ووٹ کو عزت دو… نعرہ پھر زندہ ہو گیا
08 جولائی 2019 2019-07-08

گزرے تین دن مریم نواز کے نام رہے۔ ہفتہ کے روز انہوں نے مسلم لیگ کی قیادت کے ساتھ مل کر نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو لیک کرکے دنیا بھر میں پاکستان کے نظام احتساب پر سوال اٹھا دیے۔ احتساب عدالت ہی نہیں بلکہ اعلی عدلیہ پر بھی مریم نواز کی جاری کردہ آڈیو اور وڈیو میں سوال اٹھائے ہیں۔ ۔ اتوار کا دن مسلم لیگ ن کے لیے بڑا اہم ثابت ہوا ہے۔اس روز مریم نواز نے منڈی بہاوالدین میں بڑا شو کیا۔جس کا اعلان چند دن پہلے ہو چکا تھا۔منڈی بہاو الدین کی ضلعی انتظامیہ نے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی ہائی پروفائل شخصیت اور سابق نواز شریف کی صاحبزادی جس نے تین یوم قبل مسلم لیگ ن کی پوری قیادت کے ساتھ اچانک ایک ایسی پریس کانفرنس کرکے پورے ملک میں ہی نہیں دنیا بھر میں پاکستان کے نظام احتساب کو بے نقاب کردیا ہے۔پریس کانفرنس میں مریم نواز نے اپنی زندگی کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا تھا۔اس پریس کانفرنس کے بعد سے ترجمانوں کی چیخ مسلسل تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ایسے ماحول میں منڈی بہاو الدین کے ڈی سی نے جو رویہ اپنایا وہ بھی درست نہیں۔ سیاسی معاملات سے افسروں کو دور رہنا چاہیے۔ جلسہ تو ہونا تھا جو انتظامیہ کی طرف سے رویہ اپنایا گیا ۔ اس کے پیچھے کوئی تھا ضرور۔ ظاہر ہے جس جگہ جلسہ کرنا تھااس گراونڈ کو تالے لگا دیے۔اور مبینہ طور پر کارکنوں کی گرفتاریاں بھی ہوئیں۔مریم نواز لاہور سے منڈی بہاو الدین کے لیے روانہ ہوئیں تو ان کا دو گھنٹے کا سفر کئی گھنٹوں پر محیط ہو گیا ۔مریم نواز نے ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ وہ ہر حال میں منڈی بہاو الدین آئیں گی اور اسی جگہ جلسہ کریں گی جس کا اعلان پہلے کیا جا چکا تھا مگر وہ اس جگہ کے باہر جلسہ کریں گی۔ مریم نواز ایک بڑے استقبال کے ساتھ منڈی بہاو الدین پہنچیں۔ بڑا استقبال تھا۔ حبس اور گرمی کے موسم میں لوگوں کا اتنا ہجوم اہم بات تھی۔ اس ہائی پرفائل شخصت کے لیے ڈی سی اور پولیس نے ٹی وی رپورٹس کے مطابق کوئی انتظام نہیں گئے تھے۔جب کہ جو بھی حالات تھے یہ انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ مریم کی حفاظت کا پلان بناتی۔ جب میں ٹی وی کے سامنے مریم کی آمد کے مناظر دیکھ رہا تھا تو کراوڈ کافی چارج نظر آرہا تھا۔لوگ مریم نواز کے حق میں پر جوش نعرے لگارہے تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے نعرے بھی سنائی دے رہے تھے۔یہ جلسہ ان کے لیے پیغام ہے کہ پارٹیاں ریاستی جبر سے ختم نہیں ہوتیں ۔ مریم نواز کا جلسہ جبر کے موسم بھی کامیاب تھا۔جب کلینڈر کی تاریخ بھی پلٹ چکی تھی۔7سے آٹھ جولائی کا آغاز ہو چکا تھااس وقت بھی مریم نواز کا استقبال اور جلسہ جاری تھا۔ ۔ ۔ اس جلسہ کی اہم بات یہ تھی کل تک جو کہتے تھے کہ مسلم لیگ ختم ہو گئی ہے یا بکھر چکی ہے ۔ ان کے اندازے درست نہیں وہ دیکھ سکتے ہیں اب مسلم لیگ ایک بیانیہ پر کھڑی ہے۔ یہ وہ زمانہ نہیں کہ سردار بہادر خان جو ایوب خان کا بھائی ہی نہیں بلکہ ایوب دور میں قائم ہونے والی 1962کی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی تھے صدر ایوب نے ماں سے شکایت کی بھائی میری مخالفت کرتا ہے۔ماں نے سردار بہادر کو حکم دیا ماں کے حکم پر بھائی کی مخالفت ہی بند نہیں کی بلکہ سیاست ہی چھوڑ دی ۔ منڈی بہاو الدین کا جلسہ اور عوام کا کراوڈ دیکھ کر اچانک وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو 60 سال پہلے روسی مصنفہ آئن رینڈ کے الفاظ یاد آنے لگے جو ہمارے کپتان کے مطابق ہمارے حالات کے مطابق فٹ بیٹھتے۔ مگر اس سے پہلے جرمنی کے دانش ور میکا ولی کے الفاظ کی پوری کتاب دی پرنس ہمارے آج کے حالات پر فٹ بیٹھتی ہے۔ جس میں اپوزیشن اورمخالف کو کچل دینے اور برباد کرنے کا پیغام ہے۔ریاست مدینہ میں تو ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوتی۔اس ریاست میں با با رحمتا جیسا انصاف بھی نہیں ہوتا۔ ریاست مدینہ کا امیر کارواں ایسا نہیں ہوتا۔ ایسا بھی ریاست مدینہ میں نہیں ہوتا تھا کہ کے پی کے ہیلی کاپٹر پر سیر سپاٹے بھی ہوں اوراس کا کیس بھی نیب کے پاس ہو اور وہ امیر شہر بھی بن جائے اور چئیرمین نیب اپنے ملزم کو مبارک باد دینے وزیر اعظم ہاوس پہنچ جائے۔ منڈی بہاو الدین کا جلسہ مریم نواز کا ایک کامیاب جلسہ تھا ۔ جو کہانی نواز شریف نے جی ٹی روڑ سے شروع کی تھی ۔اب مریم نوازنے ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘نے نعرے خود لگائے اور بات وہیں سے شروع ہوئی جہاں پر ختم ہوئی تھی۔ مریم کی تقریر کے نعروں کے کچھ اشارے اسٹبلشمنٹ،کچھ عدلیہ اور کچھ سلیکٹڈ سرکار کی طرف تھے۔ سب سے بڑا نعرہ بھی مریم نے مطالبے کی صورت میں لگا دیا ہے ’’عمران خان استعفا دیں اور گھر جائیں‘‘۔ مریم نے جارحانہ خطاب میں عوام سے یہ سوال بھی پوچھا ’’نالائق اعظم کو بھاگنے دو گے؟اگر یہ نالائق اعظم اپنی نااہلی اور نالائقی کرپشن کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرے تو گریبان پکڑنا‘‘ یہ باتیں تشدد پر ابھارنے والی ضرور ہیں مگر اس کے بانی تو خود وزیر اعظم ہیں۔جب وہ کہا کرتے تھے کہ آج اس شہر کو بند کردوں گا اور فلاں تاریخ کو بند کر دوں گا اوے ڈی سی،اوئے ٖفلاں میں تم کو نہیں چھوڑوں گا۔یہاں تو صورت گری ایسی تھی کہ اسٹیڈیم میں جلسہ نہیں کرنے دیا گیا ۔عذر بھی کیا خوب تھا کہ اس جگہ دہشت گردی کا خطرہ تھا اگر یہ تھا تو کوتوال مریم کی حفاظت کے لیے آگے کیوں نہیں بڑھا۔۔ ۔ سوال تو اہم ا ور یہ سب کے سوچنے کی بات ہے۔با با رحمتے کے اقدامات ۔نیب کے یکطرفہ احتساب کے بعد، مسلم لیگیوں کو جیل میں ڈالنے کے باوجود مسلم لیگ ن ختم نہیں ہوئی۔ رانا ثنا اللہ پر ہیرو ئن کا مقدمہ جس کو رانا ثنا اللہ نے اس کو ظلم قرار دیا ہے۔اس کی اہلیہ نے وہ کہانی سنادی ہے۔اب بات بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ اپوزیشن جس انداز سے آگے بڑھ رہی ہے۔اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ1977 کی تحریک پیچھے رہ جائے گی۔کپتان تو غریبوں کو مہنگائی سے مار رہا ہے۔ہر طرف سے غریبوں کی آہ بکا جاری ہے۔ہر روز لوگ جی جی کر مر رہے ہیں ۔اس ایک سوال نے حکومت کو مشکوک بنا دیا ہے کہ حکومت ویڈیو سکینڈل میں کہاں سے آگئی۔ اس کا تو کوئی اس معاملے سے لینا دینا کوئی ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا ٹڈ ی دل ٹی وی سکرینوں پر حملہ آور کیوں ہو گیا ہے۔ جب خود احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے وضاحت کردی ہے اور مان لیا ہے کہ مجھے رشوت اور دھمکیاں دی گئیں تو ان مسلم لیگیوں کے نام بھی جج صاحب کو بتانے چا ہیں تھے۔اب اس الزام کا جواب مسلم لیگ ن کو نہیں جج کو دینا پڑے گا۔ ۔ملک قیوم کی جو ویڈیو مشرف دور میں منظر عام پر آئی تھی۔یہ سیف الرحمان اور جسٹس قیوم کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مبنی تھی۔ اب آنے والی گفتگو کے بھی دو کردار ہی ہیں ایک ناصربٹ اور احتساب عدالت کے جج ارشد ملک، جو اس ویڈیو کے بارے میں اپنا موقف دے چکے ہیں۔انہوں نے وڈیو کو مکمل مسترد نہیں کیا بلکہ اپنے اوپر بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔۔ مریم نواز کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک یورپی ملک سے دونوں ویڈیو کا فرانزک ہو چکا ہے۔ ۔ تمام قانونی ماہرین کا کہنا ہے اگر یہ ویڈیو درست ثابت ہوتی ہے تو نواز شریف کی ساری کارروائی کالعدم ہو سکتی ہے اور اس کیس کی نئے سرے سے تحقیقات ہو ں گی۔ ممتاز قانون دان اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ اگر فرانزک میں ویڈیو درست ثابت ہوتی ہے تو یہ مریم کا بہت بڑا چھکا ہو گا۔ سوال ایک جج کا نہیں بہت سے کردار دوسری ویڈیو میں ابھر کر سامنے آئیں گے۔ انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق دوسرے حصے میں جو مواد شامل ہے وہ پہلے حصے سے بھی تشویشناک ہے۔اس میں بھی ہمارے عدالتی نظام کی ساری کسر نکل جا ئے گی۔اور لوگ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ریاست مدینہ بنانے والے کس طرح کے کھیل میں ملو ث ہو رہے ہیں۔نواز شریف کے کیس کی نگرانی کے دوران جو تماشا ہو ا اس کا بھی ذکر دوسرے حصے میں شامل ہے۔ ملک قیوم تو اکیلے گئے تھے جو لوگ کہتے تھے کہاس بجٹ سے غریب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ دعوی کرنے والے زرا باہر تو نکلیں اور دیکھیں کہ بنی گالہ کے باسیوں کی ریاست مدینہ میں کیا ہو رہا ہے۔


ای پیپر