Sameera Malik Advocate columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
08 فروری 2021 (12:09) 2021-02-08

جب میں ترقی یافتہ ممالک کو دیکھتی ہوں جیسے کینیڈا اور آسٹریلیا وغیرہ وہاں کے سیاست دان کیسے ہیں اور پاکستان کے کیسے ہیں۔ہمارے ارد گرد سازشوں کی صورت میں اسوقت جو کچھ ہو رہا ہے ، سب سکرپٹڈ/پلانٹڈ ہے۔۔۔ اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں، سکرپٹ کون ، کہاں ، کیسے تیار کر رہا ہے۔

 اسلام آباد کلب میں محمد زبیر اور آرمی چیف کی ملاقات ہوئی۔ شریف خاندان بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے منتوں ، ترلوں پر۔ یہ جانتے ہیں جو کچھ ہو سکتا تھا یہ سب کر چکے ہیں، اب بیرونی طاقتیں پاکستانی نظام میں دراڑ نہیں ڈال سکتیں، نواز شریف کی سیاسی اوقات بھانڈا پھوٹ چکا ہے کہ اب وہ پی ڈی ایم سے یا پارٹی لیڈر شپ سے کوئی خطاب نہیں کر رہا ہے۔ ان کا پاسپورٹ 16 فروری کو ایکسپائر ہو رہا ہے۔ ن لیگ اب سینیٹ انتخابات میں بھی حصہ لے گی، فضل الرحمن کی پارٹی صدارت مکمل خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ یہ پارٹیز مکمل طور پر تتر بتر ہو چکی ہیں۔ آنے والے دنوں میں ن لیگ مزید پیروں میں پڑنے جا رہی ہے۔

براڈ شیٹ معاملہ پر ایسا بیانیہ ترتیب دینے کی کوشش جاری ہے کہ پاکستان کے عوام کو یہ بتایا جائے کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے، اس مقصد کیلئے حسین نواز کو میدان میں اتارا گیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ شریف خاندان کی کوئی جائیداد ثابت نہیں ہوئی۔ پاناما کے بعد بھی انکا طریقہ کار بالکل یہی رہا تھا، در حقیقت براڈ شیٹ ججمنٹ، برطانوی ثالثی عدالت کا فیصلہ، اس خاندان کے سیاسی گلے میں ایک اور پھندا ثابت ہو گا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ کے حوالے سے معاملات اسی لئے خراب کئے جا رہے ہیں۔ اب انکوائری کمیشن 1956 انکوائری ایکٹ کے تحت نہیں، بلکہ انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت بنایا جائے گا، جس کی قانون سازی نواز شریف دور میں کی گئی تھی۔ سربراہ براڈ شیٹ انکوائری کمیشن بدستور عظمت سعید شیخ صاحب ہی رہیں گے۔

فضل الرحمن، مریم نواز دھرنا، لانگ مارچ کے چکر میں ہیں، حکومت وقت تیار ہے، آئیں، پُر امن احتجاج کریں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ فضل الرحمن، پی ڈی ایم کو ناکام ہوتا دیکھ کر، ان سیاسی پارٹیز سے الگ اپنی سرگرمیاں تیز کر رہا ہے، مذہبی کارڈ بھی کھیلنا چاہتا ہے۔

پی پی، عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد موو کرنا چاہتی ہے، پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے، جمہوری حق استعمال کرنا چاہتی ہے۔ پی ڈی ایم واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، پی پی ایک طرف، فضل الرحمن، محمود اچکزئی، مریم نواز دوسری طرف۔ نواز شریف مسلسل لندن میں برادر اسلامی ملک و دیگر دشمن ممالک کے کنٹرول میں ہے، بیرونی عناصر کی مداخلت پر ہر صورت، موجودہ حکومت گرانا اولین ترجیح ہے، ایجنڈا، پلاننگ یہی ہے، خاموش رہو، افواج کے پیر چھپ کر پکڑتے رہو، سازشیں بنتے رہو، جونہی موقع ملے، ذاتی مفادات کی خاطر وطن، عوام و افواج کے خلاف ایکشن کر دو۔۔۔ 

آئی ایس آئی، ہیڈ کوارٹر دورے کے دوران آرمی چیف بیان دے چکے ہیں، اندرونی و بیرونی دونوں قسم کے خطرات سے نمٹا جائے گا۔ شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ کے 36 رہنماؤں سے 210 ارب روپے کی ریکوری کی گئی ہے ، ریاستی زمینوں پر غیر قانونی قبضے ، چیدہ چیدہ ، شخصیات یہ ہیں ، محسن رانجھا ، جاوید ہاشمی ، تہمینہ دولتانہ ، میر بادشاہ قیصرانی ، کھوکھر برادران ، میاں جاوید لطیف ، دانیال عزیز ، عابد شیر علی ، خرم دستگیر شامل ہیں۔یہ سلسلہ مزید جاری ہے۔ جبکہ بابر اعوان مشیر برائے پارلیمانی امور کے مطابق والیم 10 اب کھلنے جا رہا ہے ، جسٹس عظمت سعید شیخ کو دیکھ کر ن لیگ میں ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ 

پاکستان سے غداری ، قومی سلامتی کیخلاف کوئی کام افواج پاکستان و ایجنسیز برداشت نہیں کرتیں ، آئی ایس آئی کے بینظیر بھٹو دور کے سربراہ اسد درانی نے بھارتی را کے چیف ، اے ایس دلت ، کیساتھ ملکر سپائی کرونیکلز کتاب لکھی ، جس میں بہت زیادہ قابل اعتراض مواد موجود تھا ، یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1952 کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرز کی کئی اور کتابیں بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ، کتاب کی تقریب رونمائی کیلئے ، پاکستان سے جانا چاہا ، ملٹری لیڈر شپ کے کہنے پر ، وزارت داخلہ نے اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا ، اسد درانی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ نام ای سی ایل سے نکالا جائے ، یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، وزارت دفاع کی جانب سے جواب دیا گیا ہے کہ اسد درانی کے تعلقات را و دیگر ملک دشمن عناصر کیساتھ 2008 سے جڑے ہوئے ہیں ، اسکا ملک سے باہر جانا قومی سلامتی کیخلاف ہے ، آئی ایس آئی ، ایم آئی نے تفصیلی تحقیقات کی ہیں۔ ایسا شخص پاکستان سے باہر نہیں جا سکتا جس پر پاکستان کیخلاف سازش کا الزام ہو ، جس نے پاکستان کیساتھ اپنے حلف کی لاج نہ رکھی ہو۔ فروری کے دوسرے ہفتے میں سماعت متوقع ہے۔جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو نہیں بخشا جا رہا ، اسکے خلاف جواب ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا گیا ہے تو براڈ شیٹ کیس میں جتنے بھی جرنیل و سیاست دان انوالو ہیں ، کیا انکو بخشا جائے گا۔ سوال پیدا نہیں ہوتا۔

گوادر پورٹ سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کو خطے / بین الاقوامی محاذ پر برتری حاصل ہونے جا رہی ہے ، چین کے سب سے ایڈوانس ، چار جنگی بحری بیڑے جو2021 میں پاکستان کو ملنے جا رہے ہیں ، پوری دنیا میں صرف پیپلز لبریشن آرمی اسکو آپریٹ کرتی ہے ، الیکٹرو میگینٹک پلز ویپن ، سٹیلتھ ٹیکنالوجی کیساتھ دنیا کے جدید و نایاب ترین جنگی بحری جہاز۔ 

آخر میں کچھ پاکستانی سیاست پر ، بلوچستان سے ف کی چھٹی ، بڑے علماء کرام ، فضل الرحمن کا ساتھ چھوڑ چکے ، فارن فنڈنگ میں گواہ بننے کو تیار ، نیب میں کرپشن پر طلبی ، پارٹی قیادت ، پارٹی جاتی دیکھ کر وغیرہ وغیرہ ،خود کو شیرظاہرکرنے والا فضل الرحمٰن اب بھیگی بلی بن کر سیدھا پیروں میں گراہوا ہے۔اوربیان دیتا ہے ہماری کسی سے کوئی لڑائی نہیں ، اپنوں سے ہی گلے شکوے ہوتے ہیں۔ جبکہ کل تک یہ پاک فوج کا وہ حال کر رہا تھا جو افغان طالبان نے افغانستان میں امریکی افواج کا کیا تھا۔ انقلاب کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ دین فروشی کی سزا تو ملے گی۔ ان شاء اللہ ، پی ڈی ایم ختم ، ن ، ف ختم ، باقی اندرونی غداران کا انجام بھی ابھی سب دیکھیں گے۔ کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی ، عمران خان کو پی ڈی ایم کی جانب سے استعفیٰ دینے کی ڈیڈ لائن 31جنوری کیساتھ ختم۔ 73 سالہ پاکستانی تاریخ میں جب کوئی موومنٹ چلی اسکے بعد حکومت کمزور ہوئی ، موجودہ کرپٹ ڈکیت موومنٹ کی تحریک کے بعد موجودہ حکومت اور مضبوط ہو چکی ہے۔۔۔ کہتے ہیں خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔

 ترک صدر رجب طیب اردوان ، آئین تبدیل کرنا چاہتے ہیں ، 2023 سے پہلے وہ تمام قوانین ختم کرنا چاہتے ہیں جو 1923 خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد زبردستی ترکی پر نافذ کئے گئے تھے۔ ترکی کی سلطنت تین براعظموں پر محیط تھی ، جسے توڑ کر چالیس ممالک کی بنیاد رکھی گئی۔ معاہدہ لوزان کے خاتمے کیساتھ ہی ابھرتا ہوا مسلم ملک ترکی۔ سیکولر ترکی کی چھاپ ختم کر دی جائے گی ، یہ فیصلہ ان ممالک کو پسند نہیں آ رہا ، خلافت عثمانیہ توڑ کر جن ممالک کی بنیاد رکھی گئی تھی یا ان دشمن صیہونی قوتوں کو پسند نہیں آ رہا جنہوں نے خلافت عثمانیہ توڑنے کی سازش کچھ وجوہات کی وجہ سے کی تھی۔ دنیا تیزی سے نظریاتی جنگوں کی طرف بڑھ رہی ہے ، ایسے موقع پر مسلمانوں کو بھی ایک پلیٹ فارم اتحاد کیلئے چاہئے ، یہ پلیٹ فارم یا تو ترکی مہیا کرے گا ، یا پاکستان۔ 

ہمیں ہر صورت اللہ کی حاکمیت ، اللہ کے نظام کے نفاذ کی طرف جانا ہے ۔سیکولر ترکی کی بنیاد انگریز نے رکھی تھی ، آج ترکی اپنے اصل کی طرف لوٹ رہا ہے ، پاکستان کی سمت بھی بالکل یہی ہے۔


ای پیپر