مریم بی بی کا گیم چینجر دھماکہ
08 جولائی 2019 2019-07-08

مریم بی بی کے احتساب عدلات کے جج سے متعلق جاری کی گئی آڈیو نے سب کو پریشان کردیا ہے۔ حکومت کا ایک حصہ کہتا ہے کہ یہ عدلیہ کا معاملہ ہے۔ اور حکومت کو کچھ نہیں کرنا چاہئے۔ اس معاملے کو وزارت قانون کو دیکھنا چاہئے۔ جبکہ مشیر برائے اطلاعات و نشریات فردوس اعوان بھی اس کو حکومت کا معاملہ سمجھی ہیں۔ اور وہ کہہ رہی ہیں کہ اس نے صورتحال ہی تبدیل کردی ہے۔

پریس کانفرنس میں دکھائی گئی وڈیو کومیں احتساب عدالت کے جج کو مبینہ طور پر تسلیم کرتے سنا گیا کہ اُنہوں نے دبائو میں آکر اور بلیک میلنگ پر نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا، سیاسی اور قانونی اعتبار سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ مبینہ وڈیو میں جج ارشد ملک کو یہ بھی کہتے دکھایا گیا کہ اُن سے متعلق قابل اعتراض وڈیو موجود ہے۔ ان الزامات کے جواب میں جج صاحب نے تردیدی بیان جاری کیا اس بیان نے اور نئے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ان کے تردیدی پریس رلیز کے تین حصے ہیں۔ ایک یہ کہ انہوںنے ناصر بٹ سے ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ اس سے پرانی شناسائی ہے۔دوسرا یہ کہ اُن کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ تیسرا حصہ جو سوالات کو جنم دیتا ہے وہ ان الزامات سے متعلق ہے کہ اُن پر نواز شریف خاندان کے نمائندوں کی طرف سے دبائو تھا اور اُنہیں رشوت کی بھی پیشکش ہوئی۔ جج ارشد ملک رشوت کا الزام لگا کر وہ خود پھنس گئے ہیں اگر اُن کو مقدمے کی سماعت کے دوران رشوت کی پیشکش کی گئی اور دبائو ڈالا گیا تو پھر ان کو اسکا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ کس نے کہاں پر رشوت کی پیشکش کی؟ جب انہوں نے رشوت اور دبائو کو ٹھکرایا تو جج صاحب نے متعلقہ حکام یا اعلیٰ عدلیہ کو بتایا؟ ابھی ویڈیو باقی کچھ حصے بھی سامنے آنے ہیں۔اب چونکہ بات جج محمد ارشد ملک پر آکر ٹوٹتی ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی اور ادارہ اقدام کرے وہ خود اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھ کر معاملے کی تحقیقات کی درخواست کر سکتے ہیں۔

ایک رائے یہ ہے کہ معاملہ کا چیف جسٹس آف پاکستان کو فوری سوموٹو نوٹس لینا چاہئے۔دوسرے یہ کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو چاہئے کہ جج ارشد ملک کو نوٹس جاری کریں، وضاحت طلب کریں۔ جماعت اسلامی کہتی ہے کہ نالائق اور ناکام حکومت ہے جو اداروں کو متنازع بنارہی ہے۔ حکومت فارنزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سب لوگ آڈیو فارنزک کی آڈت پر متفق ہیں۔

وڈیو ٹیپ کے تنازع کا نشانہ بنے والے نیب عدالت کے جج ارشد ملک اس وقت ملک کے انتہائی اہم

ترین اور تاریخی مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں ۔دو مقدمات میں سے پہلے ہی پاناما کیس میں سابق وزیر اعظم محمد نوا ز شریف کو ایک مقدمے میں سزا دے چکے ہیں اور ایک میں بر ی کر چکے ہیں،اور سپریم کورٹ نے اس مقدمے کو نیب عدالت میں بھیجا تھا۔

جج ارشد ملک سابق صدر آصف علی زرداری ان کی بہن فریال تالپور، کے بھی مقدمات کی سماعت کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر اہم بزنس مین کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا رینٹل پاور پلانٹ کیس ،سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف نیب مقدمہ شامل ہیں۔ جج ارشد ملک نے عمران خان کے قریبی ساتھی سابق وزیر قانون بابر اعوان کو ایک مقدمے میں بری کرچکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے وزیراعظم نے ڈالر کی قیمت کم کرنے کاذکر کرتے ہوئے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو ایک طرح سے آدھے پیسے واپس کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن آصف علی زرداری اور مریم نواز نے عمران خان سے بات چیت کرنے کے بجائے جو ان کو لائے ہیں انہی مقتدرہ حلقوں سے ہی بات چیت کرنے کا اعلان کیا۔ یہ جماعتیں کہتی رہی ہیں کہ این آر او وغیرہ عمران خان کے بس میں نہیں۔ اسلام آباد میں موجود ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کے مطابق فرض کریں کہ کسی طرح سے رقم لوٹا نے کا کوئی فارمولا نکل آیا، تو ان کی سیاسی اہلیت اور آئندہ کے سیاسی رول کا کیا ہوگا؟ اگر انہیں سیاست میں آزادانہ رول ادا کرنے کی اجازت ملتی ہے تو پھر عمران خان کا کیا ہوگا؟

مریم نواز حالیہ انکشافات صورتحال کو بہت ہی اونچا لے گئے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تمام رہنما وہ خواہ حکمران جماعت سے ہوں یا اپوزیشن سے دونوں بہت ہی ہائی پچ پر کھیل رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ شہباز شریف میں تو موت بھی برداشت کرسکتا سابق صدر آصف زرداری کہتے ہیں کہ کوئی طاقت ہمیں آئین کی حکمرانی کے اصول سے نہیں ہٹا سکتی، بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ چاہے پورے خاندان کو جیل میں ڈال دو ،جدوجہد جاری رکھیں گے۔ شہباز شریف کہہ رہے ہیںکہ اس ملک کے غریب عوام کے لئے لڑوں گا، اللہ کی قسم میں لڑوں گا۔اس طرح کی باتیںنقطہ عروج یا فیصلہ کن مرحلے پر ہی کی جاتی ہیں۔ لگتا ہے کہ اب کھیل آخری اوور میں داخل ہو رہا ہے۔ وزراعظم عمران خان نے روسی مصنفہ کا قول ٹوئیٹ کیا ہے۔ روسی مصنفہ اینی رینڈنے لکھا تھا ’جب پیسا اُن کے پاس جا رہا ہو جو اشیا نہیں مفاد کے لیے کام کرتے ہو،جب قانون بھی آپ کے خلاف انہیں تحفظ دیتا ہو، جب بدعنوانی کو ایوارڈ اور دیانتداری ذات کی قربانی ہو‘۔یہ آج کی صورتحال میں بڑا معنی خیز ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ اسلام آباد میں کچھ کھچڑی پک رہی ہے۔

مریم بی بی تو نواز شریف کو بیگناہ ہونے کی خوشخبری دے رہی ہیں۔ احتساب عدالت کے جج سے متعلق ویڈیو اور آڈیو کے سیاست پر دور رس اثرات پڑیں گے۔ اس کے نتیجے میںنواز شریف کی سزا ختم ہو سکتی ہے۔ اخلاقی طور پر بھی نواز شریف کو بڑا فائدہ ملے گا۔ رہائی ملنے کے بعد ان کا یہ موقف مضبوط ہوگا کہ انہیں سازش کے تحت پھنسایا گیا تھا۔ عمران خان کا موجود ہائی مورال گرائونڈ دھڑام سے ٹوٹ جائے گا۔ مختلف ادارے مداخلت کے الزام کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ وہ ادارے خود پر الزام لینا نہیں چاہیں گے، لہٰذا یہ الزام حکومت یا کسی اور شخص پرڈالا جائے گا۔ اس معاملے کے عدالتی نظام پر بھی چھینٹے پڑیں گے۔ خان کی حکومت اور عدلیہ پر انگلیاں اٹھنے لگی گی۔ یہ بھی ہو سکتا کہ پورا ینٹی کرپشن کا بیانیہ ناکام ہوجائے۔ جاس صورت میں احتساب کے نظام پر سوال اٹھیں گے تو عمران خان دفاعی پوزیشن میں چلے جائیں گے۔


ای پیپر