08 دسمبر 2019 2019-12-08

پروفیسر طارق احمد رخصت ہو گئے اور میرے پاس ان کے ساتھ گزرے ہوئے ایک لمحے کی بھی کوئی یادنہیں، میں نے ان سے ایک وقت کا کھانا بھی نہیں کھایا، میں ان کی رہائش گاہ پر ایک دن بھی نہیں ٹھہرا، مجھے ان سے کبھی کوئی تحفہ نہیں ملا مگر اس کے باوجود میںسمجھتا ہوں کہ ان کی باتیں کرنا، انہیں خراج تحسین پیش کرنا میرے قلم پر قرض ہے۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے نظریاتی لوگ اچھے لگتے ہیں چاہے وہ میرے نظرئیے کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں اور پروفیسر طارق احمد سے تو میرا کوئی بڑا نظریاتی اختلاف بھی نہیں تھا، وہ بھی آئین اور جمہوریت کے حامی تھے اور میں بھی مملکت کے امور انہی کے ذریعے چلتے دیکھنا چاہتا ہوں، یوں ایک بھی ملاقات ہوئے بغیر ہمارا بہت اچھا تعلق بن گیا، سوشل میڈیا پر پرسنل میسیجنگ ہوتی رہی،ہاں، ان کی طرف سے دعوتیں ضرور ملتی رہیں اور میں ان کا شکریہ بھی ادا کرتا رہا۔

طارق بھائی، اپنے نظریات ، اپنی دوستیوں اوراپنی مخالفتوں میں بہت واضح تھے۔ مجھے اعتراف کرنے میں عار نہیں کہ ایک پروفیشنل جرنلسٹ کے طور پر مجھے جب بھی شریف فیملی کی سیاست پر کوئی اعتراض ہوتا تو میں اس کا برملا اظہار کرتا مگر وہ دھڑے کے آدمی تھے، سمجھاتے تھے کہ مشکل وقت میں اپنے دھڑے کو کمزورکرنا اچھی بات نہیں۔ میں کچھ آئیدیل ازم کا شکار ہوجاتا ہوں مگر میرے سامنے تصویر کا وہ رخ رکھتے تھے جسے میں بسا اوقات نظرانداز کر رہا ہوتا تھا۔ میںسمجھتا ہوں کہ پروپیگنڈہ وار کے اس دور میں طارق احمد مسلم لیگ نون اوراس کے نظریاتی حلیفوں کے لئے ون مین آرمی تھے۔ بہت سارے کالم نویسوں کا المیہ ہے کہ دوسروں کی تحریریں بہت کم پڑھتے ہیں مگر طارق بھائی کو کمال حاصل تھا کہ وہ ایسی منطق کے ساتھ تحریر کی بُنت کرتے کہ ہم سب آخر تک پڑھنے پر مجبور ہوجاتے۔ ان کا محترم عطاءالحق قاسمی، بزرگوار عطاءالرحمان اوربڑے بھائی نوید چودھری کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا کہ ان کی خاطر دوسروں سے لڑنے کے لئے بھی تیار ہوجاتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے خوشبوو¿ں جیسے اس قبیلے سے غرض اور مطلب پرستی کے جہان میں کمٹ منٹ اوردھڑا نبھاناسیکھنا چاہیے۔ میں طارق احمد کی امانت اور دیانت پر اس لئے بھی یقین رکھتا ہوں کہ وہ پاکستان چھوڑ چکے تھے اور اب ان کاایک نظریاتی، روحانی اور قلبی تعلق کے سوا اس ملک کے ساتھ کوئی براہ راست مفاد نہیں تھا۔ کسی نے پروفیسر طارق احمد کے فن کے کمال کو جانچنا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ وقت نکال کر ان کی سیاسی کے علاوہ غیر سیاسی تحریریں بھی پڑھے، ان کی تحریر کا لطف، لاہوریوں کی زبان اورمیرے خیال میں، کھدوں پائیوں ، مغز والی نہاریوں اور دیسی گھی کے تڑکے والے ہریسوں سے بھی زیادہ ہے۔

نجانے مجھے کیوں انتظار تھا کہ ان کی وفات پر اگرافسوس کا اظہار نہیں ہوگا تو کچھ سیاستدان اپنے نقصان پر ضرور افسوس کریں گے مگر میں نے دیکھا کہ جناب عطاءالرحمان کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے صرف ’نئی بات‘ میں صفحہ دو پر ایک دو کالم خبر نظر آئی اور پھر گذشتہ رو زاسی مقام پر جناب توفیق بٹ کا کالم نظر آیا۔ وہ جن لوگوں کے لئے لڑتے اورمرتے رہے وہ آج کل مجبور ہیں، پوری طرح خاموش ہیں، وہ بیان بھی نہیں دیتے ، وہ ٹوئیٹ بھی نہیں کرتے۔ خواہش ہے کہ وہ لندن میں ہی ہیں، وہ ان کے گھر چلے جائیں، تعزیت اورفاتحہ خوانی کر لیں، مجھے علم ہے کہ کسی کے اظہا رتعزیت سے اب طارق احمد کو کوئی فرق نہیں پڑنا، وہ اپنی کمائی کر کے جا چکے، ان کی مغفرت کے لئے ان کی سچائی، سادگی اور حق گوئی ہی کافی ہے ۔میں نے تو یہی جانا ہے کہ سچ یہی ہے کہ جسے آپ کا دل، دماغ اور ضمیر سچ کہے وہی سچ ہے اور ہی وجہ ہے کہ ہم سب کا سچ الگ الگ ہوسکتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ جب منافقین نے گواہی دی کہ رحمت اللعالمین ، رب العالمین کے رسول ہیں تو کہہ دیا گیا کہ یہ منافق جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ قرآن کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا سچ بول رہے تھے مگر چونکہ وہ اسے اپنے طور پر جھوٹ سمجھ کربول رہے تھے لہٰذا وہ جھوٹے قرار پائے۔

طارق بھائی ، آئین اور جمہوریت کی لڑائی لڑتے لڑتے دنیا سے چلے گئے۔ وہ قریباً آٹھ برسوں سے بیمار تھے مگر دو، تین ماہ پہلے ان کی بیماری شدید ہو گئی اور وہ پرنٹ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا سے بھی دور ہو گئے مگر انہوں نے مرنے سے پہلے زندگی کو زندگی کی طرح جیا، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ صرف تب ہی مرا جائے جب موت آئے، ان کی طبیعت بہتر ہوئی اور ان کی تصویریں دیکھ کر دل خوش ہوامگر پھر اچانک ان کی ہمیشہ کے لئے رخصت ہونے کی دل اور حوصلہ توڑ دینے والی خبر آگئی۔ میں جب کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف بھونپو بن کر سیاست کرنے والوں کی حکومت دیکھتا ہوں اوراس میں کرپشن اورمنی لانڈرنگ کرنے والوں کو تاریخ کا سب سے بڑا تحفظ ملتے ہوئے مجرمانہ خاموشی کاکرب محسوس کر رہا ہوں تواپنی مایوسی کو جائز سمجھتا ہوں کہ طارق احمد کی طرح ہم سب مرجائیں گے مگر اس نظام میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکیں گے۔ کچھ لوگ ہماری تحریروں پر واہ واہ کر لیں گے مگر اس کے بعد وہی ہو گا جو ستر برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اگلے ستر برس ہوتا نظر آرہا ہے۔طاہر ملک کے مطابق وہ دونوں ایک ہی موقعے پر پولیس جیسی جاب سے مستعفی ہوئے۔ پولیس جیسی اختیارات اور مال سے بھرپور نوکری چھوڑنا بھی دل اور ضمیر والوں کا ہی کام ہے۔ طارق احمد لندن چلے گئے اور جہاں اپنے بچوں کی بہترین انداز میں تربیت کی۔ میں نے ان کی اولاد کی اپنے والدین کے لئے محبت اور احترام دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے اس طرح کی مثالی تربیت تو بہت سارے والدین یہاں پاکستان میں رہتے ہوئے بھی نہیں کرپاتے۔

میں کبھی کبھارسوچتا ہوں کہ جمہوریت پسند اس ملک کے نظام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سوا کیا خدمت کر رہے ہیں۔ میں صحافت میں ایمانداری اور پروفیشنل ازم کی علامت جناب اشرف ممتاز سے پوچھا کرتا تھا کہ آپ نوابزادہ نصر اللہ خان کے کردار کی بہت تعریف کرتے ہیں مگر انہوں نے یہاں ہر حکومت کو گرانے کے سوا کیا، کیا ہے۔ آج نوابزادہ نصراللہ خان کو وفات پائے برسوں گزر چکے تو یقین رکھتا ہوں کہ اپنے اپنے دور کے حکمرانوں کی جگہ نوابزادہ نصراللہ خان ہی درست تھے۔اگر آپ کے ارد گرد احمق اورموقع پرست بالادست ہوجائیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ حماقت اور موقع پرستی کو آئین اور جمہوریت سمجھ لیں۔ میں جانتا ہوں کہ طارق احمد ٹی وی پر آنے والے دوسرے بہت زیادہ مشہور دانشوروں کی طرح ’پاپولر‘ نہیں تھے کہ بچہ بچہ ان سے واقف ہوتا کیونکہ وہ الزام تراشی نہیں کرتے تھے، وہ گالیاں نہیں دیتے تھے، وہ نئی نسل کو گمراہ کرنے کے لئے بغاوت اور انقلاب کے لفظوں کی جگالی نہیں کرتے تھے مگر وہ اس صلاحیت اور ویژن کے مالک تھے کہ موجودہ دور لانے کے ذمے دار دانشوروں کے پروپیگنڈے کی اصلیت جانتے، سمجھتے اور بے نقاب کرتے تھے۔ وہ ہوا کے رخ کے ساتھ نہیں چلتے تھے بلکہ پروپیگنڈے کے طوفان کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے۔ جہاں مسلم لیگ نون کے حامیوں کوتعمیر وترقی کے اعداد و شمار میں مشکل ہوتی تھی وہاں ان کی محنت سے لکھی تحریر دلیل بن کے سامنے آتی تھی ۔وہ اتنا منطقی اور مدلل تجزیہ کرتے تھے کہ وہ وائرل ہوجاتا تھا۔ طارق احمد کی ہرتحریرہر اس نام نہاد دانشور کے منہ پر طمانچہ ہے جس نے قوم کو تبدیلی کے نام پر گمراہ کیا اور آج مگرمچھ کے آنسو بہا رہا ہے۔ جس حکومت کو یہ نام نہاد دانشور اپنے گمراہ کن پروپیگنڈے کی مدد سے لائے ہیں اب اپنے کندھوں پر اس کا بوجھ بھی اٹھائیں۔کسی نے اگر طارق احمد( مرحوم ،لکھتے ہوئے دل اداس ہو رہا ہے) سے کچھ سیکھنا ہے توحروف کی امانت اور صداقت سیکھے، تحریر میں خلوص اور دیانت سیکھے۔ محبت اور محنت کے ساتھ، کسی صلے کی تمنا کے بغیر، تعلق نبھانا سیکھے۔


ای پیپر