وارث میر اور آج کا پاکستان
08 جولائی 2018 2018-07-08

دسمبر 1970ء ابھی کل کی بات لگتی ہے۔ میرا پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ فلسفہ میں داخلہ ہوا تو یہاں وارث میر صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی ، وارث میر شعبہ صحافت کے اُستاد تھے لیکن اُن کی ہمارے ایک اُستاد خواجہ غلام صادق صاحب سے بڑی دوستی تھی وہ اپنا فارغ وقت خواجہ غلام صادق، پروفیسر سی اے قادر، ڈاکٹر عبدالخالق اور کرامت جعفری صاحب کے پاس گزارتے اور ہمیں بھی اُن سے گپ لگانے کا موقع مل جاتا، یہ پاکستان میں سیاسی اضطراب کا دور تھا، پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات میں عوامی لیگ اکثریت حاصل کرچکی تھی لیکن اُسے اقتدار منتقل نہیں کیا جارہا تھا یحییٰ خان کی فوجی حکومت نے مشرقی پاکستان میں ملٹری ایکشن شروع کر رکھا تھا اور ہم اکثر اپنے اُساتذہ اور دوستوں کے ساتھ اس ملٹری ایکشن پر بحث مباحثہ کرتے۔ پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ ملنے کے چند ہفتوں کے بعد 27 جنوری 1971ء کو سٹوڈنٹس یونین کا الیکشن ہوا ، دوستوں کے اصرار پر میں نے بھی الیکشن میں حصہ لیا، حفیظ جان صدارت کے امیدوار تھے اُس کے مقابلے پر جہانگیر بدر نے قسمت آزمائی کی میں جنرل سیکرٹری کا اُمیدوار تھا میرے خلاف چوہدی انور نے الیکشن لڑا۔ ہمارے پینل کو ا سلامی جمعیت طلبہ کی غیر اعلانیہ حمایت حاصل تھی اور مخالف پینل کو پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل تھی، الیکشن میں حفیظ خان اور مجھے کامیابی ملی، مخالف پینل کا ایک امیدوار راشد بٹ نائب صدر کے عہدے پر کامیاب ہو گیا۔ سیاسی اختلاف کے باوجود ہم ایک دوسرے کے دوست تھے، رات کو اکٹھے بیٹھ کر چائے پیتے۔ وارث میر صاحب نیو کیمپس میں میرے ہوسٹل کے وارڈن تھے لہٰذا شام کو اُن کے ساتھ بھی محفل جمنے لگی اوراُنہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ، وہ سیاسی تعصبات سے بالا ترایک کھلے ڈلے اور سادہ انسان تھے، وہ رائٹ اور لیفٹ دونوں میں مقبول تھے۔ نئی سٹوڈنٹس یونین نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر علامہ علاؤالدین صدیقی سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر خیرات محمد ابن رساکی جگہ پروفیسر وارث میر کو سٹوڈنٹس ایڈوائزر مقرر کردیا جائے تاکہ ہمیں یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت کیساتھ کمیونیکیشن میں آسانی رہے۔ انہی دنوں وائس چانسلر نے سٹوڈنٹس یونین کو ایران یا ترکی کے دورے پر بھجوانے کا فیصلہ کیا، ہمارے دورے کے لئے رقم بھی مختص کر دی گئی لیکن مجھے ایران اور ترکی جانا گوارانہ تھا، میں نے ببانگ دہل کہا کہ ہمارے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے ہم سیر کیوں کریں؟ میں نے اعلان کردیا کہ ہم جائیں گے تو ڈھاکہ جائیں گے ، حفیظ خان نے میری تائید کردی ، وارث میر بھی ہم سے متفق تھے لیکن وائس چانسلر کو راضی کرنا ضروری تھا۔ یہ ذمہ داری وارث میر صاحب نے نبھائی اور یوں مجھے اور میرے ساتھیوں کو وارث میر صاحب کے ساتھ مشرقی پاکستان کا ایک یادگار دورہ کرنے کا موقع ملا۔مشرقی پاکستان میں ملٹری ایکشن مارچ1971ء میں شروع ہوا اور ہم وارث میر کے ساتھ اکتوبر 1971ء میں کراچی اور کولمبو کے راستے ڈھاکہ پہنچے کیونکہ بھارت نے پی آئی اے کی براہ راست پروازیں بند کرارکھی تھیں۔ سنہرے بنگال میں گزرے ان ایام کا کچھ ذکر میری کتاب’’میں باغی ہوں‘‘ میں موجود ہے، وارث میر صاحب نے بھی اپنے ایک سلسلہ مضامین میں اس دورے کا تفصیل سے ذکر کیا، یہ مضامین عامر میر کی مرتب کردہ کتاب’’ وارث میر کہانی‘‘میں بھی موجود ہیں۔ اس دورے کی وجہ سے بنگلہ دیش کی حکومت نے 2013ء میں وارث میر صاحب کو ایوارڈ بھی دیا، بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کی طرف سے شائع کردہ کتاب’’فرینڈز آف بنگلہ دیش‘‘ میں لکھا گیا ہے کہ وارث میر ملٹری ایکشن کے دنوں میں طلبہ کے ایک وفد کے ہمراہ ڈھاکہ آئے ، انہوں نے یہاں جو دیکھا اُس پر کچھ مضامین لکھے اور انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے یہ ایوارڈ فیض احمد فیض، حبیب جالب ، احمد سلیم ، ڈاکٹر اقبال احمد ، طاہرہ مظہر علی خان، میر غوث بخش بزنجو، ولی خان ، ملک غلام جیلانی، قاضی فیض محمد، بیگم نسیم اختر اور ظفر ملک کو بھی دیا، مجھے اطمینان ہے کہ میں اکتوبر 1971ء میں وارث میر صاحب کے دورہ مشرقی پاکستان کا اصل محرک تھا اور اُن کا ہم سفر بھی تھا، ہمیں کراچی میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد حسین نے بہت سمجھایا کہ مشرقی پاکستان نہ جائیں لیکن ہم اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر خیر سگالی کا پیغام لئے ڈھاکہ جاپہنچے۔ہمارے وہاں پہنچے ہی مکتی باہنی نے وارث میر سمیت ہم سب کے سروں کی قیمت 2 لاکھ روپے فی نفر مقرر کردی ، وہاں پہنچ کر ہمیں احساس ہوا کہ مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان کے متعلق اندھیرے میں رکھا گیا ہے، وارث میر صاحب پر بڑی ذمہ داری تھی، انہوں نے ہماری جان کی حفاظت بھی کرنی اور خیر سگالی کا مشن بھی مکمل کرنا تھا، وہ بڑی ہمت اور بہادری سے ہمیں چٹاگانگ اور جھیل کپتائی تک لے گئے۔ مشرقی پاکستان میں ہر طرف نفرتوں کی آگ بھڑک رہی تھی، ہماری مثال ایسی چیونٹیوں کی تھی جو اس آگ کو بجھانے کی کوشش کررہی تھیں۔ہم وہ ہفتے کے دورے میں ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں کو ملے ، ایک طرف مکتی باہنی اپنے ریڈیو سے ہمیں قتل کرنے کا اعلان کررہی تھی دوسری طرف ہم محمد پور اور میر پور کے بہاری کیمپوں کا دورہ کررہے تھے، ایک طرف ڈھاکہ یونیورسٹی کے اُساتذہ اور طلبہ ہمیں ملٹری ایکشن میں بے گناہوں کی اموات کے قصے سنارہے تھے تو دوسری طرف چٹاگانگ کے کمشنر ایس کے جیلانی ہمیں مکتی باہنی کی قتل و غارت کے ثبوت دکھا رہے تھے، ہم ڈھاکہ میں پی ٹی وی کے ہیڈ کوارٹر میں پہنچے تو ایسے انتظامات کئے گئے جیسے شہزادے اپنی رعایا کو ملنے آئے ہیں۔ایک ڈی ایس پی فیاض شاہ نے حکم جاری کیا کہ پی ٹی وی میں معمول کی نشریات روک کر نور جہاں کے پنجابی گانے نشر کئے جائیں کیونکہ ’’منڈے لاہور توں آئے نیں‘‘۔
ہم نے ڈھاکہ کے نواح میں دیکھا کہ کتے اور گدھ انسانی لاشوں کو نوچ رہے ہیں ، ہم اس ظلم پر احتجاج کے لئے ڈھاکہ میں پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے لیکن فوجی حکام نے اجازت نہ دی۔مجھے تھوڑی سی بنگالی آئی تھی میں نے ملتان میں اپنے ایک اُستاد پرویز آفتات سے بنگالی سیکھی تھی۔ یہ بنگالی مشرقی پاکستان میں میرے بہت کام آئی۔مجھے پتا چلا کہ عام بنگالی پاکستان سے محبت کرتا ہے لیکن اسے فوج کی حکومت قبول نہیں۔ جنرل اے اے کے نیازی سے ہم ڈھاکہ میں ملے تو انہوں نے کہا بھارت مداخلت کر رہا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر بھارت نے حملہ کر دیا تو کیا ہو گا؟ نیازی نے کہابھارت دس فوجیں لے آئے ہم لڑیں گے۔ اُس نے ہمیں انجوائے کرانے کا حکم دیا لیکن ہم اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکے تھے ، ہم سلہٹ اور راجشاھی نہ جا سکے تو میں جذباتی ہو گیا میں نے کہا میری لاش مغربی پاکستان جانے دو تا کہ انہیں پتہ چلے یہاں کیا ہو رہا ہے، لیکن وارث میر مجھے سمجھا بجھا کر واپس لے آئے۔ لاہور واپس آ کر ہم نے ایک پریس کانفرنس کی ہم نے مطالبہ کیا کہ اقتدار شیخ مجیب کے حوالے کیا جائے لیکن کسی اخبار نے ہماری خبر نہ چھاپی۔میڈیا آزاد ہوتا تو شاید پاکستان بچ جاتا۔پنجاب یونیورسٹی سے فارغ ہوکر میں عملی سیاست میں آ گیا۔ وارث میر صاحب سے کبھی کبھی ملاقات ہوجاتی تھی لیکن اُن کے اخباری مضامین اور کالموں کے ذریعہ اُن سے مستقل رابطہ رہا۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی ایک گرجدارآوازبن چکے تھے۔ اپنی حق گوئی کے باعث انہوں نے بہت تکلیفیں اُٹھائیں۔ اُن کی تکلیفیں آج بھی میری آنکھوں میں آنسو لے آتی ہیں۔ وفات سے کچھ دن پہلے لاہور میں ایک تقریب میں ملے تو بہت بجھے بجھے سے تھے، کہنے لگے تم نہیں جانتے یہ مجھے نہیں چھوڑیں گے ، میں نے دلجوئی کی کوشش کی تو وارث میر نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق کے ساتھی میری جان لینا چاہتے ہیں۔ میں نے اُن کے ساتھ چائے پی، رخصت ہوتے وقت کہنے لگے تم میری فکر نہ کرنا میرا اللہ مالک ہے، وارث میر صاحب کے ساتھ مشرقی پاکستان میں گزرے دوہفتے اور اُن سے وابستہ یادیں میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ 9 جولائی وارث میر کا یوم وفات ہے، اُن کے یوم وفات پر صرف اتنا کہوں گاکہ آج کے پاکستان کو 1971ء کے پاکستان سے زیادہ خطرات درپیش ہیں۔ خداراسنبھل جائیے۔ 1971ء والی غلطیاں نہ دہرائیے اور سچ بولنے والوں کے ساتھ وہ سلوک نہ کیجئے جو آپ نے وارث میر جیسے درویشوں کے ساتھ کیا۔


ای پیپر