28 سے6 جولائی تک
08 جولائی 2018 2018-07-08

نواز شریف کو سزاؤں کا مرحلہ گزشتہ سال 28 جولائی کو شروع ہوا اور 6 جولائی کو اسکا ایک اور فیز گزر گیا۔اب آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
اگرچہ انتظار کی گھڑیاں طویل سے طویل ہوتی چلی گئیں۔ایک کے بعد دوسرا التوا پھر دوسرا،تیسرا اور چوتھا۔جو فیصلہ صبح ساڑھے نو بجے آنا تھا وہ شام ساٹھے چار بجے معمول کے عدالتی وقت کے اختتام کے بعد۔ویسے تو یہ تاخیر بندہ مزدور کیلئے کوئی ایسی غیر معمولی بھی نہ تھی۔ جوڈیشل ایکٹوازم کے بعد سے خاص طور پر سابق چیف جسٹس (ر) افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک چلی۔تب سے آج تک ان گنت مرتبہ ایسا ہوا کہ پہلے سے اعلان کردہ وقت کی بجائے فیصلہ بر وقت نہ سنایا جا سکا۔افتخار چوہدری صاحب کے مقدمہ پر بنا فل کورٹ حتمی نتیجہ پر پہنچا تو صبح سے شروع انتظار کی سولی پر ساری قوم لٹکی رہی۔ قوم فیصلے کے انتظارمیں اور میڈیا پر سن معزز ججوں کے منہ سے نکلے الفاظ کو عوام تک پہنچانے کیلئے۔
پرابلم البتہ یہ ہے کہ سیون ٹونٹی فور چینلوں کو ہر صورت اپنے ناظر کو سکرین کی جانب متوجہ رکھنا ہوتا ہے۔ سکرین ذرا سی پھیکی یا بے رنگ ہوئے۔ ناظر سیکنڈ سے بھی کم وقفے میں چھلا نگ لگا کر اگلی سکرین پر۔ ذرا بھر بھی تردد نہیں کر نا پڑتا اپنی نشست گاہ پر بیٹھے بیٹھے۔محض اپنی انگلی کی ہلکی سی جنبش سے بٹن کو پش کر کے۔زمانہ جدید کی ایجاد ریموٹ کنٹرول نے سب کام آسان کر دیا۔
مسئلہ ناظرین کا یہ ہے کہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ان کو عدالتی فیصلوں سے زیادہ دوران مقدمہ مسلسل دیے گئے ریمارکس ٹِکروں کی شکل میں دیکھنے پرتے ہیں۔ جمعتہ المبارک کے روز معزز نیب جج محمد بشیر کی عدالت میں بھی ایسی ہی کیفیت تھی۔ ان کو تو محض فیصلہ سنانا تھا۔لیکن بندہ مزدوردرجنوں کیمرہ مینوں،رپورٹروں اور نکتہ بین تجزیہ نگاروں کو مسلسل سکرین پر حاضر رہنا تھا۔ شام کو ایونٹ کے اختتام پر محض یہ کہلوانے کیلئے کہ ہم بازی لے گئے۔
اب تو مقابلہ ویسے بھی سیکنڈوں کا ہے۔چند سیکنڈوں کی سبقت اور کچھ لمحوں کی تا خیر سپر سے زیروکر دیتی ہے۔ اس کو ریٹنگ کہا جا تا ہے۔ بہر حال تاخیر سے ہی آخر کار فیصلہ آ گیا۔ ایسے کہ عین آخری وقت پر وکلاء کے سوا موقع پر موجود میڈیا کے اکثر نمائندوں کو کو کمرہ عدالت سے باہر بھجوا دیا گیا۔
اب یہ معلوم نہیں کہ فیصلہ سناتے وقت کون کمرہ عدالت میں موجود تھا۔البتہ فریقین کے وکلاء ضرور موجود تھے۔ کچھ تصویریں البتہ ایسی ضرور دیکھیں کہ ایک رپورٹر بیت الخلا ء کے روشن دان سے با آواز بلند اپنے منتظر ساتھیوں کو تازہ ترین خبریں پہنچا رہا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں کمرہ امتخان سے باہر چوکس کھڑے بوٹی کی شکل میں کمک پہنچاتے احباب یاد آ گئے۔ بہر حال آخر کار فیصلہ آ گیا۔فیصلہ غیر متوقع نہ تھا۔ بندہ مزدور کی تو مارے خوف تقا ضائے احترام کے باعث عدالتی معاملات میں ٹانگیں کانپ جاتی ہیں۔ لیکن بہر حال شاید ہم ایسوں کی تربیت خوف کے ماحول میں ہوئی ہے۔ آج کل لوگ کہاں ڈرتے ہیں کسی سے۔ لائیوٹرانسمیشن کے دوران اینکر نے ایک مرتبہ نہیں کئی بار سوال کیا فیصلہ کیا ہو گا۔کیسا ہو گا۔ زبان نے ساتھ نہ دیا لہٰذا طرح دے گیا۔ اینکر سمجھی ہو گی ہے کوئی بزعم خور تجزیہ نگار،بے خبر انسان۔جس کو فیصلے کے متعلق معلوم ہی نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بزدلی پر دل ہی دل میں ہنستی ہو گی۔ لیکن دائیں ہاتھ بیٹھا ساتھی میری طرح ہر گز نہ تھا۔ باخبر لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔جو کچھ وہ آن سکرین بتاتے رہے وہی کچھ ہوتا چلا گیا۔ عدالتی فیصلہ سنانے میں تاخیر کی درخواست میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سب سے کم سزا۔جو کہا وہی ہوا۔لگتا ہے ضرور انہوں نے ٹیواہ بازی کی ہو گی۔
اگر چہ مجھے یقین ہے ان کو ٹیوہ بازی کا لفظ تہمت ہی لگے گا۔لیکن چونکہ وہ مصروف آدمی ہیں۔لہٰذا یقین ہے کہ ان تک یہ کالم نہیں پہنچے گا۔چلو ساتھی تجزیہ نگار کا قبل از وقت انکشاف تو ٹیواہ بازی کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔لیکن پھر اس قانون دان کا کیا کروں جس نے ذرا بھی لگی لپٹی نہیں رکھی۔ وہ خوش گفتار،خوش ادا اورخوش کلام کبھی ٹی وی میزبان بھی تھا۔ ہم بے خبروں کو بہت بعد میں پتہ چلا کہ وہ وکیل بھی ہیں۔ ورنہ وجہ شہرت ان کی گویوں کے معرو ف خاندان کی دامادی ہوا کرتی تھی۔
بہر حال اب وہ کئی ہای پروفائل مقدمات جیت چکے ہیں۔لائیو ٹرانسمیشن کے دوران ہی کسی ساتھی نے ان کے ٹویٹ کی طرف توجہ دلائی۔جس میں وہ فیصلہ جو بہت بعد میں آیا۔تفصیل سے سنادیا گیا تھا۔ پھر تو جیسے لائن ہی لگ گئی۔ کئی با خبر ساتھی جر نلسٹ حضرات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک مرتبہ نہیں بار بار تفصیلی فیصلہ بطور خبر بریک ہوا۔ جو خبر اتنی مرتبہ اور گھنٹوں پہلے بریک ہو جائے وہ ہرگز بریکنگ نیوز نہیں رہتی۔ بہر حال فیصلہ جو بھی آیا غیر متوقع نہ تھا۔ شریف خاندان کیلئے مسلم لیگ (ن)کیلئے حتیٰ کہ ان کئے سیاسی مخالفین کیلئے بھی نہیں۔ جیسا فیصلہ آیا رد عمل بھی ویسا ہی۔ جس فیصلے کے متعلق سیاسی مخالفین ہر روز اپنی ہرپریس کانفرنس میں، ہر جلسے میں،ہر ٹی وی شو میں مکمل ٹیکن کے ساتھ دعویٰ کر چکے ہوں۔
اس پر کوئی شا کنگ رد عمل نہ ہو تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔لہٰذا جشن منانے والوں،مٹھائیاں بانٹنے والوں کا رد عمل کوئی ایسا رنگین و سنگین نہ تھا۔ اکادْکا فرمائشی مٹھا ئیاں ضرور کھلا ئی گئیں،وہ بھی ٹی وی شینل کے کسی کیمرہ مین کی موجودگی میں۔
اسلام آباد میں تو میڈیا سیل کے ذمہ دار اہل کار فون اور واٹس ایپ میسج بھیج بھیج کر ہلکان ہو گئے۔ تب کیس جا کر کچھ کیمرے،مقام جشن پر پہنچے۔ البتہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کا رد عمل غیر معمولی تھا۔کوئی توڑ پھوڑ ہوئی نہ گھیراؤ جلاق۔ کوئی ٹائیر جلا نہ کھڑکیا ں ٹو ٹیں۔ کسی سرکاری عمارت پر حملہ ہو ا نہ پارلیمنٹ ہاؤس کے جنگلے توڑے گئے۔ پی ٹی وی کی عمارت بھی بچ گئی۔ میڈیا کی گاڑیاں ٹوٹی نہ خواتین سٹاف کیساتھ بد تمیزی کی گئی۔ شاید مسلم لیگیوں کو دور جدید کے طریقہ احتجاج سے کوئی واقفیت ہی نہیں۔
یہ بھی کوئی احتجاج ہے کہ اپنے کپڑے پھاڑ لیے،سر پیٹ لیے، سڑکوں پر نکل کر نعرے بازی کی۔ سو مسلم لیگی کارکنوں نے مری سے لیکر گلگت،ملتان سے کراچی تک احتجاج ریکارڈ کر ایا۔ کیونکہ جو بھی تھا وہ عدالتی فیصلہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) ماضی میں ایک مرتبہ عدالتی فیصلہ پر توڑ پھوڑ کر کے اپنے ماتھے پر یہ داغ لگوا چکی ہے۔ لہٰذا احتجاج اور توڑ پھوڑ میں فرق ہونا چاہیے۔
عدالتی فیصلہ اب عوام کی ملکیت ہے۔ اس کو تسلیم کر نے میں ہی جمہوریت پسندی ہے۔ فیصلے کے متعلق وکلاء کی رائے منقسم ہے۔ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو سخت سزائیں سنائی جا چکیں۔لیکن یہی فیصلہ کہتا ہے کہ ان پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ پانا مہ کے فیصلے میں بھی سزا کرپشن پر نہیں،اقامہ رکھنے پر ہوئی۔نواز شریف کا بیانیہ کل بھی یہی تھا کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔
اب وہ نئے فیصلے کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑنے جمعتہ المبارک کے روز وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رد عمل نے الیکشن کا لتوا چاہنے والوں کی امید یں خاک میں ملا دی ہیں۔ بعض عناصر کا خیال تھا کہ احتجاج کی آڑ میں الیکشن ملتوی کرنے کا بہانہ مل جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہو ا۔


ای پیپر