قصور کا امتحان
08 جولائی 2018 2018-07-08

آج کل ملک میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ پورے ملک میں انتخابی اکھاڑہ سج چکا ہے۔ اخبارات اور نیوز سٹوڈیوز میں پنجاب کے حوالے سے جو تجزیے چھپ رہے ہیں اور نشر کیے جا رہے ہیں ان میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کا ذکر بہت کم ہوتا ہے۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کے بہت کم حلقے ایسے ہیں جہاں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار نہ صرف مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ جیت بھی سکتے ہیں۔ قصور کا حلقہ این اے 137 بھی انہی حلقوں میں سے ایک ہے۔ یہ حلقہ قصور شہر اور تحصیل قصور کے دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہ حلقہ فہروز پور روڈ پر مصطفےٰ آباد ( للیانی) سے شروع ہو کر گنڈا سنگو بارڈر تک جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف یہ حلقہ کھڈیاں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس حلقے میں ووٹرز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زائد ہے۔ 2013 ء میں اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار وسیم شیخ کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری منظور احمد دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
25 جولائی کے عام انتخابات میں اس حلقے میں پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کانٹے دار اور دلچسپ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ 2008 ء اور 2013 ء میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے وسیم شیخ توہین عدالت کے جرم میں سزا پانے کے بعد نا اہل ہو چکے ہیں۔ اور ان کی جگہ پر ان کا بیٹا مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لے رہا ہے۔ قصور شہر مسلم لیگ (ن) کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ جہاں پر (ن) لیگی امیدوار ہمیشہ اچھی کارگردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ مگر اس مرتبہ صورت حال مختلف ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو اس مرتبہ سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ قصور کی انصاری برادری مسلم لیگ (ن) کی جیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مگر اس مرتبہ شہر کی صوبائی نشست پر انصاری برادری سے تعلق رکھنے والے 4 امیدوار موجود ہیں۔ جس کے باعث ان کا ووٹ بینک تقسیم ہونے کا امکان ہے۔
تبدیلی کی دعویدار تحریک انصاف نے روایتی سیاستدان اور کئی سیاسی جماعتیں بدلنے والے سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی کو ٹکٹ دے کر تبدیلی کے دعوے اور نعرے کی عملی طور پر نفی کر دی ہے۔ سردار آصف احمد علی پیپلزپارٹی، جونیجو لیگ، (ق) لیگ، عوامی تحریک اور اب تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ وہ روایتی سیاست کرنے والے سیاستدان ہیں جن کا تبدیلی سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے۔ وہ 22 سال کے بعد اس حلقے سے دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
اس حلقے سے تیسرے امیدوار پیپلزپارٹی کے چوہدری منظور احمد ہیں جو کہ اس وقت پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ وہ 2002ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سے کامیاب ہوئے تھے۔ اگرچہ وہ 2008ء اور 2013ء میں کامیاب نہ ہو سکے مگر انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 2008ء کے عام انتخابات میں وہ اگرچہ کامیابی حاصل نہ کر سکے مگر انہوں نے قصور شہر میں عوامی فلاح و بہبود کے کئی منصوبے مکمل کروائے۔ وہ قصور کے عوام کو درپیش ہر اہم مسئلے اور معاملے پر عوام کی آواز بنے اور ان کے جذبات اور احساسات کی بھرپور ترجمانی کی۔
آج کل ملک میں تبدیلی، اہلیت اور میرٹ کا بہت چرچا ہے۔ میڈیا میں صاف ستھرے اور بدعنوانی سے پاک امیدواروں کے حوالے سے بھی بہت گفتگو ہو رہی ہے۔ اگر اس حوالے سے دیکھا جائے تو اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر اگر کوئی امیدوار قصور کے عوام کے ووٹ کا حقدار ہے تو وہ پیپلزپارٹی کے امیدوار چوہدری منظور احمد ہیں۔ وہ صاف ستھرے کردار، عوامی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے کاموں اور 2002ء سے 2008ء تک قومی اسمبلی میں اپنی کارکردگی کی بنیادپر اس اہل ہیں کہ انہیں میرٹ پر ووٹ دیں۔ وہ سرمائے کی سیاست نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے سیاست کو کمائی کرنے اور جیبیں بھرنے کا ذریعہ نہیں بنایا۔ وہ ایک نظریاتی سیاسی کارکن ہیں جو زمانہ طالب علمی سے پیپلزپارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں اور کبھی بھی اپنی سیاسی وابستگی کو تبدیل نہیں کیا۔ ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں دولت کمانے اور سیاسی وابستگی تبدیل کرنے کے مواقع نہیں ملے۔ جب وہ 2002ء میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے تو انہیں پیپلزپارٹی چھوڑنے اور مسلم لیگ (ق) کی حمایت کرنے کے عوض وزارت اور پیسے دونوں کی پیشکش کی گئی مگر وہ غیر متزلزل طور پر پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ اگر وہ روایتی کامیاب سیاستدانوں کی طرح ہوا کا رخ دیکھ کر وزارت کے مزے لوٹتے اور کروڑوں روپے کماتے تو ان کا شمار شاید عام معنوں میں ’’کامیاب سیاستدانوں‘‘ میں ہوتا مگر انہوں نے اپنے ضمیر ، نظریات اور سیاسی وابستگی کا سودا نہیں کیا۔ 10 مرلے کے گھر میں رہنے والے چوہدری منظور کا مقابلہ سرمایہ داروں اور بڑے زمینداروں سے ہے۔ ان کے مقابلے میں برادری، سرمائے، دھونس اور طاقت کی بنیاد پر سیاست کرنے والے ہیں جبکہ چوہدری منظور احمد اپنے نظریات، شرافت اور عوام سے تعلق اور محبت کی بنیاد پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔
قصور کے عوام نے دراصل 25 جولائی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے روایتی سیاست کو ووٹ دینا ہے یا پھر اپنی نمائندگی کے لیے ایسے امیدوار کا انتخاب کرنا ہے جو خدمت، دیانت اور شرافت کا علمبردار ہے۔ قصور کے عوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے تھانے، کچہری ، طاقت اور دولت کی سیاست کرنے والوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے یا پھر نظریاتی سیاسی کارکن کو منتخب کرنا ہے۔ انہوں نے ایسے امیدوار کا انتخاب کرنا ہے جو اسمبلی میں پہنچ کر نہ تو اپنے علاقے کے عوام کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور نہ ہی اتنی اہلیت اور قابلیت رکھتے ہیں کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کے جذبات، خیالات اور احساسات کی ترجمانی کر سکیں۔ حلقے کے نوجوانوں، مزدوروں، کسانوں، طالب علموں، خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کر سکے۔
میں یہ بات پورے وثوق اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر چوہدری منظور احمد یہ انتخاب جیت گئے تو یہ ان چند ارکان اسمبلی میں سے ایک ہوں گے جنہیں اپنے انتخابی اخراجات کے گوشوارے اور تفصیلات جمع کرواتے وقت جھوٹ نہیں بولنا پڑے گا اور نہ ہی جعل سازی کرنا پڑے گی کیونکہ وہ اس سے زائد پیسے خرچ ہی نہیں کریں گے۔
25جولائی کو قصور کے عوام کا امتحان ہو گا کہ وہ دیانت، اہلیت اور خدمت کو ووٹ دیتے ہیں یا پھر اپنی نمائندگی کے لیے روایتی سیاستدان کا انتخاب کرتے ہیں جو کہ ان کے مسائل میں اضافے کی اہم وجہ ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اس امتحان میں عوام سرخرو ہوتے ہیں یا نہیں۔


ای پیپر