’’حرفِ شوق‘‘ …مزید تذکرہ!
08 جولائی 2019 2019-07-08

محترم مختار مسعود مرحوم کی تصنیف "حرفِ شوقــ" کے بارے میں لکھتے ہوئے میں نے ان کی دیگر تینوں کتابوں "آواز دوست"، "سفر نصیب" اور "لوح ایام" کا بھی حوالہ دیا تھا۔ "حرفِ شوقـ" اس وقت میرے سامنے ہے جب کہ دیگر تینوں تصانیف میرے سامنے موجود نہیں ہیں اور انہیں پڑھے ہوئے بھی عرصہ بیت چکا ہے۔ مصنف نے "حرفِ شوقـ" کا انتساب طلبا علی گڑھ کالج کے نام کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ضخیم کتاب میں انہوں نے بر صغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی عظیم درسگاہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ جہاں ان کے والد بحیثیت استاد متعین تھے اور جہاں سے جناب مختار مسعود نے بھی سکول ، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی تھی کا تفصیل سے ذکر کیا ہوگا۔ "حرفِ شوقـ" کم وہ بیش 570صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں چار طویل تر مضامین شامل ہیں۔ پہلا مضمون "ماضی کے ساتھ ایک نشست" تقریباً آدھی کتاب صفحات 1 تا 250 پر پھیلا ہوا ہے۔ دوسرا مضمون " سر سید احمد خان کون تھے؟" صفحہ 251 تا 376 تقریباً سوا سو صفحات پر محیط ہے۔ تیسرا مضمون " باعث تحریر" نے بھی سوا سو سے زیادہ صفحات سمیٹے ہوئے ہیں اور صفحہ 377 تا 506پر پھیلا ہوا ہے۔ چوتھا مضمون" محرحوم کے نام ایک خط" نسبتاً کم طویل ہے اور کتاب کے صفحات 507 تا 561 کو گھیرے ہوئے ہے۔ مختار مسعود مرحوم کتاب کے یک صفحی دیباچے میں لکھتے ہیں۔

" میں دیر سے سر جھکائے لکھ رہا تھا۔ انہماک کا یہ عالم کہ اپنا ہوش نہ کسی دوسرے کی خبر۔ خدا خدا کرکے تحریر مکمل ہوئی۔ میں نے پنسل کو میز کے اس دراز میں رکھ دیا جہاں پہلے ہی آدھی ہو جانے والی استعمال شدہ پنسلوں کا ڈھیر لگا تھا اور لکھنے والے کمرے سے باہر آگیا۔ میں اس شخص کی تلاش میں ہوں جس کی خاطر میں نے اپنا طویل ترین مضمون لکھا ہے۔ وہ مجھے کہیں نظر نہیں آتا۔ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، میں نے لکھنے میں دیر کر دی۔ اسے جانے کی جلدی تھی۔ میری تحریر اپنے ایک مُحِرک اور قاری سے محروم ہو گئی۔ میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ایک دن والدِ محترم نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر سے فرمائش کی کہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیں اور دعا کریں کہ اسے بھی تصنیف و تحقیق کا شوق اور ہنر عطا ہو۔ اس واقعے کے کوئی دس بارہ برس کے بعد ـ"آوازِ دوست" شائع ہوئی۔ اتنا عرصہ کون کسی کی تحریر کا انتظار کرتا ہے۔ وہ دونوں بزرگ اس وقت تک اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ وقار عظیم اور ملا واحدی نے 'سفر نصیب' کا انتظار نہیں کیا۔ محمد طفیل (نقوش)، ابولفضل صدیقی، جمیلہ ہاشمی اور ابنِ حسن برنی نے 'لوحِ ایام' کا انتظار نہیں کیا۔ محترم رشید احمد صدیقی نے 'آواز دوست' پڑھ کر مجھے دعا دی۔ اس کے بعد میری تحریر ان کی مزید دعاؤں سے محروم ہو گئی۔ ان حالات میں اگر توفیق احمد خاں نے 'حرفِ شوق ' کا انتظار نہ کیا تو کیا ہوا!ــ"

جیسا میں نے پچھلے کالم میں ذکر کیا تھا "حرف شوق " مصنف کی وفات کے بعد 2017 میں چھپی۔ میرے پاس "حرف شوق " کا جو نسخہ ہے اس کی تاریخِ اشاعت ستمبر 2017 (تعداد 2000) ہے۔ مصنف کی اہلیہ محترمہ بیگم عذرا مسعود کتاب کے آخر میں چھپے اختتامیہ میں کتاب کی ترتیب ، تدوین اور اس میں شامل مضامین کے حوالے سے لکھتی ہیں" اس کتاب کے لیے وہ (مختار مسعود) ایک طویل عرصے سے کام کر رہے تھے۔ مختلف اوقات میں اس کتاب کے مندرجات کے بارے میں ان کے خیالات بدلتے رہے۔ کبھی وہ اسے محض پہلے دو مضامین تک محدود رکھنا چاہتے اور کبھی بعد کے دو مضامین کا اضافہ بھی گوارا کرتے۔ اب کہ حتمی رائے کے لیے وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں ہم نے ان کے مزاج اور مزاج دان کی رائے کے پیش نظر یہ چاروں مضامین شاملِ کتاب کر لیے ہیں کہ ان کی شخصیت اور فن کی تفہیم کے لیے یہ مضامین نہایت اہم ہیں اور اگر انھیں مسعود کی آخری کتاب میں شامل نہ کیا گیا تو پھر قارئین ان کی شخصیت کے ان گوشوں سے آگاہ نہیں ہو سکیں گے جن پر یہ مضامین روشنی بکھیر رہے ہیں ؎

حرفِ شوق آموختم واسو ختم

آتشِ افسردہ باز افروختم

"حرف شوق " سے میں نے کیا حاصل کیا ؟ کیا پایا؟ میرے علم میں کتنا اضافہ ہوا؟ میری فکر اور سوچ میں کتنی گہرائی، گیرائی اور بالیدگی پیدا ہوئی؟ میرے لکھنے کی صلاحیتوں( اگر کچھ ہیں) ان کو کتنی جلا ملی؟ برصغیر جنوبی ایشیا کے مشاہیرجن میں سلطان، حکمران، شہداء، ادیب، شعراء، فلسفی، سیاستدان، قومی رہنما، مورخ، مصنف، مصلح اور علماء وغیرہ سب ہی شامل ہیں کی تاریخ، سوانح اور خدمات سے کتنی آگاہی حاصل ہوئی؟ اور اس کے ساتھ پاکستان کی تاریخ اور اہم ریاستی ، حکومتی ، سماجی اور معاشرتی اداروں کی خدمات جاننے اور پرکھنے کا کتنا موقع ملا؟ ان سب کا تذکرہ اور ان کی تفصیل الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں کہ بلا شعبہ مجھ ہیچ اور تہی دامن نے بہت کچھ فیض حاصل کیا ہے۔ زندگی کے سات عشروں سے زائد عرصے پر مشتمل شب و روز بیت چکے ہیں اللہ جانے اور کتنا عرصہ اس کی عنایت اور عطا سے سانس لینے نصیب ہونگے لیکن سچی بات ہے میں جو کم و بیش پچلی نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں بلا خوف تردید کہ سکتا ہوں کہ محترم مختار مسعود کی پہلے والی قابلِ قدر اور اعلیٰ پایہ کی تصانیف "آوازِ دوست" ، " سفر نصیب" اور " لوح ایام" کی طرح "حرف شوق " نے بھی میرے علمی، تعلیمی اور ادبی پس منظر کو ٹھوس اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں یہ سطور لکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ میں شکر گزاری جس کی اپنے لواحیقن ، اپنے ہم نشینوں اور اپنے تلامذہ کو اکثر تلقین کرتا رہتاہوں اس کا اظہار کیسے کروں ۔ میں کتاب کے کونسے صفحات نقل کروں ( ہر صفحہ اس لحاظ سے بے مثال ہیـ )اور کتاب کے کس حصے سے کوئی اقتباس پیش کروں جس سے مصنف کے اپنے تاریخی اور تہذیبی ورثے سے لگاو، وسیع تر مطالعے ، خوبصورت نثر نگاری اور اس کے ساتھ اعلیٰ علمی اور ادبی صلاحیتوں ، راست فکر، بلند پایہ سوچ اور حبِ وطن کے جذبات پر روشنی پڑھ سکے۔ کتاب کا ہر صفحہ ان سفات سے مزین اور آراستہ ہے ۔

مصنف اپنی کتاب کے مضمون "باعث تحریر" کے گیاروہویں باب (حصہ) جو صفحہ457 سے 469تک پھیلا ہوا ہے اپنے سول سروس کے ہم عصر ساتھیوں کا ذکر کرتے ہیں ان میں الطاف گوہر، منیر حسین، ثنا الحق، عرفان احمد امتیازی، شفیع الاعظم، انور عادل، آفتاب احمد خان، روئیداد خان، عزیز اصغر انصاری، عاشق مزاری، دربار علی شاہ، اے کے ایم احسن، ابو الاحسان، کرامت علی، نور علی نور جیسی بلند پایا اور نامور شخصیات کا ذکر کیا ہے۔ یہ سب پچھلی صدی کی 60 اور 70کی دہائیوں میں اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز تھے ان میں سے زیادہ تر اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ اگلے کالم میں انشاء اللہ ان شخصیات کے بارے میں محترم مختار مسعود کے خیالات کا اجمالی سا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔


ای پیپر