حا لا ت کی ضرو رت ،پر امن انتخابات
08 جولائی 2018 2018-07-08

سا بق وزیرِاعظم میا ں نوا ز شر یف، ان کی دختر مر یم نو ا ز، ا ور دا ما د کیپٹن صفد ر کو قید اور جر ما نے کی بھا ری سز ا سنا ئی جا چکی ہے۔ میاں نوا ز شر یف فیملی کی سزا پہ با ت کر نا بہر حا ل اس کا لم کا مو ضو ع نہیں۔ یہا ں ان کی سزا کا ذکر کر نا صر ف اس لیئے مقصو د تھا کہ قا رئین کو یہ با ور کروا کر با ت شر و ع کی جا سکے کہ میا ں نو ا ز شر یف فیملی اب کم ا ز کم دو ہز ا ر اٹھا ر ہ کے انتخا با ت سے با ہر ہو چکی ہے۔ او ر یو ں مسلم لیگ ن کی قیا د ت اب عملی طو ر پر میا ں شہبا ز شر یف کے ہا تھ میں آ گئی ہے۔ لہذا اب دبکھنا ہو گا کہ وہ آ ہند ہ ہو نے وا لے انتخا با ت میں مسلم لیگ ن کے مر کز ی ر ہنما کے طو ر پر کیا پا لیسی اپنا تے ہیں۔ اسی پا ر ٹی کی جا نب سے ایک بڑی شکا ئت ان کے امید وا روں اور کا ر کنو ں کو ہرا سا ں کر نے کے زمر ے میں آتی ہے۔ تا ہم قا بلِ ا طمنا ن ا مر یہ ہے کہ ا لیکشن کمیشن نے امیدواروں او ر سیا سی کا ر کنوں کو یو ں ہراساں کیے جانے کے واقعات کا فوری نوٹس لے لیا ہے۔ جبکہ چاروں نگران وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ وہ عام انتخابات کے پرامن، شفاف اور غیر جانبدارانہ انعقاد کے لیے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواران کو امن و امان کے سازگار ماحول کی فراہمی یقینی بنائیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پرامن اور ہر قسم کے تشدد سے پاک انتخابات وقت کا تقاضہ ہیں اور ملفوف دھمکیوں اور بھیانک نتائج بھگتنے کی دھونس صورتحال کو خراب کرسکتی ہے جبکہ خوف و ہراس اور جبر کی فضا قائم کرکے شفاف الیکشن کے خواب کے شرمندہ ہونے کی جمہوری آرزو تو الگ رہی، امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلانا دشوار ہوجائے گا۔ ایسی صورتحال ماضی قریب میں پیش آچکی ہے۔ 2008ء اور 2013ء کے انتخابات کا انعقاد جن مشکل حالات میں ہوا تھا وہ واقعات تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ایک الیکشن تو ایسا تھا جس میں بعض مین سٹریم جماعتوں کو طالبان اور دیگر انتہا پسند عناصر کی طرف سے حملوں کے خطرات لاحق رہے۔ ان کی انتخابی مہم محدود اور تھریٹ الرٹ کی نذر ہوگئی۔ اس لیے آئندہ انتخابات کے سیاق و سباق میں تشدد، خوف و ہراس اور امیدواروں پر قاتلانہ حملوں کے واقعات سخت تشویشناک ہیں اور ایسے واقعات کو روکنا نہ صرف ملک و قوم کے مفاد میں ہے بلکہ سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کو ٹکٹوں کے اجرا اور تقسیم میں جن مسائل اور الجھنوں کا سامنا کیا اس کے پیش نظر اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ قانون شکنی اور تشدد کا پرچار کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ الیکشن کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرائے اور ان قوتوں کا راستہ روکا جائے جو مختلف حیلے بہانوں سے الیکشن کے حوالے سے بے یقینی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس ضمن میں ملک کے د ا نشو ر حلقوں کی اس رائے پر عمل ہونا چاہیے تھا کہ سیاسی جماعتوں کے جلسوں، انتخابی ریلیوں، کارنر میٹنگز اور گھر گھر رابطوں میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ ہر امیدوار کو ووٹرز تک رسائی اور اپنا مدعا بیان کرنے اور پارٹی منشور سے حلقہ انتخاب کے لوگوں کو آگاہ کرنے کی مکمل جمہوری آزادی حاصل ہو اور روادارانہ طریقے سے امیدوار آئندہ انتخاب کے لیے اپنی کمپین چلا سکیں۔ لہٰذا الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت پر لازم ہے کہ وہ اولین فرصت میں سیاسی ریلیوں، جلسوں اور انتخابی مہم کے دوران جمہوری روایات اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرائے۔ اس باب میں ارباب اختیار کسی قسم کی جارحیت، تشدد، دھونس اور خوف و ہراس پھیلانے والوں کو نہ بخشیں ۔ یہی شفاف انتخابات کے انعقاد کی طرف راست پیش قدمی ہوگی۔ ایک خوش آئند اقدام یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ملتان میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا سراج پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے جواب طلب کرلیاہے۔ امیدواروں کو سیکورٹی فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اتوار کو سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد کی جانب سے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ 25 جولائی 2018ء کو نگران وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس، جس میں تمام وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور نگراں وفاقی وزیر و سیکرٹری داخلہ نے شرکت کی ۔ اس میں سربراہان اور امیدواروں کو درپیش سیکورٹی خطرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اب اس تناظر میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اتوار کو کراچی کے قدیم علاقہ اور پیپلز پارٹی کے مضبوط گڑھ لیاری میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کے قافلے پر مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور ڈنڈوں سے قافلے میں شریک لوگوں کو دھمکایا گیا۔ پارٹی پرچم نذر آتش جبکہ گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے گئے۔ بلاول بھٹو انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے اپنے حلقے این اے 246 لیاری پہنچے تو جونا مسجد بہار کالونی کے مقام پر سینکڑوں مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے اور قافلے کو آگے جانے سے روک دیا۔ تاہم ریلی کے منتظمین نے تصادم سے گریز کی مثبت پالیسی اختیار کی ۔ بعد ازاں بلاول نے لیاری میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ دو سری جا نب چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے ہسپتالوں کا دورہ کیا، مسائل معلوم کیے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ایک صحافی کے سوال پر کہا یہ تاثر نہ دیا جائے کہ میں کسی کی مہم چلا رہا ہوں۔ میں نے کسی کی سیاسی مہم چلانے کا ٹھیکہ نہیں اٹھایا ہوا۔ میں ہسپتالوں کا دورہ کر رہا ہوں اور مریضوں کو درپیش مسائل کا ازالہ کروں گا۔ جبکہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ انتخابات سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ نیب پر دھاندلی کے الزمات ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہے۔ ادھر سابق صدر آصف زرداری نے سابق وزیر اعظم نوازشریف سے خفیہ ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کی سیاست یا پاور پالیٹکس کے ذریعے اقتدار میں آنے کے بجائے وہ اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 4 ہفتوں میں فیصلہ ہوجائے گا کہ یہ ملک قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا پاکستان بنے گا یا چوروں اور ڈاکوؤں کا۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا ہے کہ پنجاب کا نگران سیٹ اپ مکمل طور پر غیر سیاسی اور غیرجانبدار ہے۔ صوبے میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل معاونت فراہم کررہے ہیں۔ میر ااور میری ٹیم کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے قائد خادم حسین رضوی نے کراچی کے تمام حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ وہ انتخابی مہم چلانے کراچی پہنچ گئے ہیں۔ اس کے سا تھ سا تھ گورنر سندھ محمد زبیر نے بلدیہ ٹاؤن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے مسلم لیگ (ن) کے کارکن عابد تنولی کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ کا لم کو سمیٹتے ہو ئے کہنا چا ہو ں گا جو کچھ سا منے نظر آ رہا ہے، اس کے مطا بق مسلم لیگ ن کا انتخا با ت کے دورا ن ہو سکنے وا لے تشد د کا پہلے سے نو ٹس لیئے جا نے کا مطا لبہ عین جا ئز ا قد ا م ہے۔ اور لکھنے کی ضر و ر ت نہیں کہ اس مطا لبے پہ عمل کیئے جا نے کا فا ئد ہ سب ہی پا ر ٹیو ں کو ہو گا۔


ای پیپر