عمران خان کے نوٹسز پر گھبراہٹ
08 جولائی 2020 2020-07-08

کہاوت ہے کہ اعمال بہر طور الفاظ سے بہتر ہوتے ہیں۔یہ کہاوت یاد آنے کی وجہ حکام بالا کی جانب سے کسی بھی عوامی مسئلے پر دکھاوے کے لیے نوٹس لینے کی روایت ہے۔عوام کا غم و غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے حکومت وقت فوری نوٹس لے کر معاملہ رفع دفعہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔پہلے والے بھی یہی کرتے رہے اور اس دور حکومت میں بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ لیکن ایک فرق بڑا دلچسپ ہے کہ اس مرتبہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے نوٹس لیے جانے پر عوام کی اکثریت پریشان اور گھبراہٹ کا شکار ہونے لگے ہیں۔اس تحریر میں ممکن نہیں کہ دور عمران خان کے تمام نوٹسز کا ذکر کیا جائے لیکن بعض ایسے نوٹس کا ذکر ضرور کروں گا جن سے عوام حیران، پریشان اور گھبرا ضرور گئے۔

بات کر لیتے ہیں وزارت عظمی کے پائیدان پر پہنچنے سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پر اس وقت کے تکڑے اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے لیے گئے نوٹس کی۔ عمران خان نے یہ نوٹس اس وقت لیا تھا جب عوام ان کے سحر میں مبتلا تھے۔اسلام آباد کے ڈی چوک پر ان کے سیاسی کزن ڈاکٹر طاہر القادری بھی ہمنوا ہوا کرتے تھے۔ڈاکٹر طاہر القادری کی اقتدا میں نماز بھی ادا کی اس کی تصویریں عوام کے زہنوں میں ضرور ہوں گی۔ڈی چوک پر سانحہ میں ملوث افراد کی قبریں تک کھودنے کی بات کی گئی لیکن حکومت میں آنے کے بعد کیا ہوا۔انہی دنوں سپریم کورٹ کی دیواروں پر شلواریں بھی لٹکائی گئیں۔پارلیمنٹ ہاو¿س کا جنگلہ توڑا گیا اور پی ٹی وی کی نشریات بھی بند کرائی گئیں۔خیر بات سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی ہو رہی تھی اور اپوزیشن سے عمران خان حکومت میں آگئے۔حکومت میں آنے پر سانحہ ماڈل ٹاو¿ن میں ملوث مبینہ افراد کا کیا ہوا پھر؟

توقیر شاہ سے لے کر ڈی آئی جی لاہور تک سب ہی کو اعلی عہدوں سے نواز دیا جاتا ہے۔ یہ تھی حالت اس نوٹس کی جو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت میں لیا گیا اب اقتدار میں لیے گئے نوٹسسز کی بات کرتے ہیں۔حکومت میں آنے کے بعد اس دوران عوام کے مقبول لیڈر اور وزیر اعظم کی حیثیت سے کچھ نوٹس لیے۔ سب سے پہلا نوٹس سانحہ ساہیوال پر اس وقت لیا گیا جب وہ قطر کے دورہ پر جارہے تھے۔وزیر اعظم نے ٹوئیٹ کے ذریعے واپسی پر مثالی انصاف کا وعدہ کیا اورمتاثرین بچے اب تک وزیر اعظم کی قطر سے واپسی کے منتظر ہیں۔

اب آجائیں مقبول عام پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کے نوٹس پر جس نے عوام کو بہت زیادہ حیران کیا۔وزیر اعظم کے اس نوٹس پر وزرا اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بغلیں بجائیں لیکن عوام کو کچھ ملنا تھا اور نا ہی ملا۔سونے پہ سہاگہ یکدم پیٹرول کی فی لیٹر قیمت تاریخی 25 روپے سے زائد بڑھا دی گئی۔ یہ اضافہ بھی یکم جون سے چار روز پہلے ہی کر دیا گیا اس نے ووٹرز، وزرا ءاور کارکنوں سب ہی کو پریشان کر دیا۔

چینی اسکینڈل نوٹس کا حشر بھی سب دیکھ چکے کس طرح عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ پہلے چینی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا کہ کس طرح چینی 52 روپے سے 85 روپے تک پہنچی۔انکوائری کمیشن بنایا گیا، رپورٹ آگئی اور فرانزک بھی ہو گیا، بااثر افراد ملک سے باہر بھی چلے گئے۔ چینی کی قیمت کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے۔اسی طرح گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا جاتا ہے اس کا حشر بھی سب کے سامنے ہے۔کس طرح آٹے اور گندم کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ کا سلسلہ جاری ہے۔سونا اگلتی زمینوں والے زرخیز ملک کے عوام نوٹس کی بدولت آٹا 90 روپے کلو تک خریدنے پر مجبور ہیں۔وزیر اعظم مسلسل مافیا کا ذکر کرتے رہے ہیں کہ مافیا نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔عوام بھی انہی مافیاز کے رحم و کرم پر ہیں اور اب تو لگتا یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بھی انہی مافیا کے کنٹرول میں ہیں۔اسی لیے عوام اب یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ خدارا اب کچھ بھی ہو جائے وزیر اعظم عمران خان نوٹس نا لیں کیونکہ ان کا نوٹس مافیاز ، مجرموں کا تو کچھ نہیں بگاڑتا ہاں البتہ عوام کے مسائل ضرور بڑھا دیتا ہے۔


ای پیپر