فیصلہ آگیا، فیصلہ ہوگیا
08 جولائی 2018 2018-07-08

فیصلہ آگیا، فیصلہ ہوگیا ، فیصلہ کم و بیش10ماہ بعد آیا، شاید یہی فیصلہ ہوا تھا کہ عام انتخابات سے20روز پہلے آئے۔ فیصلہ5بار تاخیر کا شکار ہوا۔ پتہ نہیں کیوں ،کمی بیشی پوری کی گئی۔فیصلہ6جولائی2018ء کو بروز جمعہ سنایا گیا۔ مگر یہ امتحانی پرچوں کی طرح پہلے ہی آؤٹ ہو گیا۔ بابر اعوان نے ایک روز قبل بتا دیا کہ قید اور جرمانے کی سزا ہوگی۔ عمران خان بہت دنوں سے کہہ رہے تھے نواز شریف واپس آئیں اڈیالہ جیل انتظار کر رہی ہے۔ فیصلہ سنتے ہی عمران خان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آگئی۔ کہا کہ نواز شریف کو سزا سے نئے پاکستان کا آغاز ہوگیا ۔ قوم نوافل ادا کرے۔ انکی قوم نوافل ادا کرنے کے بجائے بھنگڑے ڈالنے اور مٹھائیاں کھانے میں مصروف ہوگئی۔ نواز شریف106پیشیاں بھگت کر بھی احتساب جج کو مطمئن نہ کر سکے؟ کمال ہے، عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران ان سے390سوالات پوچھے۔350کو انہوں نے غیر ضروری غیر متعلقہ قرار دے کر کہہ دیا کہ مجھے علم نہیں، چند اہم سوالات کو انہوں نے سیاسی کہہ کر عدالت میں بھی سیاسی بیان دینا شروع کر دیئے۔ ان حالات میں تو یہی فیصلہ آنا تھا۔ میاں صاحب نے ریفرنس کو شاید سنجیدہ نہیں لیا اور بقول شخصے کسی معجزے کا انتظار کرتے رہے۔ بھول گئے کہ معجزے رونما ہونے بند ہوگئے۔ موجودہ دور خدشات و امکانات کا ہے۔ آپ کے پاس کوئی دلیل ہے ؟ نہیں ہے، تو عدالت کا فیصلہ یہی ہوگا ،نواز شریف کو1+10، مریم کو1+7اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید، سابق وزیر اعظم کو80لاکھ، صاحبزادی کو20لاکھ پاؤنڈ جرمانہ، لندن فلیٹس بحق سرکار ضبط۔ بینکوں کی خدمات حاصل نیں کر سکیں گے۔ دولت تیسری یار لٹی، جیبیں خالی، بینکوں سے انکار، نان جویں کو محتاج ،نئی حکومت میں نئے امیروں کی صف بندی انتخابات کے بعد ہوگی۔ ایک سے ایک امیرپڑا ہے نواز شریف سے خوش بختی ایک بار پھر روٹھ گئی۔ ’’ وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔ آصف زرداری نے فیصلے سے ایک دن پہلے کہا کہ میاں صاحب نے لندن میں سیاسی پناہ لے لی ہے۔ اسکی تو تردید ہوگئی۔ میاں صاحب نے کہا کہ اہلیہ کو ہوش آجائے تو فوراََ وطن واپس آجاؤں گا، یار لوگوں نے سنتے ہی ہتھکڑیاں تیار کر لیں۔ تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کے شایان شان ہتھکڑیاں۔ ایک ٹی وی چینل نے تو انہیں جیل میں چکی پیستے دکھا دیا۔ نواز شریف نے کہا’’ مشق سخن جیل میں بھی جاری رہے گی‘‘ نیا تجربہ ہے، انہیں زرداری سے پوچھنا ہوگا کہ انہوں نے11سال جیل میں کیسے گزارے تھے۔ کتنے من آٹا چکی میں پیسا۔ مگر زرداری سے تو کٹی ہے۔ مشورہ کون دیگا، چوہدری نثار کچھ بتا سکتے تھے لیکن وہ تو ’’ جیپ‘‘ پر سوار ہوکر شیر کا شکار کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ کہیں سے رہنمائی نہ ملے تو میاں صاحب کو دعا کرنی چاہئے کہ ’’اے خدا تو مجھے اتنی تو بینائی دے۔ جو نظر آتا نہیں وہ نظر آنے لگ جائے‘‘۔ تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کو سامنے کی چیزیں بھی نظر نہ آئیں تو انکے لئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ ایون فیلڈ فلیٹس کیسے خریدے، پیسہ کہاں سے آیا؟ کہانیاں سنانے کے بجائے سادہ جوابات تھے کہ میں نے تو سیاست میں قدم رکھتے ہی کاروبار سے علیحدگی اختیار کرلی تھی والد محترم نے پیسے کمائے، دو بار تباہ ہونے کے بعد انہوں نے قطریوں کے ساتھ سرمایہ کاری کی لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ کاغذ نہ رسید، پرانے آدمی تھے، اربوں کا کاروبار اعتماد اور اعتبار کی بنیاد پر کرتے رہے۔ انکے انتقال کے بعد حسین نواز نے قطری شہزادوں سے دادا جی کی سرمایہ کاری کا حساب مانگا۔ انہوں نے اپنے لندن کے فلیٹس دے دیئے۔ اتنی مختصر سی کہانی۔ جے آئی ٹی کے واجد ضیاء نے جرح کے دوران اعتراف کیا کہ نواز شریف کی ملکیت کا ثبوت نہیں مل سکا۔ حیرت ہے دس ماہ تک وکلا الف لیلوی کہانیاں اور ارسطو افلاطون کے فلسفے بیان کرتے رہے۔ جج حضرات دو اور دو چار پر یقین رکھتے ہیں۔ دو اور دو کو بائیس کہا جائے تو ثبوت مانگ لیتے ہیں۔ بابر اعوان پی ٹی آئی کو پیارے ہوگئے۔ اعتزاز احسن کیوں وکالت کرتے۔ جو حاضر مال دستیاب تھا اسی سے کام چلانے کی کوشش کی گئی۔ کام نہ چلا اور فیصلہ آگیا۔ اب بیٹھے سوگ مناؤ ۔ فیصلہ مقدر تھا۔ تبدیلی ناممکن لیکن مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ ایک ریفرنس کا فیصلہ آیا دو باقی ہیں۔ مل ملا کر ستر اسی سال کی سزا اور کھربوں کے جرمانے۔ کہاں جا کر رکیں گے، بہت پہلے لکھا تھا کہ نواز شریف نرے لیڈر ہیں۔ سیاست دان نہیں۔ سیاست دان ہوتے تو فیصلہ کا اعلان ہوتے ہی سڑکیں احتجاج کرنے والوں سے بھر جاتیں لیکن لیڈر کی سزا کا سن کر ایک خاتون روئی ایک شخص نے کپڑے پھاڑے، تیسرے نے ٹائر جلائے۔20نے نعرے لگائے۔ ڈیڑھ کروڑ ووٹرز173ارکان قومی اسمبلی243ارکان صوبائی اسمبلی کہاں گئے؟ زندگی بھر ساتھ نبھانے والے چوہدری نثار، ظفر علی شاہ، زعیم قادری، غوث علی شاہ اور درجنوں ساتھی نگاہیں چرا کر تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئے۔ اتحادی ہاتھ کر گئے۔ نواز شریف نے کوئی بند نہ باندھا۔ خوش فہمیوں کے جال میں الجھے غلط فہمیوں کو ہوا دیتے رہے، یہی ہونا تھا۔ مشکلات کہہ کر نہیں آتیں۔2013ء میں شیر کی گھن گرج سنائی دیتی تھی2018ء میں تیر چل رہے ہیں۔ بلے سے نشانے لئے جارہے ہیں اور جیپ میں سوار سیکڑوں امیدوار اپنے ہی شیر کا شکار کرنے کیلئے بے تاب ہیں۔ ایک دریا عبور ہوا ہے، ڈوب کر ابھرے تو دوسرے دریا کا سامنا ہوگا۔ درخواست زیر سماعت ہے کہ نااہل ’’ مجرم‘‘ کے نام سے کوئی سیاسی جماعت رجسٹرڈ نہیں ہوسکتی۔ اسلئے نواز شریف کے نام کے لاحقہ سے موجود ن لیگ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ جس تواتر سے فیصلے آ رہے ہیں یہ فیصلہ بھی آگیا توسب کچھ ختم اور امیدوار کالعدم۔ سب کچھ ڈیمالیشن پلان کا حصہ ہے۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، مدھر دھنیں سنانے والے اور بہت سے ہیں یہ ان دنوں کی بات ہے جب آتش جواں تھا۔ آتش کو فیصلوں کی آگ نے جھلسا دیا۔ سخت جاں حریف کو فرصت ہی فرصت تھی۔ اس نے پانچ سال آتش کو انتقام کی آگ میں جھونکے رکھا جبکہ خود ریلیوں اور جلسوں میں اپنی تقریروں سے مقبولیت میں اضافہ کرتا رہا۔ اس وقت مقبولیت خطرناک حد کو چھو رہی ہے۔ سندھ میں پی پی کے پی کے میں پی ٹی آئی پنجاب میں ن لیگ کی مقبولیت میں صرف7فیصد کی کمی بیشی، پہلے مقبولیت پی ٹی آئی سے25فیصد زیادہ تھی۔ کم ہوکر7فیصد رہ گئی۔ انتخابات میں ان20فیصد ووٹروں کا کردار اہم ہوگا جو دہلیز پر بیٹھے آنے والے وقت اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مریم نواز نا اہل، شیخ رشید کے مقابلے میں حنیف عباسی کے ایفنڈرین کیس کا فیصلہ آگیا تو وہ بھی گئے۔ شیخ رشید کی جیت یقینی ہوگی، فیصلہ ہو چکا۔ ڈیمالیشن پلان25جولائی تک مکمل ہو جائیگا تب راوی آئندہ5سالوں تک چین ہی چین لکھے گا۔ سیاسی یتیم لائنوں میں کھڑے ہیں۔
یقین ہے کہ ن لیگ25جولائی تک مقدمات اور ریفرنسز کی پیشیاں بھگتتی رہے گی جبکہ عمران خان اور بلاول بھٹو رات دن انتخابی تقریروں سے عوام کے دل گرماتے رہیں گے۔ کیا اس کے بعد بھی کسی ’’ اچھی خبر‘‘ کی توقع کی جاسکتی ہے۔ فیصلہ ہوچکا، فیصلہ آ چکا، جسے کامیاب ہونا ہے اس کا چہرہ ابھی سے تمتما رہا ہے لیکن ڈیمالیشن پلان کے تحت ن لیگ کالعدم ہوئی تو بائیکاٹ کا اعلان ہوگا تب انتخابات کی کیا قانونی حیثیت ہوگی، کیا ملک میں سیاسی استحکام رہے گا؟ بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔


ای پیپر