نیویارک اور لاس اینجلس میں سات دن(2)
08 جولائی 2019 2019-07-08

نجانے کتنی دیر میں وہیں بحرالکاہل کی آغوش میں بیٹھا رہا۔اب مجھے بھوک ستانے لگی تھی۔واپس بگ بس پر بیٹھ کر واک آف فیم پہنچا اور ایک روسی حسینہ سے امریکی سینڈوچ خرید کر آنکھوں اور پیٹ کی آگ سرد کی۔وہیں سے دوبارہ میٹرو پکڑی اور واپس موٹل جا کر سو گیا۔اگلا دن چودہ جون کا تھا۔ذکی سید نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آج مجھ سے ملیں گے۔موٹل سے چیک آو±ٹ کیا اور میٹرو پکڑ کر دوبارہ واک آف فیم پہنچ گیا۔وہاں سٹار بکس سے بنانا بریڈ اور کافی کا ناشتہ کیا اور بگ بس پر بیٹھ گیا۔میرے کل کے خریدے ٹکٹ کی معیاد چوبیس گھنٹے تھی اور جب میں بس میں سوار ہوا تو یہ مدت ختم ہونے میں صرف ایک منٹ باقی تھا مگر مجھے سوار ہونے دیا گیا۔موسم انتہائی دلفریب تھا اور راستے میں سیڈراس سینائی میڈیکل سنٹر پہ نظر پڑی جہاں ایک ایسی بیٹی پیدا ہوئی تھی جسے اس کا باپ تسلیم کرنے سے کتراتا ہے۔سینٹا مونیکا تک میں حضرت انسان کی صناعی پہ انگشت بدنداں رہا کیونکہ ہمارے ہاں تو ایک سال میں سڑک اور ایک دہائی میں عمارت کی حالت غیر ہو جاتی ہے اور یہاں کی اکثر سڑکیں اور عمارتیں دوسری جنگ عظیم سے بھی پہلے کی تھیں۔سینٹا مونیکا پہنچ کر مجھے وہاں ایک بک مونسٹر نامی بک سٹور نظر آیا جہاں پر نئی جیسی پرانی کتابیں بک رہی تھیں۔بیس ڈالر کا دو کتابوں کا سیٹ دی ورلڈ آف پاسٹ خریدا اور علم کے اس ذخیرے کو آنکھوں میں بسائے ساحل کی جانب روانہ ہو گیا۔ذکی سید سینٹا باربرا سے دو گھنٹے کی ڈرائیو کر کے پہنچے تھے۔بہت گرمجوشی سے ملے اور سپرائٹ کی بوتل سے جام شیریں نکال کر پلایا تو پاکستان کی یاد تازہ ہو گئی۔پوچھا کہ کیا پروگرام ہے۔ میں نے کہا کہ ڈزنی لینڈ کے آگے تصویر بنانی ہے اور پھر سات بجے بربینک ائیرپورٹ لاس اینجلس سے شام سات بجے کی نیویارک کو فلائٹ پکڑنی ہے۔فاصلے اور ٹریفک کے باعث یہ ناممکن نظر آتا تھا مگر اس مرد مجاہد نے یہ ممکن کر دکھایا۔راستے میں تصوف ،شاعری،تاریخ اور سیاست پہ گفتگو بھی چلتی رہی۔راستے میں ایک سٹور پہ رک کے ذکی نے گھر سے لایا ہوا کھانا گرم کیا اور ہم نے وہیں پیٹ کی آگ بجھائی۔ڈزنی لینڈ تین گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد پہنچے تو اس جادو کی نگری بنانیوالے کے لئے باختیار دل سے دعا نکلی۔اندر جانے کا وقت نہیں تھا لہٰذا باہر سے ہی کچھ تصاویر بنائیں اور سووئینیرز خرید لئے۔پونے سات بجے ذکی نے مجھے بربینک ائیرپورٹ پہنچا دیا۔گرمجوشی سے تحائف کے ساتھ رخصت کرتے وقت بتایا کہ وہ اپنی بیگم کو آئی سی یو میں چھوڑ کر مجھے وقت دینے آئے تھے۔پیچھے گاڑی والا زور زور سے ہارن دے رہا تھا اور میں پتھر کی ٹانگوں کے ساتھ اندر جا رہا تھا۔راستے میں لاس اینجلس ٹائمز اخبار خریدا کیونکہ مختلف علاقوں کے اخبار ان علاقوں کا سب سے بہترین تعارف ہوتے ہیں۔واپسی کی فلائٹ جیٹ بلو ائیرویز کی تھی جس نے پانچ گھنٹے کی پرواز کے بعد نیویارک صبح ساڑھے پانچ بجے پہنچایا کیونکہ لاس اینجلس نیویارک سے وقت میں تین گھنٹے پیچھے ہے۔یہ پندرہ جون کی صبح تھی۔جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ سے پانچ ڈالر کے عوض ائیر ٹرین میں سوار ہوا جو آپ کو نیویارک میٹرو سے جا ملاتی ہے۔راک اوے بلیوارڈ پہ اتر کر اے ٹرین میں سوار ہوا اور راک اوے بیچ 67 سٹاپ پہ اتر کر دوبارہ عارف انکل کے گھر کی جانب چلنا شروع کر دیا جو وہاں سے پانچ منٹ کی واک پہ تھا۔رستے میں ڈنکن ڈونٹس پہ رک کر دس ڈالر کا ناشتہ کیا اور پھر گھر جا کر سو گیا۔دوپہر ایک بجے آنکھ کھلی تو مسز سیما عارف نے آلو والے پراٹھے کیساتھ چائے کا پرتکلف ناشتہ کروایا۔پھر عارف یزدانی کیساتھ سامنے بحر اوقیانوس کے درشن کو نکل کھڑا ہوا جو صدیوں تک نئی اور پرانی دنیا کے مابین حدفاصل رہا۔وہاں بینڈز میوزک بجا رہے تھے۔لوگ بئیر اور واڈکا کی چسکیاں لے رہے تھے۔سرفنگ ہو رہی تھی۔ہر کوئی اپنی مستی میں گم تھا اور دوسرے کی پرسنل سپیس کا احترام کر رہا تھا۔وہاں کچھ دیر سیر کی۔بینڈز کی ویڈیوز اور اپنی تصاویر بنائیں اور دو گھنٹے بعد واپس گھر چلا آیا۔رات کو عارف یزدانی اور انکی اہلیہ نے کوئنز کے علاقے میں ریڈ لوبسٹر نامی سی فوڈ ریسٹورینٹ سے پرتکلف ڈنر کروایا تو دیار غیر در خیر معلوم ہوا۔اگلا دن سولہ جون کا تھا۔زاد راہ اب آہ آہ کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ڈالر اگر ایک سو پانچ کا ہوتا تو مالک کی مزید خدمت ہو سکتی تھی۔ناشتے سے فراغت کے بعد میں میٹرو پکڑ کر ٹائمز سکوائر روانہ ہو گیا جس کے پاس بگ بس کا سٹینڈ تھا۔اس ٹور پہ میں نے ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ اور لٹل اٹلی سمیت نیویارک کی مشہور عمارات دیکھیں اور وال سٹریٹ پہ اتر گیا۔ولندیزیوں نے ایک زمانے میں یہاں انگریزوںکے حملے سے بچنے کے لئے وال تعمیر کر رکھی تھی اسی لئے وال سٹریٹ کہلاتی ہے۔یہاں سے چلتا ہوا فیری تک پہنچا جس پہ بیٹھ کر مجسمہ± آزادی سمیت سٹیٹن جزیرے کا چکر لگایا جہاں بیسویں صدی کی ابتدا میں یورپ سے آنیوالے پناہ گزینوں کی پراسیسنگ ہوتی ہے۔ڈیڑھ گھنٹے بعد فیری نے واپس ساحل پر لا پھینکا۔وہاں سے جارج واشنگٹن کا مجسمہ اور نیویارک سٹاک ایکسچینج دیکھتے ہوئے دوبارہ وال سٹریٹ عبور کی اور دولت کے بھینسے یعنی مشہور زمانہ بل کیساتھ کھڑے ہو کر تصاویر بنائیں۔پھر پاو±ں پاو±ں چلتا ہوا ریڈ انڈینز کے میوزیم میں گھس گیا جو یو ایس کسٹمز کی بلڈنگ میں ہی واقع ہے۔میوزیم ریڈ انڈینز کی تہذیب و ثقافت سے تعارف کے لئے خاصے کی چیز ہے۔میوزیم سے نکل کر دوبارہ بگ بس میں سوار ہوا اور مادام تساو± میوزیم پہ جا اترا۔اس میوزیم کا ایک ایک مجسمہ انسانی فن اور صناعی کا ایسا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کچھ مجسموں کو تو میں نے ایکسکیوز می تک کہا کہ راستہ دے دیں۔مادام تساو± میوزیم میں ریگن ،گورباچوف،پریانکا چوپڑہ،ملکہ± برطانیہ اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسے مشہور لوگوں سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ± خیال کیا۔میوزیم سے نکلا تو رات ہو چکی تھی اور ٹائمز سکوائر کا جادو سر چڑھ کے بول رہا تھا۔وہاں کافی دیر بیٹھا لوگوں اور موسم سے محظوظ ہوتا رہا۔جب آنکھوں کو کچھ پل کے لئے قرار آیا تو میٹرو پکڑ کر واپس چلا گیا۔اگلا دن سترہ جون تھا اور یہ میرا امریکہ میں آخری دن تھا۔رات کو مجھے واپس لاہور براستہ استنبول فلائی کرنا تھا۔ناشتہ کرنے کے بعد میں 59th سٹریٹ روانہ ہو گیا۔میری منزل ایرگوزے بک سٹور تھی کہنے کو تو پرانی کتابوں کی ایک دکان تھی مگر کسی کومہاراجہ کا ذاتی کتب خانہ معلوم ہوتی تھی۔پرانی کتابوں،تصاویر اور نقشوں کا یہ خزانہ کئی منزلوں پہ محیط تھا۔پرس اور لگیج میں کم گنجائش کے باعث صرف ایک کتاب ایوری ڈے لائف ان اوٹومن ٹرکی بیس ڈالر کے عوض خریدی۔اس سٹور میں دو گھنٹے دو منٹ میں گزر گئے۔آسمان پر قوس قزح کے رنگ دیکھے تو بیٹی دھنک یاد آئی اور میں نے چپ چاپ بک سٹور سے نکل کر لاہور کی جانب چلنا شروع کر دیا۔


ای پیپر