اسحاق ڈار اپنے گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے پر بھڑک پڑے
08 فروری 2020 (17:58) 2020-02-08

لندن : پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پنجاب حکومت کی جانب سے اپنی رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری رہائشگاہ کو بے گھر لوگوں کے لیے وقف کرنا توہین عدالت ہے، حکومت کی جانب سے توہین عدالت پر ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں جائیں گے، میرے خلاف سارا کیس ہی فراڈ اور بدنیتی پر مبنی ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ ایک بہت بڑے جھوٹ پر مبنی ہے کہ میں نے گزشتہ 36 سال سے میری ایک ایک ٹیکس ریٹرن کی رسیدیں دستیاب ہیں اور ہر چیز ڈاکومینڈٹ ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر اکانٹ پر جاری ویڈیو بیان میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے وزیراعظم اور پنجاب حکومت کا گٹھ جوڑ قرار دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور میں 1988 سے واقع میری رہائشگاہ کو بے گھر لوگوں کے لیے وقف کرنا توہین عدالت ہے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 جنوری کو اس کیس میں حکم امتناع جاری کیا تھا۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے توہین عدالت پر ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں جائیں گے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت نے یہ تمام اقدامات مفرور ہونے پر لیے ہیں لیکن بنیادی طور پر مفرور ہونے کا فیصلہ بھی غیر قانونی ہے کیونکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں ہماری درخواست موجود ہے، جب حکومت نے میری رہائشگاہ کو نیلامی کا فیصلہ کیا تو ہم نے درخواست دائر کی تھی، سپریم کورٹ کا موقف ہے کہ اپنی باری پر درخواست پر سماعت کی جائے گی۔جب یہ میری رہائشگاہ کی نیلامی میں ناکام ہوئے تو عمران نیازی اور پنجاب حکومت کے گٹھ جوڑ نے میری رہائشگاہ کو بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنادیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد انکا یہ اقدام توہین عدالت ہے۔


ای پیپر