جستی پیٹی اور رانا ثناء اللہ سے بر آمدگی
08 جولائی 2019 2019-07-08

وکالت کے شروع دن کی بات ہے جناب ارشد میر کے دفتر سے پہلے گوجرانوالہ کے جناب خواجہ جاوید مرحوم میرے استاد تھے۔ حافظ آباد بھی گوجرانوالہ ضلع میں تھا ۔ ضیاء الحق کا زمانہ تھا کلاشنکوف عام تھی کسی بھی واقعہ میں بھی تین چار دو لوگوں سے کم قتل نہ ہوئے اور آئے روز قتل ہوا کرتے۔ گاڑیوں کی کھڑکیوں سے کلاشنکوفوں کی نالیاں لوگ کھلی کھڑکیوں سے باہر رکھتے تھے جن کی سوائے عقل کے کسی سے دشمنی نہ تھی۔ وہ بھی یہ انداز اپنائے ہوئے تھے۔ لاہورکے چند ایک بدمعاش تو اسلحہ کی نمائش کی وجہ سے مشہور ہوئے لوگ کہتے کہ ان چیلوں کوئوں سے دشمنی ہے۔ لوگوں کی آپس میں اتنی دشمنیاں اتنے قتل نہ کبھی اس سے پہلے معاشرے میں ہوئے نہ بعد میں اور اللہ نہ کرے کہ کبھی آئندہ ہوں۔ آج جو خونی دشمنیاں چل رہی ہیں یہ اُسی دور کی ’’نعمتیں ‘‘ہیں ۔ ضیاء دور میں تن پہ کپڑا نہیں اور کلاشنکوف کا لائسنس بنوا کر کندھے پہ لٹکائے پھر رہے ہیں۔ اخبار تب ہوتا گویا کسی ایکشن مووی کے رائٹر کی تخلیق تھی۔

وکالت کی شروعات میں میں ہر مقدمہ کی فائل پڑھتا اور خواجہ صاحب کو بریف بنا کر دیتا۔ ہر مقدمہ میں فرد آلہ قتل یا اقدام قتل کی فرد مقبوضگی ایسی ایک جیسی ہوتی کہ مجھے زبانی یاد ہو گئی کیونکہ اس کی تحریر کچھ یوں ہوا کرتی کہ امروز ہمراہ حوالدار جمیل ناصر، محمد بوٹا، سپاہیان راشد منیر، محمد اسماعیل، محمد زاہد ،ملزم میاں چین اصغر کو بسوار گاڑی سرکاری برائے برآمدگی آلہ قتل روانہ ہوا۔ گوجرانوالہ اور منجی گرائونڈ میں ملزم مذکور کے بتائے ہوئے راستے پر گاڑی لے گئے جانب شمال گلی شراب فروشاں بجانب مشرق ایک گھر کے سامنے گاڑی رکوا دی۔ محلے دار اکٹھے ہو گئے جن میں لیاقت پہلوان، بشیر پہلوان و دیگران اکٹھے ہو گئے ملزم مذکور نے آگے آگے چل کر جانب شمال گھر کے ایک کمرے میں جانب مغرب ایک جستی پیٹی سے آلہ قتل کاربین برآمد کروائی جو روبرو گواہان قبضہ میں لی گئی سر بمہر کی اور گواہان کے دستخط لے گئے دستخط چوہدری لطف اللہ ایس آئی میں نے جناب خواجہ جاوید سے کہا کہ سرا میں نے بیسیوں فرد مقبوضیگیاں پڑھیں سوائے ملزمان کے نام، مقدمہ نمبر اور محل وقوع کے واقعہ ایک ہی ہوتا ہے اور آلہ واردات جستی پیٹی سے برآمد ہوتی ہے چاہے کسی کے گھر میں جستی پیٹی ہو نہ ہو وہ بہت کم کھل کھلا کر ہنستے تھے۔ بس مسکرا دیا کرتے تھے۔ میرے اس جملے پر انہوں نے خوب قہقہہ لگایا۔ کہنے لگے کہ ملزم تھانے میں ہی ہوتا ہے یہ فرد مقبوضگی تھانے میں ہی لکھی جاتی ہے اب نئی نئی سٹوریاں تو حقیقت کے ساتھ آتی ہیں اگر مقدمہ کا پیٹ ہی بھرنا ہے تو پھر یونہی چلتا ہے لہٰذا جستی پیٹی سے ہی برآمدگی ہوا کرتی ہے۔ میں نے کہا کہ شاید یہ جستی پیٹی اس وقت تک مقدمات میں بھی دستیاب رہے جب تک جہیز میں جستی پیٹیاں ا ٓنا بند نہ ہوں۔ ایک اور قہقہہ ۔ یہی حال سیاسی مقدمات کا ہے۔ ہر سیاستدان کے پاس جستی پیٹی کی بجائے کار ضروری ہوا کرتی ہے۔ رانا ثناء اللہ کے مقدمے میں مجھے مال مقدمہ برآمد کرنے میں وہ فرد مقبوضگی آلہ واردات والی فرد مقبوضگی بہت یاد آئی۔ سیاسی مقدمات کی فرد مقبوضگیاں تیار کہیں اور ہوتی ہیں مگر حالات مقدمہ ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ رحمت شاہ آفریدی ، جناب آصف علی زرداری پر بھی ایسے ہی مقدمات بنے تھے۔ رانا ثناء اللہ سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ وہ سیاسی مخالفین کی آنکھ میں رہتے ہیں جب پیپلزپارٹی میں تھے تو میاں صاحبان کے لیے مسئلہ تھے پھر میاں صاحبان کے ساتھ ہوئے تو مخالفین کے لیے وبال جان ہوئے۔ مشرف دور میں ان پر تشدد کیا گیا جس کی مذمت کے علاوہ کوئی داد نہیں بنتی۔ میں نے کسٹم، پولیس، اے ایس ایف، ایف آئی اے ، اے این ایف کے ہاتھوں ہیروئن برآمدگی کے بہت سے مقدمات بنتے دیکھے، پینے پلانے کی الگ بات ہے۔ کوئی ایک آدھ یا درجن بھر سگریٹ کے ساتھ پکڑا جائے مگر ٹرانسپورٹیشن کے مقدمہ میں اور پھر اتنی بڑی مقدار میں ہیروئن پکڑی گئی ہو یہ میں نے پہلی بار دیکھا ہے کہ چند ہفتے نگرانی کے بعد مال مقدمہ سمیت ملزم گرفتار ہو۔ گرفتار کرنے والی فورس اس کو عدالت میں پیش کرے اور جسمانی ریمانڈ نہ مانگے۔

دراصل یہ تبدیلی ہے کہاتنی ہیروئن برآمد ہوئی مگر ادارے نے ریمانڈ کی ضرورت محسوس نہ کی کہ کہیں گے تشدد سے منایا گیا رانا کے مقدمہ میں ہم یورپ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ ابھی کالم یہاں تک پہنچا تھا کہ اخبار دیکھا وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں ’’شہباز شریف کہتے ہیں اتنی سزا دو جتنی برداشت کر سکتے ہو ان کے لیے پیغام ہے میں موت بھی سہہ سکتا ہوں لیکن آپ کے لیے ممکن نہیں‘‘ مجھے خان صاحب کا حامد میر کو دیا ہوا انٹرویو یاد آ گیا جس میں وہ بتاتے ہیں کہ پولیس سے بچنے کے لیے دس فٹ اونچے گیٹ دس دس فٹ اونچی دیواریں پھلانگ کر دوڑ گیااور جب بنی گالہ کے باہر کارکنان پر ہلکا سا لاٹھی چارج تھا اسد عمر، شاہ محمود قریشی بغلوں میں ہاتھ دیئے کھڑے تھے اور خان صاحب باہرہی نہیں آئے تھے۔ وہ موت کو کیا سہہ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی کرے موت تو برحق ہے میرے خیال سے خان صاحب کی تقریر لکھنے والے پنجابی فلموں کے رائٹر ہیں۔ ان کے دعووں سے چڑ ہو گئی ہے۔ حکومتی عہدوں پر بیٹھے جھرمٹ اور اس پر دعویٰ ریاست مدینہ الامان الحفیظ ۔ عوام کا مہنگائی نے کچومر نکال دیا اور عنان اقتدار والے انتقام انتقام کھیل رہے ہیں جو شخص سلیکٹڈ لفظ برداشت نہیں کر سکا وہ موت کیا سہہ لے گا۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے حضرت عمر کا واقعہ بھول گئے جو عام آدمی نے کھڑے ہو کر کرتے کے کپڑے کا سوال کر دیا مگر یہاں پر حکمران کی ذات پر سوال ہو تو تمام ادارے سپیکر سمیت قہر بن جاتے ہیں۔ عوام کو انتقام کی بتی اور احتساب کے ٹرک کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ حکومت یہ مت بھولے کہ اس کی اصلی سیٹیں کتنی تھیں۔ (ن) لیگ نے پنجاب میں اتنے ووٹ لیے تھے کہ مت مار کر رکھ دی تھی۔ پیپلزپارٹی نے سندھ میں حیرت زدہ کر دیا تھا یہ تو بھلا ہو دور دراز علاقوں جنوبی وزیر پنجاب کراچی کے 6/7 حلقے اور خیبر پختونخوا جس میں قدرت نے ’’اندھا دھند‘‘ سیٹوں میں ہوشربا اضافہ کیا، قدرت کی مہربانی ہے کہ آزاد لوگوں کے پاس ترین جاتے اور جہاز میں ساتھ بٹھا کر لے آتے ۔ موجودہ حکومت میں خان صاحب کے گرد مشرف (ق) لیگ، (ن) لیگ ، پیپلزپارتی کے وہ لوگ ہیں جو اپنے اپنے آقاؤں کے ساتھ بے وفائی اور متعدد مرتبہ کر چکے ہیں۔ ڈنگ ٹپاؤ قسم کے لوگوں کے ساتھ حکومت کا کارواں جاری ہے اور اس نے سارے کا سارا پروگرام ہی تبدیل کر دیا ۔ انتقام احتساب اور لوگوں کو چھانگا مانگا طرز پر فلور کراسنگ ہارس ٹریڈنگ سے ساتھی بنانا شروع کر دیا۔ حکومت میں آنے کی ایک ایک ڈیل سیکڑوں مطالبے لے کر آتی ہے اور موجودہ حکومت کا حساب چمرنگوں کی اس بہو جیسا ہو چکا ہے جو کہتی تھی میں آئی تو گھر سے بد بو ختم ہو گی حالانکہ وہ عادی ہو گئی تھی۔ کرپشن ختم کرنا ان کا نعرہ تھا ، منشور تھا، وہ نجانے کہاں کھو گیا اور نیب جن کو دیکھ کر دانت بیچ رہا ہے وہ عنان حکومت میں خان صاحب کے ساتھی ہیں یہ دور انتقام کے دور سے یاد رکھا جائے گا۔ سیاسی مخالفین رانا ثناء اللہ کی طرح جستی پیٹی سے آلہ واردات برآمد کراتے رہیں گے۔ اس دور سے زیادہ جمہوریت مشرف کے دور میں تھی تاریخ ثابت کرے گی۔ وطن عزیز اس وقت مکافات عمل، احتساب، جمہوریت ڈکٹیٹر شپ اور نازک ترین دور سے گزر رہا ہے نہ جانے کب تک دائرے کا سفر جاری رہے۔


ای پیپر