اصل مجرم تو دو، تین، کا ”میاں“ شہباز شریف ہے
08 جولائی 2018 2018-07-08

میری سمجھ میں تو یہ بات نجانے کیوں نہیں آتی، کہ حالیہ طوفان خیز بارشیں اگر پیپلزپارٹی کا دورہوتا، یا تحریک انصاف، اور جماعت اسلامی سمیت ایم کیوایم کا دورہوتا تو نہ ہوتیں۔
یاپھر ان کے پیر صاحبان ، جوایوان صدر میں رہتے تھے، اور پانچ سال کی مراعات سے وہ بھی مستفیض ہوتے رہے، اور مشرف کے مرشد جادو ٹونے، یا کسی سفلی عمل سے روک دیتے، یا پھر معاذاللہ ہونے ہی نہ دیتے اسلامی حقائق اس قدر راسخ، پختہ، اور قابل یقین ہیں، کہ ان پر اعتماد کئے بغیر بنتی ہی نہیں، اور پھر وہ ہرانسان کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ تجدید ایمان کرلے، اور ایمان کو تازہ بھی کرلے، مثلاًجب بارشیں ہونا بندہوجائیں، اور قحط کا خطرہ لاحق ہو جائے، تو پھر حکمران وقت کے لیے لازم ہے ، کہ وہ نماز استسقاءپڑھے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے رحم وکرم کی درخواست کرتے ہوئے، حقیقی حکمران سے ابررحمت کی دُعا کرے۔ اب یہ نماز استسقاءصدر پاکستان نجانے ان کو حکمران کہتے ہوئے کیوں دل نہیں مانتا ، انہوں نے ایسی نماز استسقاءپڑھی کہ بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی، مگر میرے ذہن میں یہ بھی آیا کہ جی پی او کے باہر چو بیس فٹ چوڑا، اور غالباً چالیس فٹ لمبا، اور دس فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا تھا اورجسے مخالفین نے انتخابی مہم کا حصہ بناکر وہاں حکومت مخالف نعرے بھی لگائے اور دوسروں کو کوسنا بھی شروع کردیا تھا، کیا وہ گڑھا بھی شہباز شریف کی وجہ سے پڑا تھا، میں نے ان لوگوں کے نعروں پر کان نہ دھرکر اس حقیقت سے ردگردانی کرتے ہوئے کہ یہ ایک ایسا چوک ہے ، کہ جو قدرے گہرائی میں ہے ، اور چاروں اطراف سے سارا پانی یہاں جمع ہو جاتا ہے ، اور ایسے کام تو واقعی سپین میں بھی ہوجاتے ہیں، اور فرانس میں بھی، مگر شہر بھر میں جو چھتیں گری ہیں، درخت گر پڑے ہیں۔ لوگوں کے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا، جس سے لوگوں کا سامان تباہ ہوگیا، یوحنا آباد میں دو بچیاں بارش کے پانی میں ڈوب گئیں اور گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں، بجلی کی تاریں گرنے سے نیچے بہتے ہوئے اور جمع شدہ پانی میں کرنٹ آگیا، اور بعض جگہوں میں کچھ اموات بھی واقع ہوگئیں۔ بارشوں کی وجہ سے ایک جگہ ریلوے لائن بھی کچھ بیٹھ گئی، یہ سب شہباز شریف نے کرایا ہے ۔شاید اس لیے یہ گانا ” اے ابر کرم آج اتنا برس، اتنا برس،،،،کہ وہ جانہ سکیں
”قومی گانے“ کا درجہ اختیار کرتا جارہا ہے ۔ اب تک تو ہم نے یہ سنا تھا، کہ کسی کو ”کوسنا“ ہوتا تھا، تو کہتے ہیں، کہ تم نے تو بھٹہ ہی بٹھا دیا ہے ، کیا شہباز شریف کو بھی یہی کہا جائے گا، کہ شہباز شریف نے ہائیکورٹ کے مین گیٹ کے باہر بھٹہ بٹھا دیا ہے ، تو پھرمجھے پرسوں میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ سن کر یہ خیال آیا کہ صرف باہر بھٹہ ہی نہیں بیٹھا، انصاف کا اندر بھی جو بھٹہ بیٹھا ہے ، شاید یہاں اس کی نوک پلک ٹھیک کرکے اسے متوازن بنادیا جائے گا۔ مگر ایک بات ہم کروڑوں عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے ، کہ کسی بھی عدالت کو کیا یہ قانونی یا اخلاقی حق حاصل ہے کہ چاہے وہ شعوری یا لاشعوری طورپر فیصلہ حق میں یا خلاف سننا چاہتے تھے، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر صاحب نے فیصلہ محفوظ کرلینے کے باوجود صبح ساڑھے دس گیارہ بجے کا وقت دے کر، اور بار بار وقت تبدیل کرکے شام چار بجے فیصلہ کیوں سنایا، سو صفحات کی فوٹو کاپی کروانے میں کتنی دیر لگتی ہے ؟ اور ایک خاص بات یہ کہ احتساب عدالت سے ن لیگ کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی جمعے کا وقت دے کر لاکھوں لوگوں، اور جیالوں کی جمعہ نماز خراب کرنے یا قضا پڑھنے کا گناہ کیوں کماتے ہیں؟ حقوق انسانی کے دعوے دار، اور اس حوالے سے ملک کی سب سے بڑی عدالت، عوام کی پامالی حقوق کا موجب کیوں بنتی ہے ؟ وقت کی قدر کرنا، اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، ویسے میں ذاتی طورپر جب بھی ایسی صورت حال سے گزرتا ہوں، میں ججوں کے فیصلوں کے انتظار کی زحمت نہیں کرتا، بلکہ میں شیخ رشید اور عمران خان کے جسمانی تاثرات، اور بیانات پہ توجہ دیتا ہوں، تو پھر میں ان کی بزرگی ، بلکہ پہنچے ہوئے بابوں کی کرامات کا قائل ہوجاتا ہوں، اب سوال پیدا ہوتا ہے ، کہاں تک پہنچے ہوئے؟ جواباً عرض ہے ، کہ وہ تو چیف جسٹس کو بھی ساتھ لے کر چل پڑتے ہیں، قارئین کیا میں اور آپ ایسے کرسکتے ہیں، ہونا یہ چاہیے تھا، کہ جج صاحب، ہسپتال کا دورہ ضرور کرتے مگر اپنی مرضی کے مطابق مناسب وقت پر، اور وہ بھی اکیلے کیونکہ اب تو صرف کراچی میں ہی نہیں، ہرشہر میں کوڑے کے ڈھیر پہ کنوارے ماں، باپ کے نوزائیدہ بچے ملتے ہیں، اب میں ایسی باتیں کنوارے شیخ صاحب سے تو نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی کو شرم کروحیا کہہ کر خود کو نیک اور پارسا ثابت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اب تو یار لوگ ہربات پہ ثبوت مانگتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو شفا کاملہ عطا فرمائے، انہیں دل کی تکلیف ہوگئی ہے ، اور رقص درویش کی تمام تر ذمہ داری سید قائم علی شاہ کے نازک کندھوں پہ آپڑی ہے ، مگر وہ تو کوئی بھی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے خود حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے پچھلے دور میں جب وہ سندھ کے وزیراعلیٰ تھے، اور اس وقت کراچی کے صفائی کے حالات دگرگوں ہونے شروع ہوگئے تھے، ان سے صفائی کے بارے میں جب وہ ”جاگ “ رہے تھے، تو شاہ صاحب نے کہا تھا، کہ کراچی میں ، میں نے خود ”گٹروں کا طبی“ معائنہ کیا ہے اس پر خوش ہوکر ایک چینل نے اپنا نام ہی ”جاگ“ رکھ لیا تھا اور وہ صحیح کام کررہے ہیں اب اس حالت میں جب کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ ذاتی طورپر گٹروں کی صحت چیک کرتا ہے ، حالانکہ ماشاءاللہ وہ سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اور دور دورتک ان کے شجرہ نسب میں کوئی ایسے کام نہیں کرتا رہا۔
اب ، صوبہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ جو دن سے زیادہ راتوں کو کام چستی سے کرتے ہیں کیسے کہہ سکتے ہیں، کہ میری تو شہرت Long shoesپہن کر ، اور بارش کے پانی میں خودگھس کر، دوسرے محکموں کے افسران کو بغیر ”لانگ شوز“ پہنے بارش زدہ پانی میں زبردستی گھسنے پہ مجبور کردینے کی ہے اب ایک سنہری موقعہ ہے ، عدالت کو ازخود نوٹس لے کر افسروں کے حقوق کی پامالی کے الزام میںا نہیں کم ازکم دس سال تک نااہل کردینا چاہیے۔ کیونکہ عمران خان تو کب سے یہ کہہ رہے تھے، اور عوام نجانے کیوں ان کی بجائے عدالتی فیصلوں کا انتظار کررہے تھے، کہ اڈیالہ جیل نواز شریف کی منتظر ہے ، اور اس روحانی قوالی میں پورے عالم اسلامی کے شیخ، شیخ راولپنڈی اور عمران خان وہمنوا ان کا ساتھ دے رہے تھے، اب اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ اب شہباز شریف کی باری ہے ، تو قوم کو ان کے کراماتی بیان پہ یقین کرلینا چاہیے، حالانکہ فواد حسن فواد جنہوں نے امجد اسلام امجد کے نام کی نقل کرتے ہوئے اپنا نام فواد حسن فواد رکھ لیا تھا، نقل کرنے والے ایک نہ ایک دن ضرور پکڑے جاتے ہیں۔ قوم کو یقین نہیں ہے ، تو صرف الیکشن کمیشن والوں پہ ہے ، جنہوں نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ الیکشن سے قبل اب کوئی گرفتاری نہیں ہوگی، عمران خان نے علماءاور مشائخ سے خطاب کیا ہے ، اور کہا ہے 45فیصد بچوں کے دماغ کی نشوونما نہیں ہوتی، انہوں نے درپردہ نواز شریف پہ طنز کیا ہے کہ ابھی تم بچے ہو، کیونکہ اگلا بیان فواد حسن فوادکا آنا ہے ، لیکن اسے وعدہ معاف گواہ بنائے بغیر شاید معمہ حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ میرے اس کالم کو نواز شریف کے حق میں بالکل نہ سمجھا جائے، کہاں کیپٹن صفدر اور کہاں میں، نہ میں تین میں نہ تیروں میں، میں تو صرف بیگم کی یہ معاونت کرسکتا ہوں، کہ کچن والیوں سے آج کیا پکوایا جائے۔
پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے سے منع کرتے ہوئے، اور ذوالفقارعلی بھٹو شہید کی ضد پر ہنری کسینجرنے کہا تھا، کہ بھٹو اگر تم ایٹم بم بنانے سے باز نہ آئے، تو تمہیں ”نشان عبرت“ بنا دیا جائے گا، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ بھٹو شہید کو نشان عبرت بنادیا گیا۔ اگر بم بنانے والے کو نشان عبرت بنایا جاسکتا ہے ، تو دھماکے کرانے والے کو نشان عبرت کیوں نہیں بنایا جاسکتا، وہ کون سا، یہودیوں کا داماد ہے ؟ مگر جہاں تک دوسرے الزامات کا تعلق ہے ، تو وہ بے بنیاد اس لیے ہیں کہ ان کا کوئی ثبوت ہی نہیں، اور جن کا ثبوت ہے ، شاید وہ ناقابل گرفت ہیں ۔شکر کریں انہوں نے کلثوم نواز کو چھوڑ دیا ہے ، نواز شریف کو ان سے بات کرنے کا ارمان ہے ، اور ان کو، ان کے ”میاں“ کے خلاف بیان لینے کا شوق ہے ، شاید وہ ان کا چودہ دن کا جسمانی ریمانڈ لینے میں کامیاب ہو جائیں ۔


ای پیپر