جانبدار مغربی میڈیا
08 جولائی 2018 2018-07-08

یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ذرائع ابلاغ رائے سازی، ذہن سازی اور رجحان سازی میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حکومتیں بھی پالیسی سازی میں ذرائع ابلاغ کے آراء و افکار کو کلیدی اہمیت دینے پر مجبور ہیں۔امریکی و مغربی ممالک کے شہریوں کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اپنے میڈیا کی فراہم کردہ اطلاعات کو اس لئے درست تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا میں ’’متبادل ذرائع‘‘ موجود نہیں ہیں۔ حقائق و حالات نے ثابت کیا ہے کہ امریکی و مغربی میڈیا بھی مکمل طور پر آزاد میڈیا نہیں۔ان کی طنابیں بھی اپنے اپنے ممالک کی بعض نادیدہ اور غیر مرئی ایجنسیوں کے آہنی ہاتھوں میں ہیں۔ ان آہنی ہاتھوں نے امریکا و مغرب کے معصوم شہریوں کے اذہان و قلوب کومیڈیا کے زنداں خانے میں یرغمال بنا رکھا ہے۔
اس پر طرہ یہ کہ ذرائع ابلاغ پر امریکا و مغرب کی اجارہ داری ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس پرخالی خولی برہمی، خفگی اور ناراضگی مسئلہ کا حل نہیں اور نہ ہی اس پر کسی کو نالاں اور ناراض ہونے کی ضرورت ہے۔ اظہار برہمی سے حقائق بدل نہیں جایا کرتے۔ عالم اسلام کے مقتدر طبقات اس زندہ حقیقت کو فراموش کر چکے ہیں کہ عالمی سطح پر ان کی پسپائی اور ہزیمت کی ایک بڑی وجہ عالم اسلام کے پاس آزاد اور موثر سیٹلائٹ میڈیا کی عدم موجودگی ہے۔
یہ تو طے ہے کہ جدیدجنگ صرف اسلحی بالادستی کے بل بوتے پر ہی نہیں بلکہ کارگر اور موثر میڈیا کے ہتھیار کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ اس ضمن میں عالم اسلام کے متمول ممالک کی بے حسی اور غفلت ایک لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے پاس وسائل وذرائع کی اس قدرفراوانی اور طغیانی ہے کہ ایک بڑے میڈیا چینل کا قیام ان کیلئے کسی بھی طور کارناممکن نہیں۔عالم اسلام کو ابلاغیاتی سطح پر بھی ناقابل تسخیر بنانے کی ضرورت ہے۔
ان متمول اور دولت مند ممالک کے مقتدر طبقات کو یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ امریکا و مغرب کے وہ ذرائع ابلاغ جو اپنے شہریوں کے قلوب و اذہان کومخصوص پروپیگنڈہ کے حصار میں مقید کر سکتے ہیں، ان کیلئے کوئی بعید نہیں کہ وہ عالم اسلام کے شہریوں کے اذہان و قلوب پر شبخون نہ مار سکیں۔وقت آ گیا ہے کہ ثروت مند اور دولت مند اسلامی ممالک کے ارباب اقتدار و اختیار خواب غفلت سے بیدار ہوں اور عالم اسلام کے شہریوں کو اغیار کے پروپیگنڈہ کے پنجہ تسلط سے رہائی دلوائیں۔ اس باب میں سنجیدہ کردارکی ادائی کیلئے انہیں اب کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے۔ جب تک میڈیا کے محاذ پر امریکا و مغرب کی بالادستی اور تسلط کا توڑ نہیں کیا جاتا، عالمی رائے عامہ اجارہ داروں کے پروپیگنڈہ کے طلسم کا شکار رہے گی۔ عالم اسلام کے شہریوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اصل حقائق تک رسائی کیلئے ان کے پاس سرے سے کوئی اپنا اور قابل اعتمادابلاغیاتی ادارہ موجود نہیں۔ جب تک ایک ایسا موثر ادارہ قائم نہیں کیا جاتا، امریکی و مغربی شہری گمراہ کن تصورات و نظریات کی دھند کے اسیر رہیں گے۔ یہ امرغنیمت ہے کہ مغرب کے معدودے چند باضمیر اور باخبرحلقے امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ کے اس یکطرفہ مسموم و مذموم پروپیگنڈہ کا طلسم توڑنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
براعظم ایشیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں مسلمان قابل ذکر تعداد میں نہ پائے جاتے ہوں۔ ان میں سے بعض ممالک کے بعض صوبوں میں مسلمانوں کی تعداد مقامی مذاہب و رسومات کے پابند شہریوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود انہیں اپنی دینی اقدار و روایات اور شعائرکے مطابق زندگی بسر کرنے کی اجازت نہ دینا بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور اقوام متحدہ کے بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر کی سراسر خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ بھارت ، اسرائیل ، روس، فلپائن، سری لنکا، برما، چین اور تھائی لینڈ میں مسلمان اقلیت، اکثریت کے جبر اور مظالم کا سامنا ایک مدت سے کر رہے ہیں۔ بحیثیت اقلیت ان کے حقوق کی بہیمانہ اور وحشیانہ پامالی کا سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے۔ تھائی لینڈ کے جنوبی صوبوں میں مسلم آبادی بدترین حالات سے دوچار ہے۔ اکثریتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی چیرہ دستیوں کے ساتھ ساتھ انہیں ریاستی اداروں کے جبر کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
آج سے 13برس قبل تھائی لینڈ کی سیکورٹی فورسز نے ملک کے جنوبی حصوں میں ایک واردات میں 132 مسلمانوں کو شہید کر دیا ۔ اقلیت سے تعلق رکھنے والے 132شہریوں کی ہلاکت پر پوری دنیا میں صدائے احتجاج بلند کی گئی۔ ا اقوام متحدہ نے بھی تھائی لینڈ میں فوج کے ہاتھوں مسلمانوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا ۔ ان تحقیقات اور اقوام متحدہ کے حکم کا کیا بنا،کسی کو معلوم نہیں ۔ حالانکہ2005 ء میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس ایجنسی کے قائم مقام صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’یہ تحقیقات تیز رفتار اور شفاف ہونا چاہییں اور اگر سیکورٹی فورسز میں کوئی اس جرم میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے۔‘‘
تھائی لینڈ کے جنوبی صوبوں میں مسلمانوں کی واضح اکثریت کئی صدیوں سے آباد ہے۔ مسلم اکثریتی صوبوں کی مسلم آبادی کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ انہیں علیحدہ ریاست قرار دیا جائے اور ان کے صوبوں میں اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جائے۔ اس مطالبے کا جمہوری اقدا ر و روایات کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو بلا مبالغہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ آزادی چونکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اسلئے اس حق سے تھائی لینڈ کے مسلم اکثریتی صوبوں کے شہریوں کو بھی محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
11ستمبر2001ء کے بعد دنیا بھر کے اکثر بنیاد پرست ، جنونی اور انتہا پسند حکمرانوں نے فیشن کے طور پر امن و امان کی صورتحال کی دگر گونی، تخریب کاری کی واردات اور دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار اپنے اپنے ممالک میں بسنے والے مسلم شہریوں کو ٹھہرانا شروع کر دیا ہے۔ یہ روش اور وطیرہ کسی بھی طور مبنی بر انصاف نہیں۔ تھائی لینڈ کے مسلم اکثریتی صوبوں میں آباد مسلم قائدین کا مؤقف ہے کہ تھائی لینڈ کی سیکورٹی فورسز پر حملہ سمگلروں نے کیا نہ کہ حریت پسند اور آزادی کے طلب گار مسلمانوں نے ۔ اب تو تھائی لینڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ گذشتہ دنوں دہشت گردی کے جو واقعات ہوئے ہیں ان میں ’’علیحدگی پسندمسلمان‘‘ ملوث نہیں بلکہ یہ سب منشیات کے سمگلروں اور ان کے آلا کاروں کا کیا دھرا تھا۔
یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ آج دنیا میں جتنے بھی آزاد ممالک اقوام متحدہ کی رکنیت کے شرف سے مشرف ہیں آج سے نصف اور پون صدی قبل ان ممالک کے اکثر شہریوں کو مقتدر استحصالی اور استعماری طبقات اور ان کے نمائندے ’’علیحدگی پسند‘‘ قرار دے کر دارو رسن کی آزمائش گاہوں میں لاکھڑا کیا کرتے تھے۔ ایک دور کے علیحدگی پسند حالات کی کروٹ بدلتے ہی حریت اور آزادی کے علمبرداروں کے روپ میں سامنے آئے۔ ایسٹ تیمور کی آزادی کے بعد بھارت، کشمیر، سری لنکا، فلپائن ، تھائی لینڈ، چیچنیا، فلسطین ، قبرض، میانمار،اریٹیریا اور مشرقِ بعید کے کئی ممالک میں مسلم اکثریتی آبادی کی جانب سے آزادی کا مطالبہ کوئی ایسا بلا جواز مطالبہ بھی نہیں ۔ اقوام متحدہ کو اس امر کا جائزہ لینا چاہیے کہ دنیا بھر میں مسلم اکثریتی شہریوں کی آزادی کی تحریک کس حد تک توانا اور قوی ہے۔ تاہم اس امر کی تحقیقات بھی اشد ضروری ہیں کہ نہتے مسلمانوں کے خلاف کارروائی سے قبل مذاکرات کا راستہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس ایجنسی کے اس مطالبے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے عالمی برادری کو اپنا دباؤ بروئے کار لانا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر، فلسطین ، افغانستان اور میانمار میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار ریاستی مشنری کو کڑی سزادی جائے۔


ای پیپر