا بیرون ملک مفرور ہیں۔ پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا اور عدالت نے جمعہ 23 اگست کو اس اہم کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11 جولائی کا بیان حلفی ا±ن کے خلاف فرد جرم ہے۔ اس کیس میں جج ارشد ملک کے مس کنڈکٹ کو مان لیا گیا ہے اور انہیں اسلام آباد سے لاہور ہائی کورٹ بھجوانے کا حکم اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم بھی جاری ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو جج ارشد ملک کی خدمات فوری طور پر واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد سے یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواءتھا۔ اب لاہور ہائیکورٹ نے ارشد ملک کی قسمت کا فیصلہ تو کر دیا یے۔ لیکن اس پیش رفت سے جہاں مریم نواز کے الزامات کسی حد تک سچ ثابت ہو گئے ہیں، وہیں سیاسی رہنماو¿ں کے خلاف پولیٹیکل انجینئرنگ کے تاثر کو بھی مزید تقویت ملی ہے۔ حکومتی رویے اور ایف آئی اے کی جانبداری کے باعث اس سکینڈل کے بہت سے پہلو اب بھی تشنہ ہیں۔ اعلی عدلیہ نے بھی صرف ضابطہ اخلاق کی پاسداری نہ کرنے اور مس کنڈکٹ کی بناءپر ارشد ملک کو برطرف کر کے اپنا دامن صاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ عدلیہ نے بطور ادارہ یہ معاملہ صرف سابق جج کی برطرفی کی حد تک محدود کر کے انصاف کے تقاضے ادھورے چھوڑ دئیے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ارشد ملک کی برطرفی اور مبینہ ویڈیو کا کوئی فائدہ حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔ حکومت اور ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود اس ویڈیو کے حوالے سے تحقیقات آگے نہیں بڑھائیں۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جب چیف جسٹس نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا پریس کانفرنس میں پیش کی جانے والی ویڈیو جعلی تھی؟ اگر جج صاحب کہتے ہیں کہ یہ اصل ویڈیو نہیں تو اصل ویڈیو سامنے آنی چاہیے۔جس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ اصل ویڈیو سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دوران سماعت واضح کیا تھا کہ نواز شریف کی رہائی اور سزا کے خاتمے کے لیے ویڈیو فائدہ مند تب ہوگی جب کوئی درخواست دائر کی جائے گی۔ حکومتی رویے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کہ کیا ارشد ملک کی ویڈیو کا فرانزک ٹیسٹ کروایا گیا تو ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ویڈیو ہمارے پاس نہیں۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویڈیو سوائے ایف آئی اے کے پورے پاکستان کے پاس ہے۔ سارا پاکستان اور عدالت ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے کیا وہ ویڈیو صحیح ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے ویڈیو کا فرانزک کروانے کی یقین دھانی بھی کروائی۔ لیکن اس یقین دہانی کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی مبینہ ویڈیو کی تصدیق کا مرحلہ باقی ہے۔حکومت آنے والے دنوں میں نواز شریف کے خلاف ارشد ملک کا ساتھ دینے اور ویڈیو جعلی ثابت کرنے کے عزائم ظاہر کر رہی ہے۔ اس لئے ابھی عدالتی جنگ مزید طویل ہونے کا امکان ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ارشد ملک کی برطرفی کی خبر منظر عام پر آتے ہی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ جج برطرفی کیس پر مریم نواز سے تفتیش ہونی چاہیے، جنہوں نے الزام لگایا کہ فیصلہ لینے کے لیے کسی نے جج کو بلیک میل کیا۔ جن لوگوں نے ویڈیو دکھائی ہے انہیں فارنزک آڈٹ کے لیے اوریجنل ویڈیو دینی چاہیے۔اس صورتحال سے یہ بات واضح ہے کہ ایف آئی اے اور ہائیکورٹ کی اس انکوائری میں نامعلوم دباو¿ کے پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عدلیہ، حکومت اور ایف آئی اے میں سے کسی نے بھی اس ویڈیو کی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کی۔ یوں مبینہ ویڈیو کی حقیقت اور سابق جج ارشد ملک پر نامعلوم دباو¿ جیسے سوالوں کے جوابات ایک سال بعد بھی صیغہ راز میں ہیں۔ شاید اس بار بھی ''نامعلوم دباو¿'' کا معاملہ نامعلوم وجوہات یا کسی نامعلوم مصلحت کا شکار ہو کر پر اسرار خاموشی کی نذر ہو چکا ہے۔


ای پیپر