08 فروری 2020 2020-02-08

21 ویں صدی کا انسان، کائنات میں اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز، بے تاج بادشاہ دن بدن تنزلی کی بدترین گراوٹوں، پاتالوں میں گرتا چلا جا رہا ہے۔ اللہ کی بے آواز لاٹھی ہر جانب کارفرما دیکھی جا سکتی ہے اگر ہیئے کی آنکھ نہ پھوٹ گئی ہو، کوربا طنی اور دیدۂ عبرت نگاہ سے محرومی نہ لاحق ہو۔ کورونا وائرس اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ (تاج سے مشابہ وائرس، اپنے قبیلے کا بادشاہ ہو گا) ایک سپرپاور کو مجبور و محصور کر کے رکھ دیا۔ 6 کروڑ شہری اپنے شہروں میں محصور ہیں۔ بس ٹرین ہائی ویز سب بند۔ خوفزدہ لوگوں نے اپنے اپنے علاقے مزید سیل کر لیے ہیں تا کہ باہر سے کوئی نہ آ سکے۔ رب کائنات اور اس کے نظام کے ہاتھوں انسان تمامتر ٹیکنالوجی ، طبی ترقی کے باوجود کتنا بے بس ہے! پہلے مچھر نے طرح طرح انداز بدل بدل کر حملے کیے ۔ مچھر کی اوقات دیکھئے۔ گویا دو دھاگے بل دے کر اللہ نے بندے پر چھوڑ دیئے۔اتنے مہین سے کیڑے میں نظام انہضام، اعصابی نظام، تولید و تناسل، گنگناتی آواز، پرپرواز،انجکشن تاک کر گھپ اندھیرے میں لگانے کی صلاحیت سبھی کچھ خالق نے دے رکھا ہے۔ مچھر ننھا سا ڈرون ہے جو کبھی ملیریا میزائیل بردار اور کبھی ڈینگی میزائیل کا وار کرتا ہے۔ نمرود سے لے کر چاند مریخ مسخر کر لینے والے تک سبھی پر یہ فتح یاب رہا۔ ہم مچھر ختم نہ کر سکے۔ ہمارے ہاں تو خادم اعلیٰ کے دور میں ڈینگی کے خلاف واک جا بجا ہوئی، بینر لہرائے سیمینار ورکشاپیں ہوئیں مگر مچھر کے مہین کان پر جوں تک نہ رینگی۔ کتنی بڑی صنعت دنیا بھر میں مچھر کنٹرول کے نام پر پیسہ بٹورتی ہے۔ اللہ کی پہچان کو تو ایک مچھر بھی کافی ہے۔ یضل بہ کثیراً و یھدی بہ کثیراًo اب تو بات نظر نہ آنے والی مخلوق کی ہے۔ بیکٹیریا وائرس کی اپنی ایک دنیا ہے جسے برہنہ آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں۔ جنوداً لم تروھا… یہ ا للہ کے وہ لشکری ہیں جو نظر بھی نہیں آتے۔ دل مردہ نہ ہو تو بات سمجھنی بہت آسان ہے۔ اللہ قرآن کی حقانیت پر قسم کھاتا ہے، ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے۔ یہ نہ نظر آنے والی بلا ہے۔ 2002ء میں ایسی ہی سارز (SARS) نامی بلاآئی تھی جس نے چین سے 26 ممالک کا سفر اختیار کیا تھا اور جسے کنٹرول کرنے میں 8 مہینے لگ گئے تھے۔ اشرف المخلوقات اور مسجود ملائک جب خالق کو بڑی محنت سے بھلا دے تو تنبیہات آتی ہیں۔ خالق کی پہچان ہر انسان کے لاشعور میں (وعدۂ الست: سورۃ اعراف) بہت گہری پیوست ہے۔ انسان کے خون کے ہر قطرے، ہر خلیئے ، ہر بن مو میں، ڈی این اے میں رب تعالیٰ کی پہچان وجدانی طور پر موجود ہے جسے بھلانا، جھٹلانا ممکن ہی نہیں۔ اس اعتبارسے کافر بھی اصلاً کافر نہیں ہوتا، بڑی ڈھٹائی سے روح میں اترے احساس کو جھٹلاتا ہے، جس اللہ کے وجود کا اقرار وہ دنیا میں آنے سے قبل کر چکا ہے۔ اسے آنکھوں کے سامنے پا کر لا الہ الا اللہ کہہ چکا ہے! سو یاد دہانی،تذکیر کیلئے آخری نبیٔ مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے تک، اس سے پہلے اور بعد، زندگی میں جھنجھوڑ ڈالنے والے جھٹکے انفرادی و اجتماعی آتے ہیں۔ سو آسمانی وبائیں ، بلائیں، آفات، سونامی، بپھری ہوئی آگ، طوفان، آتش فشانی، سبھی اللہ کی تنبیہات ہیں۔ ایسے ہی عذابوں اور گرفت کا تذکرہ اللہ سورۃ القمر میں بار بار کرتا ہے اور پوچھتا ہے ’پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات… ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟‘ (آیت 32،30) المیہ یہ ہے کہ آج

مسلمان خود فلاح کا نسخہ بھلائے کفر اور دنیائے کفر پر فریفتہ ہے۔ اس کا عاشق زار ہے۔ اپنی ذی شان وراثت بھلا کر جاہل یونانی رومی ، برہنگی بت پرستی کی تہذیب کے قصیدے پڑھتے ہیں! جتنے بھی عیب تھے وہ ہنر ہو کے رہ گئے، کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ پہلے ہم پڑھتے تھے… مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے … من اپنا پرانا پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نہ سکا۔ اب ہم حیرت سے مبہوت ہوئے بیان کرتے ہیں کہ چند دن میں ہزار بستر کا ہسپتال کورونا والوں کے لیے تعمیر کر دیا گیا۔ کتنے ماہر فن ہیں! یہ نہیں سوچتے کہ جب مساجد کی تعمیر، آبادی، رونق پر پہرے بٹھا دیئے جائیں، تکبیر کے در پے ہو جائیں تو عذابوں پر ہسپتال بنانے پڑ جاتے ہیں! جو باتیں عبرت طلب، پناہ طلب ہوتی ہیں ہم ان پر بھی بیٹھے رشک کناں ہوتے ہیں! اُدھر آسٹریلیا میں آگ نے ہوش حواس گم کر دیئے ایک ترقی یافتہ جدید ملک کے۔ اب تک (ستمبر 2019ء سے شروع) 110 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا۔ سائنس ٹیکنالوجی سے کنٹرول نہ ہو سکی، بارشوں ہی سے کچھ بہتری آئی۔ اب تک بھی مکمل قابو نہ پایا جا سکا۔ آندھیاں طوفان بھی جاری ہیں۔ پناہ بخدا! تاریخ کی بدترین آگ نے ہمہ گیر نقصان پہنچایا ہے۔ اسی کا سامنا امریکہ مسلسل کر رہا ہے۔ شہروں، گھروں کی بربادی اپنی جگہ، آگ سے سانس کی بیماریاں، معاشی تعلیمی، انفراسٹرکچر نقصانات، سیاحت کی صنعت برباد۔ غرض دنیا بھر میں مسلمانوں کا خون پینے والی ان بلاؤں کی گرفت ہر سو ہے۔ کوئی مستثنیٰ نہیں۔ بھارت الگ مودی کی انتہا پسندی کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ 11 دسمبر 2019ء سے مسلم دشمن (شہریت سے محرومی کی) ترمیم پر اٹھنے والی تحریک اب تیسرے مہینے میں داخل ہونے کو ہے۔ مرد، عورتیں بچے بلا تفریق مذہب، امیر غریب سبھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو، کے مصداق اب بھارت تھرا رہا ہے اس ملک گیر تحریک پر رہے ہم، تو ہمیں سونامی اور تبدیلی کے تھپیڑوں نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ آپ اپنی ہی صورت بگاڑنے کے در پے ہیں۔ سودی قرض آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ مہنگائی چاند مریخ کو چھونے چلی ہے۔ قوم کا ذوق ، اخلاقی بگاڑ، دلچسپیاں دیکھنی ہوں تو نظریاتی مملکت خداداد کا حال حشر بیان کرنے کو ڈراموں میں انہماک اس کے جسد روحانی کا گلاسڑا وجود دکھانے کو کافی ہے۔ شدید چیلنجوںاور خطرات میں گھرے ملک کو جس درجے درد، سوز و غم، حساسیت اور عزم نو درکار تھا،اتنا ہی یہ ڈراموں فلموں ناچ رنگ کے نشے میں ڈوبا بے حسی، دین بیزاری اور باہم جوتم پیزاری کا مرقع ہے۔ 5 فروری پر یوم یک جہتی کشمیر بھی ایک درجے میں ڈرامہ ہی محسوس ہوتا ہے۔ زبانی جمع خرچ ، پوسٹر، بینر، تصویری نمائش۔ کشمیری سوانگ بھرے لڑکیاں تھیڑی اہتمام کر کے کشمیریوں سے اظہار ہمدردی کرتی رہیں۔ فرض ادا ہو گیا۔ زخمی، قیدی، کرفیو، پابندیوں، بھوک، بھارتی فوج کی دہشت و درندگی کے مارے کشمیر کے شب و روز بدلنے کی حقیقی ٹھوس کوشش دور دور نظر نہیں آتی۔ پورا موسم سرما، لاہور اسلام آباد رنگ برنگ فیسٹیول، اختلاط، موسیقی بھرے مناتا رہا ہے۔ ہمارے مرد و زن کشمیر پر آنسو بہاتے ، فلسطینیوں ، شامیوں کے لیے دل گرفتہ نظر نہیں آتے۔ یہاں تو سوشل میڈیا پر المیہ ڈراموں کے مناظر پر ہچکیاں، سسکیاں، آہیں، کراہیں زیادہ خراجِ درد وصول کرتے نظر آتے ہیں! اقبالؔ نے کہا تھا ’خطاب بہ جاوید‘ میں: ’پرتعیش طرز زندگی، یعنی مال و اسباب کی کثرت دل سے سوز(حق کے لیے جلنا، درد) ختم کرد یتی ہے۔ اس سے دل میں ناز (تمکنت و غرور) آجاتا ہے نیاز اور انکساری جاتی رہتی ہے… میں نے دولت مند، آسودہ حال لوگوں کی آنکھ میں نمی (آنسو) بہت کم دیکھی ہے‘۔ (ترجمہ: انجینئر مختار فاروقی) اقبال غم سے دوبارہ مر جاتے اگر وہ یہ دھواں دھار آنسو دیکھ لیتے جو (فحش، دیوثیت، پارٹنر شپ کی ترویج والے) ڈراموںمیں ادا کارانہ المیوں پر نوجوان اور بڑوں نے یکساں طور پر بہائے! اللہ! ہم سے صرف نظر فرما۔ ہمیں معاف کر دے۔ (آمین)

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے قائدین نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کو جانیں کھپا ڈالی تھیں۔ آج امت کا قبلۂ اول امریکہ اسرائیل کے آخری آخری چرکے کھا رہا ہے۔ امن منصوبے کے نام پربیت المقدس پر قبضے کا دیرینہ یہودی خواب پورا کرنے کے در پے ہے۔ قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا یہ غم خوار، ہر خطے میں مسلمانوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتا رہا۔ آج ٹرمپ صدی کی ڈیل کا تذکرہ کر رہا ہے۔ فلسطینی شہروں پر متوقع اعلان کے پیش نظر بھاری اسرائیلی فوج کی تعیناتی ان کے عزائم کا پتہ دیتی ہے۔ فلسطینیوں کی پکڑ دھکڑ ، کم عمر قیدیوں پر بدترین تشدد بلا روک ٹوک جاری ہے۔ امت سو رہی ہے۔ ہماری آواز کشکولی چندہ طلب نعرے لگاتی بیٹھ گئی ہے۔غاصب، ظالموں جباروں کی خوشامد، چاپلوسی سے فرصت نہیں۔ ہم خود فقیر بے نوا ہو چکے۔ فلسطینیو، کشمیریو! جاؤ ہمیں پکار کر شرمندہ نہ کرو۔ طالبان کو آواز دو۔ ان کا جھنڈا لہراؤ ۔ فتح کے فارمولے اور نسخے ان کے پاس ہیں۔ ہم سے مدد مانگ کر ہمیں شرمسار نہ کرو۔

ایک دو زخم نہیں جسم ہے چھلنی سارا

درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے نکلے


ای پیپر