Mushtaq Sohail columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
08 فروری 2021 (12:42) 2021-02-08

پی ڈی ایم کا استعفوں اور سینیٹ انتخابات سے قبل حکومت کو گھر بھیجنے کا ایجنڈا کہیں کھوگیا۔ جس کے بعد اپوزیشن نے صرف لانگ مارچ پر اکتفا کرلیا۔ 4 فروری کے سربراہ اجلاس میں تاریخ کا اعلان بھی کردیا گیا۔ 26 مارچ کو مہنگائی مارچ ہوگا۔ لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ پی ڈی ایم کا زور دار اور دھماکا خیز آغاز مایوس انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سارے آپشن معرض التوا میں ڈال دیے گئے استعفوں کا آپشن سینیٹ الیکشن کے بعد تک ملتوی فی الحال ساری توجہ سینیٹ الیکشن پر مرکوز، ہارس ٹریڈنگ شروع، ہر گھوڑے کی ابتدائی بولی  5 کروڑ ’’خریدے جس کا جی چاہے‘‘ ماہر امراض سیاست آصف زرداری کو کسی ’’ڈنڈا پیر‘‘ نے بتا دیا ہے کہ مل کے الیکشن لڑو 15 سیٹیں مل جائیں گی۔ انہوں نے پوری پی ڈی ایم کو اپنے پیچھے لگا لیا پوری  پی ڈی ایم ہی پیچھے چلی گئی۔ ’’ماہر امراض سیاست‘‘ کی لغت میں استعفے نہیں ہیں۔ سینیٹ الیکشن کے بعد تحریک عدم اعتماد اور مہنگائی مارچ، یعنی لانگ مارچ بھی غائب صرف مہنگائی کے خلاف مظاہرہ، کیا مظاہرے کے بعد شاہراہ دستور پر چند روزہ قیام بھی ایجنڈے میں شامل ہے؟ اہم سوال، مریم نواز سے پوچھ لیا مارچ کتنے دنوں کا ہوگا۔ جواب ملا انتظار فرمائیے کیا مطلب ٹی وی پروگرام چل رہا ہے یا حکومت مخالف تحریک ؟مارچ تو ظاہر ہے 31 دن کا ہی ہوگا۔ اس کے بعد اپریل فول، لانگ مارچ کے بعد نشستن برخاستن کتنے دن کی ہوگی کچھ کہنا قبل از وقت، شیخ رشید بڑھاپے میں خاصے ’’بولڈ‘‘ ہوگئے ہیں۔ اولڈ از گولڈ کی بجائے اولڈ از بولڈ اپوزیشن کو بھگو بھگو کے مار رہے ہیں۔ ادب آداب برسوں پرانے تعلقات سب ختم، بندہ اسی سے تو پہچانا جاتا ہے۔ ’’ادب کہاں کا کہ ہر روز دیکھتا ہوں میں، سیاستوںمیں تماشے مداریوں والے‘‘ کہنے لگے مذاکرات کرلیں ورنہ دو ماہ میں سیاست ختم ہوجائے گی۔ لانگ مارچ میں ادب سے آئو ورنہ وہ حشر کروں گا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔ خدائی لہجہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں لیکن وزیر اعظم کو پسند ہے۔ اسی لیے شیخ صاحب ’’بولڈ‘‘ ہوگئے ہیں،بولڈ ہی ہو گئے تو کیا کریںگے، ہمیں کیا اپنا برا بھلا سمجھتے ہوں گے۔ ’’چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے‘‘۔ دس بیس سال کوئی بھی لکھوا کر نہیں لایا، فضول باتیں چھوڑیں سینیٹ میں آئندہ ماہ  52 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔ جس کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد کے حوالے سے پی ٹی آئی کو 21، بلوچستان عوامی پارٹی کو 9، پیپلز پارٹی 7 اور ن لیگ کو  5 سیٹیں ملنے کا امکان، اونچ نیچ اللہ کو معلوم ہے پارلیمنٹ جمہوری نظام کے لیے نا گزیر اب تو آمریت میں بھی پارلیمنٹ ہی رہنمائی کرتی ہے۔ قانون سازی اس کا کام اپوزیشن کے بغیر لولی لنگڑی اور بے آبرو، اوپر والے سب کچھ جانتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں ارکان گتھم گتھا، ہاتھا پائی گالم گلوچ جوتے لہرانے کی بری مثالیں، قومی اسمبلی ایسی گری پڑی نہیں کہ ارکان کو دھکے دے کر گرایا 

جائے لیکن بد قسمتی سے موجودہ حکومت کے دوران ارکان کو صرف تیز مرچ مصالحے والی اشتعال انگیز تقاریر اور گالم گلوچ کی تنخواہیں اور لاکھوں کی مراعات دی جا رہی ہیں ایساکیوں ہے؟ ون وے ٹریفک سے جمہوریت نہیں چلا کرتی، دوسری قسم کے انقلاب آجایا کرتے ہیں۔ لیکن ضدی اور انا پرست حکمرانوں کو احساس نہیں ہوتا، بعد ازاں پچھتاوا ہوتا ہے، کئی بار بلکہ بار بار سمجھایا گیا کہ ’’کبھی مچان سے نیچے اتر کے بات کرو، بہت پرانے ہیں قصے شکاریوں والے‘‘ لیکن بے سود ،جب تک چور ڈاکو بھگوڑے قسم کے القابات ختم نہیں ہوں گے سیاست ٹریک پر نہیں آئے گی۔ شیخ صاحب مذاکرات کی ترغیب دے رہے ہیں لیکن کس سے کیے جائیں جن سے ہونے ہیں وہ ’’چوروں ڈاکوئوں‘‘ کی شکل دینے کے روادار نہیں، بڑے غیر جانبدار چھوٹے نرے جانبدار، بیل کیسے منڈھے چڑھے گی؟ قومی اسمبلی کا حال دیکھ لیا سینیٹ میں شو آف ہینڈز کا ترمیمی بل پیش ہوتے ہی تھرتھلی، گالم گلوچ، بقول شخصے اک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں، تلخ ترش تقریریں شروع ہوئیں شاہ محمود قریشی نے زندگی کا بڑا حصہ پیپلز پارٹی میں گزارا مگر پی ٹی آئی میں آتے ہی انقلابی بن گئے خارجہ پالیسی میں قدم تھرتھرائے تو ترجمانی کا منصب بھی سنبھال لیا دیکھ کر افسوس ہوا کہ لڑتی جھگڑتی پڑوسنوں کی طرح پی پی اور ن لیگ کے ارکان کو ہاتھ پائوں سے اشارے کر کر کے کوسنے دیتے رہے فواد چوہدری نے پھونکیں مار کر آگ تیز کی۔ مراد سعید نے آگ کی لپٹیں اپوزیشن بینچوں تک پہنچائیں پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے سارے شعلے سرکاری بینچوں کی طرف منتقل کردیے ان کی ایک بات دل کو لگی کہ چالیس سال پہلے میں نے تیر کے نشان پر الیکشن لڑا تھا چالیس سال بعد میرے بیٹے نے بھی اسی نشان کو اپنایا ہے کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے شاہ محمود ادھر ادھر دیکھتے رہے کہ انہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا مگر سب ان ہی کو دیکھ رہے تھے، ایسے اجلاسوں کا کیا فائدہ، سینیٹ میں بھی یہی کچھ ہوگا؟ یہی کردار یہی رویہ گریبان چاک لیڈروں کی موجودگی میں جمہوریت سر برہنہ ہی رہے گی۔ پی ڈی ایم تو تحریک عدم اعتماد اور سینیٹ الیکشن میں الجھ کر استعفے بھلا بیٹھی لیکن وزیر اعظم کو اپنا استعفیٰ یاد رہا، تلخ یادیں ذہن سے چمٹی رہتی ہیں گزشتہ دنوں انہوں نے بڑی فراخ دلی سے اپنے استعفے کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ لوٹی دولت واپس کردو آج ہی استعفیٰ دے دوں گا۔ سننے والے کان دنگ اور دیکھنے والی آنکھیں حیران رہ گئیں کہ یہاں تک تو پہنچے یہاں تک تو آئے۔ یادش بخیر سابق باس وردی کو کھال قرار دیتے دیتے غیر مشروط استعفے دے کر ملک کو خدا حافظ کہہ گئے تھے گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا تھا سمجھ لینا چاہیے کہ غیر مشروط استعفے پر عزت و احترام سے رخصت کیاجاتا ہے ورنہ ’’کرائے داروں‘‘ کے خلاف ڈگری ہوجاتی ہے۔ بڑا مہنگا استعفیٰ ہے۔ 200 ارب ڈالر واپس آئیں گے نہ استعفیٰ آئے گا۔ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی، نہ دینے کی باتیں ہوئی ناں، بخوبی جانتے ہیں کہ زور لگا کے دیکھ لیا ہاتھ میں 200 ارب ڈالر ملنے کی لکیر ہی نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ سے معاہدوں کے باوجود 200 ارب ڈالر نامعلوم، ثابت ہوا کہ استعفیٰ نہیں دیں گے ،نہ دیں دھیرج رکھیں کہ پی ڈی ایم بھی استعفے بھول گئی ہے، استعفے دے دیتی تو وزیر اعظم کے استعفے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ ضمنی نہیں یقینا قبل از وقت انتخابات ہوتے انتخابی مہم کے دوران بھلی مانس اپوزیشن ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ دکھا دکھا کر حکومت کو دھوبی پٹرا مارتی کہ حکومت کے 3 سال میں کرپشن بڑھ گئی مہنگائی نے عوام کا برا حال کر دیا، مہنگائی اپوزیشن کا بڑا ہتھیار ہے جس نے عوام کو حواس باختہ کر رکھا ہے۔ روز کا معمول بن گیا پیٹرول میں اضافہ سے چار روز قبل اخبارات اور ٹی وی چینلز پر ایک سمری کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ پیٹرول میں 12 روپے اضافے کی سمری بھیج دی گئی ہے چار دن بعد ہر مہینے کی پہلی اور پندرہ تاریخوں کو وزیر اعظم ’’غریب پروری‘‘ کا ثبوت دیتے ہوئے صرف تین چار روپے اضافہ کا اعلان کردیتے ہیں، ناں ناں کرتے ہوئے بھی پیٹرول 112 روپے لیٹر ہوگیا۔ اپنے لوگ کیوں نہیں سمجھاتے کہ عالی جاہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے پھر وہی بات کہ جب تک مہنگائی نہیں رکے گی زندگی کاپیہہ نہیں چلے گا کسی عقل مند کا یہ قول بھی یاد رکھیے کہ اپوزیشن کچھ کرے نہ کرے حکومت اپنے بوجھ سے گر جائے گی۔


ای پیپر