موجودہ صورت حال اور عام لوگ
08 جنوری 2020 2020-01-08

پہلے خوشحال خٹک کی چند سطریں ملاحظہ ہوں:

”اہلِ شرکے لیے پنجہ¿ شاہیں پیدا کر اور اہلِ خیر کے لیے کبوتر سے بھی زیادہ حلیم وخاکسار بن جا،‘

شیر کا مقام یا تو پہاڑی دروں کی انتہائی بلندیوں پر ہوتا ہے یا پھر اس کی قسمت میں موت یا زنجیر ہوتی ہے“۔ نئے سال 2020ءکی آمد کے ساتھ ہی کچھ ایسے واقعات رونما ہونے لگے ہیں کہ آنے والے دنوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے لایا جاسکتا ہے، ....ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو ٹارگٹ کرکے شہید کردیا گیا ہے۔ امریکہ کا صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کے فیصلے سے قبل اور خاص طورپر آنے والے انتخاب میں کامیابی کے لیے امریکی عوام کی توجہ اپنی نالائقیوں سے ہٹانا چاہتا ہے،.... سو اس نے ایرانی جنرل کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ عراق میں سعودی حکومت کے لیے پیغام لے کر جارہے تھے۔ اس واقعہ نے اس سارے خطے کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ پاکستان کا مو¿قف فی الوقت درست ہے کہ ہمیں خطے میں امن خراب کرنے کی کسی بھی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان کا یہ فیصلہ بھی قابل تحسین ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

جس روز ایرانی جنرل کو شہید کیا گیا ہم لاہور سے دور ایک ایسی محفلِ درویش میں تھے جہاں آس پاس کے دیہات سے عام لوگ بھی تشریف فرما تھے۔

لوگ جب نئے سال کی خوشیاں منارہے تھے ہم اپنے درویش صفت بزرگ احباب کی محفل کو نکل پڑے۔ ڈیرہ نواب کی بستی میں سائیں مسکین کی کٹیا میں الاﺅ جل رہا تھا۔ اسے درویش لوگ ”مچ“ کا نام دیتے ہیں۔ آئیے یہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کی باتیں سنتے ہیں۔

کالم کے آغاز میں خوشحال خان خٹک کی لکھی سطریں، محفل میں مرددرویش بیان کررہے تھے۔ فرمایا : انسان اپنی اصل کو فراموش کرکے اس مختصر اور فانی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے۔ اس عارضی زندگی کے لیے لالچ حرص اور آرزوﺅں میں غرق رہنے سے ہماری روحانی صلاحیتیں مردہ ہوجاتی ہیں۔“

یہ بات جاری تھی کہ طارق لودھی نے ایران امریکہ کشیدگی کے حوالے سے بات شروع کردی ریاض بھٹی بولے :امریکہ نے ایرانی جنرل کو نشانہ بناکر اس خطے کو آگ میں جھونک دیا ہے۔ یہ واقعہ کسی بھی بڑی جنگ کا نقطہ آغاز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اب مسلم امہ کو متحد ہونا پڑے گا ورنہ ہم تباہی سے دامن نہیں بچا سکتے۔

ماسٹر دین محمد نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے خطرات کے لیے ہمیں بطور پاکستانی قوم کچھ نہ کچھ حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہمارے ہاں دشمن فرقہ واریت کو ہوادے سکتا ہے۔ ہمیں پہلے سے بھی زیادہ چوکنا ہونے کی ضرورت ہوگی۔ آج اگر خدانخواستہ ہماری زمین بھی جنگ کی آگ کے شعلوں میں گھر جائے تو ہم کیا کریں گے۔؟

ہم تو آپس میں لڑنے سے باز نہیں آئے، ٹی وی ٹاک شوز میں سیاستدانوں اور ان کے پارٹی عہدیداروں کو مرغوں کی طرح لڑایا جاتا ہے، “ انسان خوراک میں ملاوٹ کرکے ہم خود کو ہلاک کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔اس چند روزہ زندگی میں عیش و آرام کے لیے ”حرام“ مال بنانے سے باز نہیں آتے، بچوں کے کھانے پینے کی اشیاءمیں بھی ملاوٹ کرکے ان کی زندگی سے کھیلا جارہا ہے۔ ہم اپنی اولاد کے لیے ناجائز ذرائع سے دولت جائیداد بناکر خود کو بے سکون کرتے ہیں اور آخر کو کسی موذی مرض میں مبتلا ہوکر ”کومے“ میں چلے جاتے ہیں۔

مجید خاں نے کہا کہ اگر جنگ ہوتی ہے تو ہمیں اس میں ہرحال میں گھسیٹاجائے گا۔

بھارت اپنے اندرونی خلفشار سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔ امریکہ کو ایران سے نمٹنے کے لیے قریبی ہوائی اڈوں کی ضرورت پڑے گی تو بھارت اور افغانستان کو استعمال کرنے سے کیسے باز رہ سکتا ہے؟ ایسے میں پاکستانی عوام کو سوچنا ہوگا اور آپس میں اتحاد پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کرنی ہوگی۔ فرقوں کے ملاﺅں کی باتیں اَن سنی کرکے ہمیں بیرونی دشمنوں کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔

جمیل بادشاہ نے کہا کہ ہم تو ٹریفک کے قوانین کی پابندی نہیں کرتے اگلے روز سوہاوہ کے قریب ہماری گاڑی کو باقاعدہ پیچھا کرکے اور پھر ٹول پلازے پر سپیکر سے اعلان کرکے رکوایا گیا۔ ہمارے کاغذات مکمل تھے۔ ٹریفک آفیسر نے کہا گاڑی چیک کرنی ہے۔ ہم اتر گئے۔ آفیسر نے گاڑی چلائی اور بیس منٹ بعد واپس آیا اور آتے ہی بولا : ”گاڑی بیچو گے؟ ہم اس سوال پر اب تک حیران ہیں کہ ٹریفک افسران اس طرح بھی گاڑیاں خریدنے کا کام ڈیوٹی کے دوران کررہے ہیں ؟ یہ تو ٹریفک پولیس کا حال ہے عام آدمی سے کیا گلہ کریں؟

سائیں مسکین بولے !بات وہی ہے جو سرکار نے فرمائی ہے انسان حرص و ہوس کو چھوڑ کر زندگی گزارے تو معاشرہ پرامن اور خوشحال بن سکتا ہے، جہاں تک سیاسی مسائل کا تعلق ہے تو بات یہ ہے کہ

گل من کے ضمیر دی ٹریئے

کلیّ دا بھانویں ککھ نہ رہوے

یعنی دل اور ضمیر کی بات مان کر فیصلہ کریں تو اچھا ہے چاہے اس میں جان اور جہان بھی قربان کرنا پڑے تو کوئی بات نہیں۔ طارق لودھی نے کہا بالکل درست ہے سائیں جی! مجھے بھی شعر یاد آگیا اس پر بات ختم ہے کہ دُکھ گٹھڑی اٹھانی پڑے تو اٹھا لو :

پنڈ چاکے دُکھاں دی بھاری

تے علی علی کر بیلیا


ای پیپر