عبدالعلیم خان کے حق میں ایک کالم
08 فروری 2019 2019-02-08

پی ٹی آئی کی حالت اس عورت جیسی ہو گئی ہے جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر چیخیں بھی نہیں مار سکتی کہ وہ اس زیادتی کی سب سے بڑی وکیل رہی ہے لہذا جب میں پنجاب حکومت کے دوبڑوں کو سر جوڑے متفق دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے وزرا سمیت پی ٹی آئی کے صوبے میں سب سے اہم رہنما کے حق میں بیان بازی نہیں کریں گے تو بہت کچھ سمجھ آجاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ عبدالعلیم خان کو استعمال کرنے کے بعد پھینک دیا گیا ہے مگر تنہا چھوڑنے کا تاثر ضرور ہے۔ اگر عبدالعلیم خان کرپٹ ہیں تو پھر پارٹی کو ان کے ساتھ اظہار یک جہتی بھی نہیں کرنا چاہئے ، انہیں حکومتی ہی نہیں پارٹی عہدے سے بھی الگ کردینا چاہئے لیکن اگر وہ کرپٹ نہیں ہیں اور ان کی گرفتاری کی بنیادیں ان کے موقف کے مطابق سیاسی اور انتقامی ہیں تو پھر پارٹی کو گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کی بجائے ڈٹ کرساتھ کھڑے ہونا چاہئے۔

مسئلہ پی ٹی آئی والوں کا نہیں کہ وہ یوٹرن لینے کو سیاست اور قیادت کی عظمت سمجھتے ہیں مسئلہ ان کے ساتھ ہے جو اصولوں کی بات کرتے ہیں۔ مجھے جناب عبدالعلیم خان کی اپنے بارے تمام شکایات پوری طرح یاد ہیں مگر میرے لئے ممکن نہیں کہ ذاتی وجوہات کی بنا پر ان کا مقدمہ لڑنے سے انکار کر دوں۔اس وقت نیب کو المناک صورت حال کا سامنا ہے کہ اس کی انکوائریوں کو بالعموم اور گرفتاریوں کو بالخصوص ایک خاص ایجنڈے پر عملدرآمد قرار دیا جا رہا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ادارے کے فیصلہ سازوں کو عبدالعلیم خان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے کہ اس سے پہلے جب ان کا نام پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا تھا تو انہیں ایک سے زائد مرتبہ تحقیقات کے لئے طلب کیا، ان کے خلاف پریس ریلیزیں جاری کیں اور جب عثمان بُزدار پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر بیٹھ گئے تو معاملہ رفع دفع ہو گیا۔یہ گرفتاری اس وقت ہوئی جب ایک مرتبہ پھر پنجاب میں تبدیلی کی باتیں چوکوں ، چوراہوں میں ہونے لگی ہیں مگر میں سیاسی سے پہلے قانونی پہلووں کی بات کروں گا۔

معاملہ یہ ہے کہ نیب اگر کوئی ریفرنس دائر کرنے میں کامیاب بھی ہوجائے تو وہ بھی اپنی حیثیت میں ایک الزام سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں کہ اس کی صداقت کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے مگر نیب سیاسی رہنماوں سمیت بہت ساروں کوکرپشن ثابت ہونے سے بھی پہلے صرف اس بنیاد پر گرفتار کر لیتا ہے کہ اسے الزام تیار کرناہے۔ یہ ایک خوفناک اختیار ہے جو مشرف دور میں نیب کو دیا گیا اوراس کی اصلاح پیپلزپارٹی اورنواز لیگ کے ادوار میں بھی نہ کی گئی۔ نیب کسے گرفتار کرے گا اور کسے نہیں کرے گا اس کا وارنٹ جاری کرنے کا اختیار بھی ایک شخص کے پاس ہے۔ نیب کہتا ہے کہ عبدالعلیم خان نے پارک ویو سوسائٹی میں بطور ایم پی اے اختیارات کا غلط استعمال کیا اورا س کا جواب یہ ملتا ہے کہ ان سے کبھی پارک ویو کا سوال ہی نہیں ہوا، ان سے صرف تین سوال ہوئے اور جو جواب انہیں معلوم تھے وہ دے دئیے جبکہ باقی کے لئے مہلت مانگ لی۔ نیب کہتا ہے کہ علیم خان نو سو کنال اراضی کی خریداری اور چھ سو کنال اراضی کے بیعانے کے وسائل کے بارے جواب نہیں دے سکے اور اس کا جواب ملتا ہے کہ وہ ہمیشہ نیب کی تحقیقات میں بروقت حاضر ہوئے، پورا ریکارڈ اور منی ٹریل فراہم کی اور نیب کے پاس ان کے فراہم کی ہوئی دستاویزات کے علاوہ ثبوت کے نام کوئی دوسرا کاغذ تک نہیں۔ نیب کا الزام ہے کہ عبدالعلیم خان نے متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں قائم کیں اور گرفتاری کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان کا ریکارڈ ٹمپر کر سکتے تھے اور اس کا جواب یہ ہے کہ آف شور کمپنی قائم کرنا بذات خود جرم نہیں اگر وہ ڈیکلئیرڈ ہو اور دوسرے یہ کہ آف شور کمپنیوں کا ریکارڈ بیرون ملک ہوتا ہے وہ کیسے ٹمپر ہو سکتا ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ وہ عبدالعلیم خان تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے تھے مگر وہ اثرانداز تو اس وقت بھی ہو سکتے تھے جب وہ مشرف دور میں پرویز الٰہی کابینہ کے رکن تھے یا اب وہ سینئر وزیر کے طور پر کام کرتے رہے۔مان لیجئے، اب تک کے ریفرنسز ظاہر کرتے ہیں کہ نیب کی چارجز فریم کرنے کی صلاحیت انتہائی ناقص ہے۔

نیب اس پرائز بانڈ کو تسلیم کرتا ہے جو ایک کروڑ نوے لاکھ روپے کا نکلا مگر ان کے والد کو بیرون ملک سے 109 والدہ کو 198ملین روپوں کی ترسیل کو نہیں مانتا جبکہ دوبئی میں آف شور کمپنیوں سے بنائے گئے اثاثوں کی مالیت بھی تیس ملین درہم بیان کرتا ہے۔ یہ بات ڈاکٹر عاصم کیس سمیت متعدد حوالوں سے ثابت کی جا سکتی ہے کہ اداروں کے کرپشن بارے پیش کردہ اعداد و شمار انتہائی زیادہ ہوتے ہیں۔ نیب کے مقدمات عدالت سے کہیں زیادہ میڈیا میں لڑے جاتے ہیں۔ زیر تحقیق اور زیر تفتیش معاملات کی نہ صرف پریس ریلیزیں جاری کی جاتی ہیں بلکہ اپنے من پسند رپورٹروں کے ذریعے بے سرو پاڈرامائی خبریں بھی بریک کروائی جاتی ہیںحالانکہ نیب کو ایک سرکاری تحقیقاتی ادارہ ہوتے ہوئے صرف عدالت میں ہی بات کرنی چاہئے اور صرف اس شخص کی گرفتاری کے اختیارات ہونے چاہئیں جو بار بار طلب کےے جانے کے باوجود حاضر نہ ہو رہا ہو۔ نیب کی طرف سے سوال پوچھے جانے کے بعد اپنی بے گناہی خود ملزم کو ثابت کرنا پڑتی ہے جو انصاف کے مروجہ اصولوں سے ایک سو اسی درجے پر ہے۔مں عبدالعلیم خان سمیت کسی بھی سیاسی رہنما کی بے گناہی کی گواہی نہیں دے سکتا مگر دوسری طرف محض الزامات ثابت کرنے کے لئے گرفتاری کے ڈریکولین لا کی حمایت بھی نہیں کی جا سکتی۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عبدالعلیم خان صرف اس وجہ سے گرفتار ہوئے کہ نیب نے تفتیش کرنا تھی تو اس کا جواب عملی طور پر نفی میں ملتا ہے کہ وہ ہر پیشی پر حاضر ہو رہے اور ہر سوال کا جواب دے رہے تھے، ہاں، اگر وہ جوابات ناکافی یا غلط تھے تو پھر نیب کو اس پر ریفرنس دائر کرتے ہوئے عدالت میں جرم کو ثابت کرنا چاہئے تھا۔ نیب کی ہر گرفتاری کے پیچھے مخصوص مقاصد عبدالعلیم خان کی گرفتاری میں بھی بیان ہو رہے ہیں۔ پہلا مفروضہ یہ ہے کہ عبدالعلیم خان کو محض مسلم لیگ نون کی گرفتاریوں کو بیلنس کرنے کے لئے گرفتار کیا گیا، جس منصوبے کی نشاندہی مسلم لیگ نون کے گرفتار رہنما اور سابق وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی میں کر دی تھی مزیدیہ کہ نیب اس گرفتاری کی آڑ میں اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ پنجاب میں تبدیلی کی بات کی جا رہی ہے اور عثمان بزدار کی چھٹی کی صورت میں عبدالعلیم خان وزار ت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار ہو سکتے تھے مگر وہ قابل قبول نہیں تھے۔ تیسرا مفروضہ یہ ہے کہ عبدالعلیم خان کو ڈرائی کلیننگ کے لئے گرفتار کیا گیا ہے، نیب انہیں کلین چٹ دے گی اور یہی وجہ ہے کہ نیب کی پہلی پریس ریلیز میں ان کے الزامات کے ساتھ لفظ ” مبینہ“ استعمال ہوا، انہیں سیاسی پواننٹ سکورنگ کے لئے نیب کے دفترسے استعفا لکھنے اور بھیجنے کی سہولت فراہم کی گئی اور تیسرا یہ کہ ان کا پہلا ریماند ہی مسلم لیگ نون کے رہنماوں کے مقابلے میں کم دنوں کا ہوا ہے مگر ان اشاروں کے باوجود میرے خیال میں یہ کمزور ترین مفروضہ ہے، اسی سے جڑاسوشل میڈیائی مفروضہ یہ بھی ہے کہ ایک عدالتی فیصلے کی اہمیت کم کرنے کے لئے عبدالعلیم خان سے گرفتاری کی قربانی مانگی گئی جو انہوں نے قومی مفاد میں دے دی۔ ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ عبدالعیم خان ، عثمان بزدار کے لئے مسائل پیدا کر رہے تھے اور چودھری سرور کے ساتھ بھی سیٹنگ نہیں کر رہے تھے لہذا ان کا پتا صاف کر دیا گیا او پارٹی کے اندران کے مخالفین نے اپنی کامیابی پر شکرانے کے نوافل بھی ادا کئے۔ اس گرفتاری نے رانا مشہور احمد خان کی باتیں بھی یاد کروا دی ہیں اور عین ممکن ہے کہ پنجاب میں تبدیلی کی صورت میں اگر حمزہ شہباز کو براہ راست اکاموڈیٹ نہ بھی کیا جائے تو چودھری پرویز الٰہی پر اتفاق رائے ہوجائے مگر فی الحال چودھری سرور نے مونس الٰہی سے ملاقات کر کے ان کے گروپ کو مزید وزارتیں دے کر اور مداخلت نہ کرنے کے وعدوں پر راضی کیا ہے۔

قانونی ماہرین سے تھڑے بازوں تک ، ہر کسی کی نظر میں عبدالعلیم خان کی گرفتاری کی آئینی اور قانونی وجوہات متاثر کن نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت وہی کچھ کاٹنے لگی ہے جو اس نے دوسروں کے لئے بویا تو سیاسی اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہوکے ہر محب وطن جمہوریت پسند کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایجنڈے پر مبنی احتساب کے قابل اعتراض نظام کی اصلاح کے لئے آواز بلند کرے۔واللہ اعلم


ای پیپر