پروفیسر وارث میر: ایک عہد ساز دانشور
08 جولائی 2019 2019-07-08

اس کا جنازہ اٹھا تو وہ لاہور میں فیض کے بعد سب سے بڑا جنازہ تھا۔ اس میں اس کے دشمن بھی کندھا دینے آئے تھے کیونکہ وہ بھی وارث میر کے باطن کی صفائی ، حق گوئی اور جرات سے مر عوب تھے۔۔۔’’

یہ الفاظ معروف دانشور اور لکھاری جناب احمد بشیر کے ہیں۔ نو جولائی 1987کو پروفیسر وارث میر انتقال کرگئے اور ان کے انتقال پر ملکی سطح پر اہل علم ودانش نے سوگ منایا۔

پروفیسر وارث میر کو ہم سے بچھڑے بتیس برس بیت گئے مگر ان کی تحریوں کا مطالعہ کریں تو لگتا ہے کہ ان کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، جن جن موضوعات پر وارث میر نے لکھا وہ آج بھی تازہ ہی لگتے ہیں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تحریروں میں تازگی اور ہمیشگی پائی جاتی ہے ، ان کے عہد میں ذرائع ابلاغ محدود تھے ، کیبل تھی، نہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، فیس بک تھی نہ یو ٹیوب ، موبائل فون تھا نہ آئی ٹی کا نام ونشان، بس چند ایک اخبارات تھے یا پھر ہر وقت حکومتی مدح سرائی کرتا ہوا سرکاری ٹیلی وڑن اور ریڈیو آزاد اخبارات پر سخت ترین سنسر شپ عائد تھی کیونکہ ایک فوجی آمر ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض تھا۔

سیاسی کارکنوں کو قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی تھیں ، آئین معطل تھا، جمہوری سرگرمیوں پر پابندی تھی، سچ لکھنے والے صحافیوں کے لئے تازیانے تھے ، اور بعض کو اس دور میں باقاعدہ کوڑے مارے گئے ہاں البتہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے حواری صحافیوں کو پالنے کا عمل بھی جاری تھا۔

مذہبی انتہا پسند اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی ایک جماعت ان دنوں حکومت کی اندھا دھند حمایت کررہی تھء اور سرکاری سرپرستی میں انتہا پسندی کو فروغ دیا جارہا تھا ( آج بھی میڈیا لیکس میں کچھ اداروں پر انتہا پسند تنظیموں کی سرپرستی کے الزامات لگائے جارہے ہیں)۔ اسلام کے نام پر ملائیت کو فروغ دیا جارہا تھا اور ہر نئی سوچ اور فکر کو مغرب زدگی کا نام دے کر کچلا جارہاتھا، جنرل ضیاالحق اس سب کے عوض مذہبی حلقے سے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے حمایت حاصل کررہا تھا۔

پروفیسر وارث میر نے ان حالات میں بڑی جرات مندی کے ساتھ اسلامائزیشن کے نام پر حکومت کی طوالت اقتدار کی کوششوں کو بے نقاب کیا، اسلام کی مرضی کی تعبیر کے ذریعے عورتوں کے حقوق غصب کرنے کی مخالفت کی ، انہوں نے جذباتیت کے بجائے سنجیدہ علمی انداز میں عورتوں کے حقوق کا مقدمہ لڑا ، اسلامی تعلیمات کے عمیق مطالعہ اور تحقیق کے بعد اپنا طویل مضامین کا سلسلہ شروع کیا جو بعد ازاں ‘‘ کیا عورت آدھی ہے؟’’ کے عنوان سے کتابی شکل میں چھپا۔ وارث میر نے اقلیتوں کے حقوق، انسانی حقوق، جمہوریت اورآئین کی بالادستی کے حق میں اپنا قلم نشتر کی طرح چلایا، نام نہاد شریعت بل کی پوری شدت سے مخالفت کی ، اس سے پہلے کے ماشل لا کے اقدامات اور جمہوری ادوار کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں کو بھی انہوں نے موضوع تحریر بنایا ،حکومت کی حامی ایک ‘‘ اسلامی جماعت’’ ان کی شدید مخالف تھی اور بہانے بہانے سے پروفیسر وارث میر کو تنگ کرتی تھی اور زندگی کی آخرء دنوں میں ان کے لئے سب سے بڑا صدمہ یہ دیا کہ ان کے ایک صاحبزادے کے خلاف قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ بھی بنادیا گیا جبکہ وہ اس وقت یونیورسٹی میں موجود ہی نہ تھا۔

ایک دانشور اپنے عہد سے جڑا ہوتا ہے وہ عصری مسائل پر بات کرتا اور بہتر مستقبل کے لئے عوام الناس کی فکری رہنمائی کرتا ہے، حالات و واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے مستقبل میں جھانک لیتا ہے اور اس کی خبر دیتا ہے ، پروفیسر وارث نے اپنے عہد میں ڈکٹیٹر ضیاالحق اور ان کے پروردہ مذہبی حلقوں کی پھیلائی ہوئی تنگ نظری اور جہالت کو موضوع بنایا اور بتایا کہ یہ ایک جدید اور صحت مند معاشرے کے لئے کس قدر خطرناک ہے ، ان کا لکھا درست ثابت ہوا یہی فکری تنگ نظری ، شدت پسندی اور رجعت پسندی بعد میں انتہا پسندی اور پھر دہشت گردی میں بدل گئی جس نے پاکستان کے چپے چپے کو لہو رنگ کردیا۔ آج پاکستانی قوم ان شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے اور ہمارے ہزاروں سویلین اور فوجی جوان اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ، یہ سب کچھ جنرل ضیاالحق کے دور میں ڈھٹائی کے ساتھ ہوتا رہا، پروفیسر وارث میر نے اپنے عہد میں اپنی نوکری حتی کہ جان کی پرواہ کئے بغیر مارشل لا اور اس کے حواریوں کے ساتھ قلمی اور علمی محاذ پر برسر پیکار رہے۔ وارث میر مسلمانوں کو جدید سائنسی علوم کے حصول پر زور دیتے اور مسائل و معاملات میں سائنسی اور عقلی انداز فکر اپنانے پر زور دیتے ، ان کا کہنا تھا ‘‘ سوچنا ، سوال کرنا، شک کرنا اور انکار کرنا علم ومعرفت کی پہلی سیڑھی ہے۔

پروفیسر صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ، ایک استاد ، ایک صحافی ، ایک ادیب ، اعلی پائے کے دانشور اور بلا کے مقرر تھے،انہوں نے زندگی میں ان گنت موضوعات پر قلم اٹھایا اور قوم کی فکری رہنمائی کا فریضہ جرات مندی سے انجام دیا ، وہ اپنے نظریات کی عملی شکل تھے ، ان کی وفات پر ایک زمانہ ملول تھا، حبیب جالب، منو بھائی، عاصمہ جہانگیر ، پروفیسر کرارحسین، اعتزاز احسن، احمد ندیم قاسمی، صفدر میر ،نثار عثمانی، ضمیر نیازی، آئی اے رحمن، فہمیدہ ریاض ، احمد بشیر، زیڈ اے سلہری، حسین نقی، بشری رحمن، راجہ انور اور قاضی جاوید تک سب نے ان کی موت پر لکھا۔

پروفیسر وارث میر کی جنگ جہل ، ظلمت، تنگ نظری، انتہا پسندی اور آمریت کے خلاف تھی ، وہ عمر بھر اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے حریت فکر کے چراغ جلاتے رہے، علم وخرد کی اسیری زندگی بھر ان کا وظیفہ رہی، اپنے نظریات کا پرچار ان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ، ایسا ہونہیں سکتا تھا کہ جسے وہ صحیح اور درست سمجھتے ہوں اسے زبان پر یا نوک قلم پر نہ لائیں ، دنیا میں ایسے کم دانشور گزرے ہیں جنہوں نے اپنے نظریات کے پرچار کے لئے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہ کی ہو، وارث میر کا شمار ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی کی آخری سانس بھی اپنے نظریات کے پرچار کی نظر کردی، جب وقت کے آمر نے ترقی پسند فکر کو سیم اور تھور قرار دیا تو بستر علالت پر وارث میر نے اپنے بیٹے کی مدد سے اپنا مضمون مکمل کیا جو ان کی زندگی کی آخری تحریر ثابت ہوئی۔

آج پروفیسر وارث میر ہم میں نہیں مگر اپنی تحریروں کے ذریعے وہ آنے والی نسلوں کی فکری رہنمائی کرتے رہیں گے۔


ای پیپر