08 فروری 2020 2020-02-08

گائوں میں جب کوئی ختم خیرات ہوتواس دن غریب کی گائے گم ہوجاتی ہے۔یہ جملہ ہم نے ایک دونہیں ہزارباراورہزارلوگوں سے سنالیکن ہمیں اس کی کبھی کوئی خاص سمجھ نہیں آئی۔آج جب کچھ غریبوں کی قسمت قریب سے دیکھی تونہ صرف ہمیں اس جملے کی سمجھ آئی بلکہ غریبوں کی اس عجیب قسمت پررونے ،چیخنے اورچلانے کوجی چاہا۔کچھ غریب توپیداہی غریب ہوتے ہیں لیکن اوپرسے ایسے کچھ ،،بدقسمت غریبوں کو قسمت بھی ایسی غریب ملتی ہے کہ پھرزندگی کے کسی موڑپر غریب اورقسمت دونوں اکثرنہیں توبسااوقات ضرورایک دوسرے کامنہ تکتے رہتے ہیں ۔قاری محمدیوسف جوبٹگرام کے نواحی علاقے ڈھیری کی جامع مسجدکے امام تھے نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ہوش سنبھالنے سے پہلے انہوں نے خودکودین کے لئے وقف کیااوروہ ملک کے مختلف مقامات پردرس وتدریس کافریضہ سرانجام دیتے رہے۔پھراہل علاقے کے پرزوراصرارپرایک طویل عرصے تک وہ اپنے آبائی گائوں کی جامع مسجدکے نہ صرف امام رہے بلکہ وہ گائوں کے ہزاروں بچوں اوربچیوں کے استادبھی رہے ۔قاری محمدیوسف نے ایک پسماندہ گائوں اورعلاقے میں علم کی وہ شمعیں روشن کیںکہ جن سے آج بھی نہ صرف ڈھیری بلکہ دوردرازکے دیگرکئی اور علاقے بھی روشن ہیں۔قاری محمدیوسف نے تواپنے علم،عمل اورکردارکی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی قسمت بدلی لیکن آپ اگرقاری صاحب کی اپنی قسمت دیکھیں توآپ حیرت کے سمندرمیںغوطے لگائے بغیرہرگزنہیں رہ سکیں گے۔قاری محمدیوسف کودل کی معمولی سی تکلیف شروع ہوتی ہے جس پروہ گائوں سے کوسوں دورایبٹ آبادمیں ایک ہارٹ سپیشلسٹ ڈاکٹرسے ٹائم لیکران کے پاس پہنچ جاتے ہیں ۔ڈاکٹرصاحب تفصیلی چیک اپ کے بعدانجیوگرافی تجویزکرتے ہیں ۔مالی حالات ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے قاری صاحب دل کودلاسہ دینے والی چندادویات لیکرگائوں واپس چلے جاتے ہیں ۔ادھرادھرسے ادھارکرکے قاری یوسف انجیوگرافی کے وہ پیسے جمع کرکے ہسپتال دوبارہ پہنچ آتے ہیں اوریوں اس کے دل کی انجیوگرافی کاعمل مکمل ہوجاتاہے۔انجیوگرافی کی رپورٹ لیکرقاری صاحب جب اس ڈاکٹرکے پاس پہنچتے ہیں تووہاں قاری صاحب پریہ رازپھربے رازہوجاتاہے کہ آپ کے دل کے تین میں سے ایک والوبندہے جسے فوری طورپرکھولنے کے لئے دل میں سٹنٹ ڈالناضروری ہے اورسٹنٹ ڈالنے پرڈیڑھ سے دولاکھ روپے خرچ آئے گا۔انجیوگرافی کے بیس پچیس ہزارروپے جس کے پاس نہیں تھے وہ جب ایک والوکے بنداورسٹنٹ ڈالنے

کے ڈیڑھ سے دولاکھ روپے خرچے کی بات سنتے ہیں تووہ سرپکڑکربیٹھ جاتے ہیں ۔اسی لئے توکہاجاتاہے کہ اللہ غریبوں کو کورٹ کچہریوں اور ہسپتالوں سے بچائے۔ مشکل حالات ،آزمائش اور پریشانیاں یہ بلاشک وشبہ ہر انسان کی زندگی کاایک حصہ ہے لیکن جب ایک غریب پراس طرح کے حالات،آزمائش یاکوئی پریشانی آتی ہے توپھراسے دیکھ کردشمن کادل بھی پھٹنے لگتاہے۔ بہرحال قاری صاحب کوکسی نے مشورہ دیاکہ آپ بیت المال کے ذریعے کوشش کریں اس طرح فری میں آپ کایہ سٹنٹ ڈال دیا جائے گا۔ قاری صاحب نے بیت المال کے ذریعے کوشش کی ۔تین چارمہینے بعدانہیں پھرآرآئی سی راولپنڈی میںسٹنٹ ڈالنے کے لئے ٹائم ملا۔وہ دن اورلمحہ قاری صاحب کے لئے واقعی ایک بہت بڑادن خوشی کاایک یادگار لمحہ تھا کہ بیت المال کے ذریعے اس کے دل کابندوالوکھولنے جا رہا تھا مگر قارئین اب آپ اس قاری صاحب یا غریبوں کی قسمت کودیکھیں کہ یہ قسمت بھی ان غریبوں کے ساتھ کیاکیاکھیل نہیں کھیلتی ۔۔؟آرآئی سی کے ایک ماہر ڈاکٹرنے قاری صاحب کا علاج شروع کیا اور پھر جلد سٹنٹ ڈالنے کامرحلہ بھی مکمل ہوگیا۔ایک دودن ہسپتال میں رہنے کے بعدقاری صاحب گھرچلے گئے لیکن پھرکچھ ہی دن بعدقاری صاحب کودوبارہ بلکہ اس سے بھی زیادہ دل میں تکلیف شروع ہوگئی جس پرایک بارپھرقاری صاحب اپنے ایبٹ آبادوالے معالج کے پاس تشریف لے گئے ۔ایبٹ آبادمیں ہارٹ کے اس سپیشلسٹ نے جب قاری صاحب کی سٹنٹ والی سی ڈی اوردیگررپورٹس دیکھیں توقاری صاحب سے پہلے وہ خودسرپکڑنے پرمجبورہوئے۔یہ کیا۔۔؟قاری صاحب آپ کے دل کاجووالوبندتھا وہ تو بندہی ہے۔ ڈاکٹرنے کہیں غلطی سے آپ کے دل کے بندوالومیں سٹنٹ ڈالنے کی بجائے دوسرے والومیں سٹنٹ ڈال دیاہے۔قارئین قاری صاحب کے ساتھ ہونے والایہ واقعہ دیکھ کرہم سمجھ گئے کہ لوگ کیوں کہتے ہیں کہ گائوں میں جب کوئی ختم خیرات ہوتواس دن غریب کی گائے گم ہوجاتی ہے۔ غریب رنگ اورنسل میں ایک دوسرے سے مختلف توہوتے ہیں لیکن قسمت ۔۔؟ قسمت غالباًسارے غریبوں کی تقریباًایک جیسی ہوتی ہے۔زیادہ سے زیادہ کوئی انیس بیس کاہی فرق ہوگا۔اب آپ عبدالحق باباکی کہانی دیکھیں ۔عبدالحق بابابھی ایک غریب گھرانے میں پیداہوئے۔محنت مزدوری کی غرض سے کئی سال بیرون ملک سعودی عرب میں گزارے لیکن پھربھی زندگی کااکثرحصہ غربت کے سائے تلے ہی گزرا۔باباکے جسم میں اب محنت مزدوری کرنے کی طاقت ہے اورنہ ہی گھرکانظام چلانے کیلئے کوئی وسائل۔باباکے گھر میں ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے پکتی ہوگی۔ایسے وقت میں جب غربت نے عبدالحق باباکوچاروں طرف سے اپنے گھیرے میں جکڑلیاہے۔اچانک ایک دن باباکی اہلیہ کوہارٹ کامسئلہ شدیدہونے لگا۔تکلیف جب حدسے زیادہ بڑھنے لگی توبابانے بوجھل قدموں کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی ہسپتال کارخ کیا۔ڈاکٹروں کودکھانے پرانہوں نے انجیوگرافی تجویزکی۔گھرمیں جب ایک پائی کابھی نام ونشان نہ ہوایسے میں پھرانجیوگرافی کیلئے بیس پچیس ہزار۔۔؟کسی بھی غریب کیلئے یہ کوئی معمولی رقم نہیں۔ پھر وہ بابا جن کے کندھے غربت کے پہاڑ تلے پہلے ہی دب گئے ہوں۔ ان کے لئے یہ یقینا بہت بڑی اوربھاری رقم تھی۔ خیر جیسے تیسے ادھرادھرسے کر کے بابانے انجیوگرافی کے وہ پیسے پورے کر دیئے لیکن انجیوگرافی سے تو بابا کا بوجھ ہلکا ہونے کی بجائے مزید بڑھتا گیااور اس پرانجیوگرافی رپورٹ اس وقت ایک اورآسمانی بجلی بن کر گری جب ڈاکٹروں نے فوری سٹنٹ ڈالنے کاحکم نامہ ان کے ہاتھ میں تھمایا۔مرتے کیانہ کرتے۔اہلیہ کی جان بچانے کیلئے بابانے اپنے کندھوں پرغربت کے پہاڑکودیکھااورنہ ہی اپنی جھونپڑی میںغریبی کے ہاتھوں بجھے چولہے کو۔فقروفاقوں کے سائے تلے بابانے اہلیہ کے علاج کیلئے غربت کے پہاڑکے ساتھ ایک طرح خودکوقرض کے اژدھے تلے بھی دبادیا۔ڈیڑھ لاکھ روپے کے خرچ پرباباکی اہلیہ کے دل میں سٹنٹ ڈالاگیا۔اہلیہ کے دل میں سٹنٹ ڈالنے پربابایہ سمجھ رہے ہوتے ہوں گے کہ خودکوقرض میں ڈبونے کے بعداب وہ کچھ دن چین وسکون کی زندگی گزارسکیں گے مگرباباکوشائدیہ معلوم نہ تھاکہ گائوں میں جب کوئی ختم خیرات ہوتواس دن غریب کی گائے گم ہوجاتی ہے۔قارئین اب آپ غربت کے مارے اس عبدالحق باباکی قسمت کودیکھیں کہ دل میں سٹنٹ ڈالنے کے تیسرے ہی دن اسی ہسپتال میں اس کی اہلیہ کودل کی بجائے فالج کااٹیک ہواجس سے باباکی اہلیہ کاجسم ایک طرح مفلوج ہوکررہ گیا۔باباکی اہلیہ آج بھی ہسپتال میں داخل اورزندگی کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔وہ غریب خاتون جواپنے پائوں پرچل کرہسپتال آئیں ۔جوخودکھاپی اوربول سکتی تھیں ۔لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعدوہ آج نہ بول سکتی ہے۔نہ چل سکتی ہے اورنہ ہی خودکچھ کھاسکتی ہیں۔بابااہلیہ کے علاج کی وجہ سے مقروض توہوہی گیالیکن آپ غریبوں کی قسمت کودیکھیں کہ اوپرسے اس کی وہ اچھی بھلی اہلیہ ایک زندہ لاش بن کررہ گئیں ۔میں قاری محمدیوسف اور پھر عبدالحق باباکی اس کہانی کوجب دیکھتاہوں تو حیران رہ جاتاہوں ۔یہ غربت اورقسمت بھی ان غریبوں کے ساتھ کیاکیاکھیل نہیں کھیلتی۔یہ غریب توکسی سے نہیں روٹھتے لیکن اس دنیاکی ہرخوشی ان غریبوں سے روٹھی ہوئی ہے۔اللہ ہرانسان اور ہر مسلمان کوپہلے غربت اورپھرایسے غریب وعجیب قسمتوں سے بچائے۔آمین


ای پیپر