سرعام پھانسی : علی محمد اور فواد چوہدری میں لفظی جنگ
08 فروری 2020 (17:36) 2020-02-08

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سرعام پھانسی دینے کی کوئی بات ہی نہیں ، اگر پھانسیوں سے معاملات درست ہوتے تو دنیا میں جرم ہی نہیں ہوتے ۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو سر عام پھانسی دینے کی قرار داد کے حوالے سے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ یہ بحث ہی نہیں کہ بچوں سے زیادتی کرنے والوں کے خلاف قوانین موجود نہیں ہے ، قوانین موجود ہیں اور زینب قتل کیس سمیت درجنوں کو پھانسی ہو چکی ہے اور ہونی بھی چاہئے ،سوال یہ ہے کہ یہ واقعات کیوں نہیں رک رہے ہیں اس لئے سرعام پھانسی پر کوئی بات نہیں اور اگر صرف پھانسیوں سے معاملات درست ہوتے تو دنیا میں جرم ہی نہ ہوتے ۔

مزید برآں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے سرعام پھانسی کی قرارداد کی مذمت کرنے پر وفاقی وزیر فواد چوہدری پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

علی محمد خان نے ٹوئٹ پر فواد چوہدری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اللہ الحق ہے اور اس کا حکم بھی الحق ہے، اسلامی سزاں کو ظلم و بربریت کہنے والے خودظالم ہیں۔ علی محمد خان نے قبائلی معاشرہ پر فواد چوہدری کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی معاشرہ دنیا کا سب سے مہذب معاشرہ ہے جہاں عورت کی عزت، بڑوں کا ادب اور پختون ولی ہے، جہاں سر قربان کیا جاتا ہے لیکن عزت نہیں قربان کی جاتی، مجھے اپنے قبائلی معاشرہ پر فخر ہے۔


ای پیپر