08 فروری 2020 2020-02-08

تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے۔ یہ وہ نعرہ تھا جو 2018 کے الیکشنز میں زبان زدِ عام تھا۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد تبدیلی کا نعر ہ امید کی کرن کی بجائے تنقید کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مایوسی کے اس ماحول میں عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار کچھ لوگ عوام کی زندگیوں میں حقیقی اور مثبت تبدیلی لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے حلقے کی عوام نہ صرف ان کی خدمات کی معترف ہے بلکہ دعوی کرتی دکھائی دیتی ہے کہ مثبت تبدیلی ہمارے علاقے میں آئی ہے۔ جب یہ خبر مجھ تک پہنچی،میں نے تحقیق کا فیصلہ کیا۔ جو حقائق میرے سامنے آئے وہ حیران کر دینے والے اور متاثر کن تھے۔ جو کام چالیس سال میں نہیں ہو سکے تھے وہ حقیقتاًصرف تین سال میں سو فیصد مکمل ہو چکے تھے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ صدر اپنی جیب سے پیسہ لگا رہا ہے لیکن میری تحقیق کے مطابق کروڑوں روپے کے ترقی یافتہ کام سوسائٹی سے حاصل آمدن سے کیے گئے۔سرکاری امداد نہیں لی گئیں۔ذاتی جیب سے پیسہ نہیں لگایا گیا۔ سوسائٹی کی ایک انچ زمین نہیں بیچی گئی۔بلکہ کروڑوں روپوں کی زمین سے قبضہ چھڑوا کر سوسائٹی کو واپس دلوائی گئی۔سخت فیصلے لیے گئے۔کسی دوست، رشتے دار کی ناجائز سفارش نہیں مانی گئی۔کچھ شعبوں میں سوسائٹی کی آمدن چار سو سے پانچ سو فیصد بڑھائی گئی۔ اگر یہ کہا جائے کہ دن رات سوسائٹی کی بہتری کے لیے کام کرنے کی وجہ سے صدر کا ذاتی کاروبار اور آمدن بری طرح متاثر ہوئی تو غلط نہیں ہو گا۔لیکن اس قربانی کی بدولت سوسائٹی اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی ہے اور مثبت تبدیلی کا پیغام دے رہی ہے۔ جو عوام وعدوں کی تکمیل کو معجزہ اور دیوانے کا خواب قرار دیتی تھی اور سخت فیصلوں کی وجہ سے ناراض تھی وہی لوگ آج خوابوں کو حقیقت بنتا دیکھ کر حیران ہیں،ترقی یافتہ کاموں کی تکمیل کے معترف ہیں اور منتخب قیادت کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کونساعلاقہ ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یہ علاقہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ملتان روڈ پر واقع ہے۔ اس کا نام سٹیٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی ہے۔جسے مرغزار کالونی بھی کہا جاتا ہے۔ شہزاد احمد چیمہ پچھلے تین سال سے مرغزار کالونی کے صدر ہیں۔سوسا ئٹی میں مثبت تبدیلی انہی کے دور میں آئی ہے۔ آئیے اس علاقے میں

پچھلے تین سالوں میں ہونے والے ترقی یافتہ کاموں اور رونما ہونے والی مثبت تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

تین سال قبل علاقے کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ چالیس سال پہلے بنائی گئی سڑکیں آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ علاقے کے پارکس کچرے کی آماجگاہ بن چکے تھے۔ تجاوزات کی صورتحال یہ تھی کہ پچاس فٹ کی سڑکیں صرف پچیس فٹ رہ گئی تھیں۔ کمرشل عمارتوں اور گھریلو صارفین سے پانی کا بل ڈومیسٹک ریٹ پر ہی لیا جا تا تھا۔ ان کے علاوہ دیگر بیسیوں مسائل موجود تھے جنھیں حل کرنے کی ضرورت تھی۔

وعدوں کی تکمیل کی شروعات صدر منتخب ہونے والے دن سے کر دی گئی۔پہلے ہی دن سوسائٹی دفتر کے ملازمین کی تنخواہوں میں بہترین اضافہ کر دیا گیا۔ملازمین کا خیال تھا کہ محدود سوسائٹی آمدن کی وجہ سے یہ فیصلہ زیادہ دنوں تک قابل عمل نہیں رہ پائے گا۔لیکن تین سال بعد بھی نہ صرف ملازمین کی بڑھی ہوئی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں بلکہ انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔ پہلے ہی دن اکاونٹس ڈپارٹمنٹ سے میٹنگ کی گئی۔ جو رقم سوسائٹی ممبران کی طرف سالوں سے واجب الادا تھی اسے ریکور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نادہندگان کونوٹسز بھیجے گئے۔ کچھ طاقتور ممبران کئی سالوں سے بل ادا نہیں کر رہے تھے۔ان کے کنکشن کاٹنے پڑے۔ نتیجتاًسالوں سے ڈوبی ہوئی رقم سوسائٹی کووصول ہو گئی۔ جسے انہی ممبران کی بہتری کے لیے خرچ کیا گیا۔

تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک کمرشل سکول کا مالک ممبر بھی اتنا پانی کا بل ادا کر رہاتھا جو کہ ایک عام رہائشی ممبر ادا کر رہا ہے۔ انتظامیہ نے مطالبہ کیا کہ سوسائٹی کے اندر قائم سکولز سوسائٹی ممبرز کے بچوں کی فیس آدھی کر دیں یا پانی کے بل استعمال کی مناسبت سے ادا کیے جائیں۔ صدر کے خلاف احتجاج کیا گیا، لیکن سکول مالکان کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔آج پانی کے بلوں کی آمدن میں پانچ سو گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ جو سکول مالکان اس سخت فیصلے پر انتظامیہ کے خلاف تھے۔ آج سوسائٹی فنڈز کے درست استعمال اور پروجیکٹس کی تکمیل دیکھ کران فیصلوں کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ سوسائٹی میں ہونے والے کاموں کی تشہیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جس صدر کے خلاف جلوس نکالے گئے تھے آج اسی صدر کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ سڑکوں کے استعمال سے حاصل ٹول ٹیکس آمدن میں چار سو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔تجاوزات ختم ہو چکی ہیں۔ تقریبا سترہ کنال زمین جس سے سوسائٹی، ملکیت ہونے کے باوجود چالیس سال سے محروم تھی، سوسائٹی کو واپس دلوائی گئی ہے۔

سڑکوں کی تعمیر کے لیے زیادہ انحصار سوسائٹی آمدن پر کیاگیا۔ممبران کو معمولی رقم چارج کی گئی جو کہ آٹے میں نمک کے برابر تھی۔وعدوں کومکمل ہوتا دیکھ کر ممبران نے بخوشی چارجز ادا کیے۔ آج سوسائٹی میں ایک بھی گلی یا سڑک ایسی نہیں ہے جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو۔تین سال قبل سوسائٹی ممبران جاگنگ اور تفریح کے لیے سوسائٹی سے باہر کوئی جگہ تلاش کرتے تھے۔ آج تمام پارکس صاف بھی ہیں اور خوشبودار بھی۔ نئے جاگنگ ٹریکس بنائے گئے ہیں۔ پارکس میں روشنی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے۔موسمی پھولوں کی کیاریاں سجائی گئی ہیں۔ بچوں کے جھولوں اور تفریح کے سامان کا خصوصی انتظام ہے۔ فیملی پارکس کا علیحدہ انتظام ہے۔ جہاں صرف خواتین اور بچے جا سکتے ہیں۔ صدر پر عوام کے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ جب سوسائٹی میں ہسپتال کا منصوبہ لانچ کیا گیا تو ممبران نے چند دنوں میں زیور اور کیش کی شکل میں فنڈز سوسائٹی آفس میں جمع کروا دیے۔سوسائٹی ممبران کا کہنا ہے کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ شہزاد احمد چیمہ مرغزار کالونی کے صدر ہیں۔ اللہ نے انھیں یہ عزت نیک نیتی، دیانتداری، ایمانداری اور دن رات محنت کی بدولت دی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو شہزاد احمد چیمہ نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے کسی غلط راستے اور ناجائز طریقے کا انتخاب نہیں کیا۔ مافیاز کی سپورٹ سے صدر بننے کی مخالفت کی، سوسائٹی کی عوام کی خدمت کو ترجیح دی،ایمانداری کو اپنا شعار بنایا، جو فیصلہ کیا، اللہ کا خوف دل میں رکھ کر کیا اور جب ایک مرتبہ فیصلہ کر لیا تو اس پر ڈٹ گیا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک پرائیویٹ سوسائٹی کا صدر کامیابی کی یہ مثال قائم کر سکتا ہے تو ملک پاکستان کا وزیراعظم ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔ فرق صرف جرات مندانہ فیصلوں کا ہے۔ میری پاکستانی سیاستدانوں خصوصاً وزیراعظم عمران خان سے گزارش ہے کہ آپ شہزاد احمد چیمہ کے کامیاب فارمولے کو اپنائیں تا کہ آپ بھی پاکستانی عوام کے دلوں میں گھر کر سکیں اور پاکستانی عوام اپنے ملک میں مثبت تبدیلی دیکھ سکیں۔


ای پیپر