تحریک آزادی کشمیر کے ہیرو برہان وانی شہید
08 جولائی 2018 2018-07-08

کشمیری کمانڈر برہان مظفر وانی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہا دت کو دو برس گزر چکے ہیں۔ غاصب بھارتی فوج نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کچلنے کیلئے تمام حربے اختیار کر کے دیکھ لئے لیکن نہتے کشمیریوں کے احتجاج میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پی ڈی پی کی کٹھ پتلی حکومت کے خاتمہ کے بعد گورنر راج میں شہداء کی میتیں ان کے لواحقین کے حوالے کرنے پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ بھارتی فوج نے بی جے پی حکومت کو درخواست کی ہے کہ شہداء کے جنازوں میں لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں ۔ خاص طور پر نوجوان جب کشمیری شہداء سے لوگوں کی محبت و عقیدت دیکھتے ہیں تو وہ بھی کشمیری مجاہدین کے ساتھ مل کر بھارتی فورسز کیخلاف برسر پیکار ہو جاتے ہیں اس لئے بھارتی فوج شہداء کو خاموشی سے دفنا دے تاکہ لوگ ان کے جنازوں میں شریک نہ ہو سکیں۔ بھارت سرکارکی تائید کے بعد بھارتی فوج نے اس مطالبہ پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا ہے اور شہداء کو ان کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کیا جارہا۔ بھارتی فوج نے پچھلے دو برسوں سے ظلم و دہشت گردی کی انتہا کر رکھی ہے تاہم کرفیو جیسی پابندیوں کے باوجود لاکھوں کشمیری سڑکوں پر نکل کر شہر شہر مظاہرے کررہے ہیں، زبردست ہڑتالیں کی جارہی اور کھلے عام پاکستانی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔ اکیس سالہ برہان کی شہادت نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور کشمیرکی سبھی سیاسی و مذہبی جماعتیں اور عوام جس طرح آج متحد نظر آتے ہیں اس سے پہلے کبھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ بھارت سرکار سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ بھارتی آرمی چیف، وزیر دفاع اور دیگر جرنیلوں و عسکری ماہرین کی طرف سے کشمیر کے دورے آئے دن کا معمول بن چکے ہیں۔جب برہانی وانی شہید ہوئے تھے توان کی نماز جنازہ میں تین لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ کرفیو کی پابندیاں توڑ تے ہوئے لاکھوں افراد سڑکوں پر آئے تو بھارتی فوج نے اپنے تئیں مظاہروں پر قابو پانے کیلئے جنازہ کے شرکاء پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں جس سے مزید کئی کشمیری شہید ہو گئے۔ ہندوستانی فو رسز کی اس درندگی پر پورے کشمیر میں آگ بھڑک اٹھی اور ہر گلی محلہ سے نوجوان سڑکوں پر نکل کر بھارتی فوج کیخلاف غم و غصہ کا اظہا رکرنے لگے۔اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ کشمیر میں تحریک آزادی پورے عروج پر ہے۔ بھارتی فوج ہر قسم کے وسائل اور صلاحیتیں صرف کرنے کے باوجود تحریک آزادی کشمیر پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔ بھارتی فورسز نے پیلٹ گن، پاوا شیل اور دیگر مہلک ہتھیار استعمال کر کے دیکھ لئے۔ سینکڑوں کشمیر یوں کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی ، ہزاروں زخمی ہوئے۔کشمیری تاجروں کو اربوں روپے مالیت کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کی فصلیں اور املاک تباہ کر دی گئیں لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ روزانہ اپنے جگر گوشوں کی لاشیں اٹھاتے اور پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں۔سبز ہلالی پرچم کشمیر میں ایسے نظر آتے ہیں جیسے یوم پاکستان پر لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں لہرائے جارہے ہوں۔ہندوستانی حکومت اور فوج کیخلاف نفرت کا ایک طوفان ہے جو ہر کشمیر ی بچے، بوڑھے اور نوجوان کے دل میں ہے۔ کشمیری قوم کا ہر طبقہ اس وقت سڑکوں پر ہے ۔ اس سار ی صورتحال نے ہندوستانی حکام، فوج اور عسکری اداروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بھارتی جرنیل اور عسکری دانشور علی الاعلان یہ باتیں کر رہے ہیں کہ کشمیر بھار ت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ بی جے پی کی نریندر مودی حکومت کی جانب سے کشمیریوں کی دن بدن مضبوط ہوتی آزادی کی تحریک کو کچلنا اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔کشمیریوں کاحریت پسندوں کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں پر کھیل جانا معمول بن چکا ہے۔ پورے کشمیر میں جس علاقہ میں بھی مجاہدین گھیراؤ میں آتے ہیں مردوخواتین، بچے اور بوڑھے ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر بھارتی فورسز پر پتھراؤشروع کر دیتے ہیں اور عسکریت پسندوں کے تحفظ کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا ۔ کشمیر کے یہ حالات دیکھ کر بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے بوکھلاہٹ میں کشمیریوں کو کھلی دھمکی دی کہ اگر وہ کشمیری مجاہدین کے تحفظ کیلئے بھارتی فوج کا محاصر ہ توڑنے کی خاطر پتھراؤ سے باز نہ آئے تو پتھر کا جواب گولی سے دیا جائے گااور ایسا کرنیو الوں کے ساتھ باغیوں کی طرح نمٹا جائے گا لیکن یہ دھمکیاں کسی کام نہیں آئیں۔ کشمیر کے عملی حالات یہ ہیں کہ جہاں کہیں کوئی کشمیر ی مجاہد گھیراؤ کے دوران شہید ہو تا ہے تو دوسرے علاقوں کے لوگ مقامی کشمیریوں کو طعنے دیتے ہیں کہ تم گھروں سے کیوں نہیں نکلے اور یہ مجاہدین شہید کیسے ہو گئے؟۔ اس وقت کشمیر کا ہر فرد تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ کشمیر کے ہر گلی کوچے سے اللہ اکبر اور پاکستا ن سے رشتہ کیالاالہ الااللہ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔بھارتی فوج نہتے کشمیریوں کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کررہی ہے۔گزشتہ کچھ عرصہ میں جن کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے ان کی لاشیں قابل شناخت نہیں رہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس آئے دن بند کر دی جاتی ہے۔ بھارتی فوج نے ہسپتالوں کو بھی ٹارچر سیلوں میں تبدیل کر رکھا ہے۔ زخمی
نوجوانوں کو ہسپتالوں سے اغواء کر لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کو زخمیوں کے علاج سے روکنے کے واقعات بھی معمول بن چکے ہیں۔ پیلٹ متاثرہ زخمیوں کی ایسی تصاویر سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر قلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کمانڈر ابوالقاسم اور برہان کی شہادت کے بعد سبزار بھٹ، جنید متو اور بشیر لشکری جیسے عظیم کمانڈر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں جس سے تحریک کو ایک نئی قوت ملی ہے۔ پورا کشمیر بھارتی ریاستی دہشت گردی کیخلاف سراپا احتجاج ہے۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کشمیر میں احتجاجی مظاہرے نہ ہوئے ہوں۔ کشمیری مسلمان پاکستان کو اپنا سب سے بڑا وکیل سمجھتے ہیں اور سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے وہ جرأتمندانہ پالیسیاں اختیار نہیں کی جارہی ہیں جو انہیں کرنی چاہئیں۔ بھارتی فورسز اہلکار کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے کشمیریوں کی نئی نسل کو اپاہج بنا رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ اورسلامتی کونسل جیسے اداروں نے بھی مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور پاکستانی حکمران بھی کشمیر کامقدمہ دنیا کے سامنے صحیح انداز میں پیش نہیں کر رہے۔ ماضی میں ہندوستان کی جارحانہ پالیسیوں کے مقابلہ میں موجود ہ حکومت کی طرف سے فدویانہ رویہ اختیا رکیا گیاجس سے تحریک آزادی کونقصان اور کشمیریوں کا اعتمادمجروح ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت کشمیرکے تازہ ترین حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کشمیری و پاکستانی قوم کے جذبات کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرے۔ کشمیریوں کے حق میں ایک دوبیانات دے دینا کافی نہیں ہے۔انہیں اپنی پالیسیوں کی اصلاح کرنی چاہیے ، دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرتے ہوئے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کشمیریوں کی پشتیبانی کا حق ادا کرنا چاہیے۔اسی سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی مضبوط ہو گی اور غاصب بھارت کے ظلم و استبداد سے نجات مل سکے گی۔


ای پیپر