حریم زادے
08 جنوری 2020 2020-01-08

یہ حریم شاہ کون ہے۔اس کے پیچھے کون ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ ،، تحصیل اوگی سے تعلق رکھنے والی محکمہ جنگلات کے ایک گارڈ کی وہ بیٹی، جس کی ایک شادی ناکام ہوچکی اور وہ لڑکی کی ماں بھی ہے ،آدھی کابینہ تک ہی نہیں پہنچی بلکہ اس کا ہاتھ وزیراعظم کے شانے تک پہنچ گیا، کہا جا رہا ہے کہ اس کا نشانہ صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ گریڈ اکیس ،بائیس کے فیصلہ ساز بیوروکریٹ بھی بنے ہیں۔ سینئر صحافی پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اس عورت کے پاس بہت ساروں کی ویڈیوز موجود ہیں جو اطلاعات کے مطابق دوبئی کے بعد باکُو پہنچ چکی ہے اور کینیڈا میںسیاسی پناہ لینا چاہ رہی ہے۔چوتھا سوال یہ ہے کہ جنرل رانی اور قندیل بلوچ سمجھی جانے والی حریم شاہ کے ساتھ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔وزیراعظم کے ساتھ ملاقاتوں والی تصویریں شئیر کرنے والے ایک تجزیہ کار نے حریم شاہ کا مستقبل قندیل بلوچ سے بھی خوفناک اور دردناک بتایا ہے۔ اس کاکہنا ہے کہ قندیل کا تو ایک، دو سے تعلق تھا مگراس کے باوجود آج تک اس کے قاتل کا علم نہیں ہوا تو حریم بارے کیسے علم ہو گا کہ اس کے ٹکڑے کس نے کئے۔ میرے خیال میں حریم شاہ کا بھاگ جانا ہی اس کے مفاد میں ہے ورنہ یہاں واقعی اس کے اور صندل خٹک کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے جو حریم شاہ سے بھی زیادہ تلخ اور منہ پھٹ ہے۔

سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ حریم شاہ کون ہے تو ہم نے بتا دیا کہ وہ پی ٹی آئی کی حکومت والے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی تحصیل اوگی کے ڈاکخانہ شیر گڑھ کے گاوں نواب شاہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا اصل نام فضہ حسین ہے اور اس کے والدضرار حسین اپنی ایک ویڈیو ریلیز کرنے کے بعد عام لوگوں کے لئے اجنبی نہیں رہے، وہ محکمہ جنگلات کے ایک گارڈ بتائے جاتے ہیں۔ فضہ حسین کسی مالدار گھرانے کی ماڈ سکاڈ لڑکی ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کے والد بتاتے ہیں کہ انہوںنے اسے کالج تک نہیں بھیجا مگر اس کے شناختی کارڈ پرجہاں سیکٹر ایف الیون ٹو کے ایک فلیٹ کا ایڈریس بھی درج ہے وہاں اس نے ایک معروف مارننگ شو میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ تقابل ادیان جیسے مشکل اور حساس دینی موضوع پر ایم فل کر رہی ہے۔ فضہ حسین کی والدہ پرائمری سکول کی ایک ٹیچر ہیں جبکہ اس کے چچا ایک دوسرے سکول میں چپڑاسی ہیں۔ اس کی مشہور و معروف ساتھی صندل خٹک کا اصل نام صندل شمیم اور ولدیت حضرت علی ہے اور اس کا تعلق خیبرپختونخوا ہی کے ضلعے کرک کی تحصیل بانڈہ داود شاہ کے گاوں نری پنوس سے ہے۔ فضہ حسین المعروف حریم شاہ اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز سے مشہور ہوئی کہ اس کی ویڈیوز روایتی طور پرگانوں پر’ لپ سنکنگ‘ کی بجائے سیاسی مواد لئے ہوئے تھیں۔ محترمہ کاپہلا شکار ایک صوبائی وزیر تھے اور یہی ان کے پروموٹر بیان کئے جاتے ہیں۔ انہیں معروف اینکر مبشر لقمان کے جہاز میں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے اور پھر وہاں چوری کے الزام میں ملوث کئے جانے پر ملک گیر شہرت ملی اور پھر اس کے بعد ایک لمبی قطار ہے جس میں موصوفہ کی جہانگیر ترین ، عبدالعلیم خان، چودھری سرور ہی نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ بھی تصویریں ہیں۔ معاملہ اس وقت خوفناک ہوا جب انہوں نے وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد کی اپنے ساتھ قابل اعتراض گفتگو کی ویڈیوز ریلیز کیں اور کچھ دوستوں کے ذریعے دعویٰ کروایا کہ فواد چودھری اورایک خاتون سمیت دیگر وزرا کی ویڈیوز بھی ان کے پا س موجود ہیں۔ تحقیق طلب بات یہ ہے کہ یہ گوری چٹی خاتون محض اپنے حسن کے جادو سے وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ تک پہنچی یا اسے پہنچانے والے کچھ اورتھے؟

کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اقتداراور موقع پرستوں کا اجتماع ہے جس میں بہت سارے گروپس موجود ہیں۔ حریم شاہ اینڈ کمپنی نے اسی گروپ بندی سے فائدہ اٹھایا ۔ ایک گروپ نے اسے دوسرے گروپ کی ویڈیوز بنانے کے لئے لانچ کیا مگر وہ گروپ نہیں جانتا تھا کہ خود اس کی ویڈیوز بھی بن رہی ہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ ان خواتین نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کام کیا اور یہاں اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ اگر حریم شاہ پی ٹی آئی سے ہی تعلق رکھتی ہے تو اس نے اپنی ہی پارٹی پر خود کش حملہ کیوں کیا۔ جواب یہ ہے کہ اسے سہولت کاری کے ساتھ ساتھ شیخ رشید جیسے لوگ کثرت سے ملے جو ٹھرک بازی کو اپنا حق سمجھتے تھے ،یوں وہ سب آسان شکار ثابت ہوئے۔ میں نے جناب شیخ رشید احمد کی پہلی ویڈیو دیکھنے کے بعد ہی کہہ دیا تھا کہ مرد معصوم ہوتے ہیں اور وہ پیش قدمی کرنے والی عورتوں کے سامنے آسانی سے مزاحمت نہیں کر سکتے اگر وہ گوری چتی بھی ہوںمگر اس کے باوجود جب آپ ایک مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر آپ کو زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔ یہ سب سے اہم سوا ل ہے کہ حریم شاہ وغیرہ کو یہ ہمت ، جرات، طاقت اور سب سے زیادہ یہ رسائی کہاں سے ملی کہ اس کا ہاتھ وزیراعظم کے کندھے پر پہنچ گیا او روہ تصویرمل کر نیا پاکستان بنانے کے نعرے کے کیپشن کے ساتھ ٹوئیٹ بھی ہو گئی۔میں چاہتا ہوں کہ یہاں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے کردار کی تعریف کروں جنہیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم پر نااہل کرنا پڑا مگر ان کی کوئی قابل اعتراض تصویر یا ویڈیوسامنے نہ لائی جا سکی۔ مجھے نوے کی دہائی یاد آ گئی جب نواز شریف بطور اپوزیشن لیڈر اپنے ماڈل ٹاون والے گھر کے صحن میں ہر جمعے کو کارکنوں کی محفل سجایا کرتے تھے تو سردیوں کی ایک صبح گوجرانوالہ سے آئی ایک گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی کشمیری خاتون نے بطور کارکن خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کی ایسی تعریفیں کیں کہ بہت سار ی باتیں ذومعنی لگنے لگیں ۔ جیسے ہی اس بی بی کی تقریر ختم ہوئی نواز شریف نے روایت کے خلاف مائیک سنبھالااور اس خاتون کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کوئی درجن، ڈیڑھ درجن مرتبہ میری بہن، میری بہن کہہ کر پکارا،میں اب بھی اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو میرے ہونٹوں پر ہنسی آجاتی ہے۔

آج مرد اور خواتین وزیروں کو اپنی عزت کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ جناب فواد چودھری جہاں نیا پاکستان بنانے والے سمیع ابراہیم کے بعد مبشر لقمان کو بھی تھپڑ لگا رہے اور پارلیمنٹ میں اپنی عزت کے دفاع کے حق کا واویلامچا رہے ہیں وہاں خواتین وزرا ءبھی برے حال میں ہیں، میں وفاقی وزیر صاحبہ کے جارحانہ پن پر سوچ رہا تھا کہ اگر ان کی واقعی کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے تو وہ اتنی ہانپ اورکانپ کیوں رہی ہیں۔میں تو اپنے رب سے عزتوں کی حفاظت کی دُعا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے یہی سمجھتا ہوں کہ یہ سب مکافات عمل ہے۔ پی ٹی آئی کے اس ٹولے نے اپنے مخالفین کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا تھا۔ میں تو بیان بھی نہیں کر سکتا کہ اس گروہ نے مریم نواز کی شادی کے بارے میں کیا کیا لچر اوربے ہودہ فسانہ نگاری کر رکھی ہے جو انتہائی گھٹیا اور شرانگیز ہے دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ تحریک انصاف کو بھی اپنے دھرنوں کے حوالے سے کسی اچھے پروپیگنڈے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

’ آن اے سیریس نوٹ‘، ہمارے وزراءاور بیورورکریٹوں تک دو، چار عورت کا صرف اس وجہ سے پہنچ جانا اورمغلوب کر لیناکہ وہ گوری چٹی ہیں اور دستیاب ہیں ایک خطرناک معاملہ ہے۔ حریم شاہ بتائے یا نہ بتائے کہ اس کا شکار کون کون ہے مگر ہمارے تحقیقاتی اداروں کو ضرور کھوج لگانی چاہئے کہ یہ حریم زادے کون کون سے ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ اگر بھارت کی ایجنسی را نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ان حریم زادوں تک ان دونوں، تینوں عورتوں سے زیادہ گوری چٹی ، سمارٹ، سٹائلش اور سیکسی عورتیں پہنچا دیں تو یہ عورتوں کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوتے، رالیں ٹپکاتے وزیر، شذیر مملکت خدادادکے ساتھ کیا کریں گے؟


ای پیپر