افسرانی و حکمرانی بدفطریاں!
08 دسمبر 2018 2018-12-08

میں نے اپنے گزشتہ کالم ”بیورو کریسی اور گورنر کریسی“ میں مثبت ذہنیت کے حامل کچھ سول و پولیس افسران کی بالکل جائز تعریف اس دعا کے ساتھ کی تھی، اللہ اس تعریف کے نتیجے میں انہیں کسی ”انتقامی کارروائی“ سے محفوظ رکھے کیونکہ ہمارے کچھ اعلیٰ افسران اور حکمران چاہتے ہیں لوگ صرف انہی کے بارے میں ”کلمہ خیر“ کہتے رہیں اپنے کسی ماتحت کی تعریف سن کر انہیں عجیب سی”خارش“ ہونے لگتا ہے اور اس ”بیماری“ کا علاج اس لئے ممکن نہیں ہوتا یہ ان کی فطرت ہوتی ہے جو تبدیل نہیں ہو سکتی.... میں نے ایک بار اپنے ایک کالم میں ایک انتہائی نیک نام اور عظیم پولیس افسر طارق عباس قریشی کی تعریف کی۔ تب وہ ڈی پی او گجرات تھے۔ اس کالم میں اس وقت کے خود ساختہ خادم پنجاب کی کچھ خرابیوں کا ذکر کر دیا۔ کالم لکھ کر فارغ ہوا ایک اعلیٰ افسر میرے دفتر تشریف لے آئے۔ میں نے یہ کالم انہیں سنایا اور ان سے کہا آج یہ کالم چھپنے کے لئے میں بھجوا رہا ہوں۔ وہ بولے ”تم کیوں ایک اچھے پولیس افسر کے پیچھے پڑ گئے ہو؟ ان کا اشارہ طارق عباس قریشی کی طرف تھا۔ میں حیران ہوا۔ میں نے ان سے کہا ”میں نے تو اس کالم میں ان کی تعریف کی ہے، اور آپ فرما رہے ہیں میں ان کے پیچھے پڑ گیا ہوں“.... اس پر انہوں نے فرمایا ”یہ تعریف اس لئے انہیں مہنگی پڑے گی کہ اس کالم میں تم نے ایک کم ظرف حکمران پر تنقید بھی کی ہے۔ اس کالم میں وہ اپنی ماتحتی کے شکار ایک پولیس افسر کی تعریف کیسے برداشت کر سکتا ہے؟۔ میں چونکہ خود بھی خود ساختہ خادم پنجاب کی منتقم مزاجی سے اچھا خاصا واقف تھا لہٰذا میں نے فوری طور پر اس کالم میں کچھ ایسی تبدیلیاں کر دیں جس کے بعد مجھے اطمینان ہو گیا گجرات اب ایک گریٹ پولیس افسر سے محروم نہیں ہو گا.... عرض کرنے کا مقصد یہ ہے ہمارے ہاں یہ عجیب المیہ ہے جو شخص جیسے جیسے حکمرانی و افسرانی لحاظ سے اونچی اونچی سیٹوں پر براجمان ہوتا جاتا ہے اس کا ظرف اتنا ہی نیچے آتا جاتا ہے۔ البتہ سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کا کردار اس حوالے سے بالکل مختلف تھا۔ وہ اے ایس پی ہوتے ہوئے بھی اتنا ہی کم ظرف تھا جتنا آئی جی ہوتے ہوئے تھا۔ اللہ نے اسے اس کی اوقات سے بہت بڑھ کر نواز دیا تھا جس کی اس نے قدر نہ کی اور اس کے نتیجے میں ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی ہر طرح کی عزت آبرو سے وہ محروم ہو گیا۔ ذرا سی غیرت اس میں ہوتی سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں اپنا نام بطور ملزم سامنے آنے پر اپنے موجودہ عہدے سے وہ استعفیٰ دے دیتا۔ وہ شاید یہ چاہتا ہے اسے کان سے پکڑ کر نکالا جائے۔ میری اطلاع کے مطابق یہ کام جلد ہونے والا ہے۔ اس کے بعد صرف چند پولیس افسران ایسے رہ جائیں گے جو اس مجبوری کے تحت اس کی عزت کریں کہ ابھی انہوں نے اس سے اے سی آر لکھوانی ہے۔ یہ واحد ”ہتھیار“ جس دن اس سے چھن گیا اس کی دو ٹکے کی جو عزت ہے وہ بھی شاید نہ رہے۔ اس کی کم ظرفی کا ایک واقعہ میں آپ کو سناتا ہوں۔ جب وہ آئی جی پنجاب تھا موجودہ آر پی او ساہیوال شارق کمال جو ان دنوں ڈی پی او بہاولنگر تھے وہاں نون لیگ کا ایک بے لگام اور بے زبان ایم این اے عالم داد لالیکا اپنا ایک حرام کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر ان سے ناراض ہو گیا۔ اس وقت کے فرعون اعظم عرف وزیر اعظم نواز شریف کے حکم پر آئی جی مشتاق سکھیرا نے اپنے ڈی پی او بہاولنگر کو ہدایت کی اس ایم این اے کے ڈیرے پر جا کر اس کا رزق حرام کھاﺅ، جس کا صاف صاف مطلب یہ تھا کہ اس سے معافی مانگو۔ غیرت مند پولیس افسر نے یہ حکم یا ہدایت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے اس پر آئی جی سکھیرے کے خلاف ایک کالم لکھا اور پھر اس جرا¿ت انکار پر شارق کمال صدیقی کے اعزاز میں لاہور جم خانہ کلب میں عشایئے کا اہتمام بھی کیا۔ جس میں ان کی حوصلہ افزائی کے لئے موجودہ آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی ، موجودہ آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار اور چند دوسرے سول و پولیس افسران بھی شریک ہوئے۔.... مشتاق سکھیرے نے اس ”جرم“ میں ان پولیس افسران کا جینا اپنی کمائی کی طرح حرام کر دیا۔ ان تمام پولیس افسران کو ڈائریکٹ اور بذریعہ ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر دھمکیاں دی گئیں کہ ان کو اے سی آرز خراب کر دی جائیں گی اور ان کی پروموشن بھی نہیں ہونے دی جائے گی۔ جبکہ جو سول افسران شریک ہوئے ان کے لئے ان کے افسران بالا سے کہا گیا ان کی اے سی آرز خراب کر دیں، یا ان کے تبادلے دور دراز علاقوں میں کر دیں۔ اس کا بس چلتا تو سول افسران کی اے سی آرز لکھنے کا اختیار بھی اپنے گندے ہاتھوں میں لے لیتا۔ ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے اب ایسے انجام سے وہ دوچار ہونے والا ہے جب اسکی طرف دیکھنا بھی کوئی گوارا نہیں کرے گا۔....

شریف برادران جس طرح کے خود کم ظرف اور منتقم

مزاج تھے ایسے ہی افسران بھی مختلف اہم عہدوں پر انہوں نے تعینات کر رکھے تھے۔ بدقسمتی سے ہماری بیورو کریسی میں بہت کم ایسے افسران ہیں جو کسی کو جائز فائدہ پہنچا کر یا کسی کا جائز کام بغیر کسی سفارش یا ریفرنس کے کر کے خوش ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ایسے افسران ہیں جو کسی کو ناجائز نقصان پہنچا کر ایسے خوش ہوتے ہیں ، یا انہیں اس سے ایسا سکون ملتا ہے جیسے ان کی ناجائز مراعات اور کمائی وغیرہ میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہو۔ کسی مظلوم کا بغیر کسی سفارش کے کوئی جائز کام بھولے سے وہ کر دیں رات کو انہیں ایک کے بجائے نیند کی دو گولیاں کھانی پڑتی ہیں کہ یہ ”ظلم“ آج ان سے سرزد کیسے ہو گیا؟ ۔ ان میں ایسے افسران بھی ہیں جو ایک طرف پانچ وقت کی نماز اور تہجد وغیرہ ادا کر کے اللہ کو خوش رکھنے کی پوری کوششیں کرتے ہیں۔ دوسری طرف اپنی فطرت کے مطابق خلق خدا خصوصاً اپنے ماتحتوں کو نقصان پہنچا کر اور حرام وغیرہ کما کر خود کو خوش رکھنے کی بھی پوری کوششیں کرتے ہیں۔ اگلے روز ایسے ہی ایک افسر سے ملنے کا مجھے اتفاق ہوا۔ پہلے اس نے اپنے دفتر میں پوری نماز پڑھی ، بلکہ یوں محسوس ہو رہا تھا میری موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ آج کچھ زیادہ ہی نماز پڑھ رہا ہے۔ خیر لمبی چوڑی نماز پڑھنے کے بعد وہ فارغ ہوا تو اپنے ایک کلرک کو پاس بلا کر اس کی کسی غلطی پر اسے گندی گندی گالیاں دیں۔ افسروں کے اس ”مولوی خادم رضوی“ سے میں نے کہا ”آپ کی نماز آپ کو یہ سیکھاتی ہے دوسروں سے بدزبانی کی انتہا تک پہنچ جائیں ؟“.... وہ فرمانے لگے ”نماز تو فرض ہے؟ “ .... مجھے لگا جیسے وہ ادھوری بات کر رہے ہیں۔ اصل میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں“ نماز کے ساتھ ساتھ بدزبانی اور بدکلامی بھی فرض ہے“.... جیسے نماز کے ساتھ ساتھ حرام کمائی کو بھی وہ فرض ہی سمجھتے ہیں.... اگلے روز ایک بڑے پولیس افسر کی تازہ ترین وارداتوں اور ناجائز کمائی کی مجھے کوئی نفصیل بتا رہا تھا۔ میں نے عرض کیا ان کی ریٹائرمنٹ میں خیر سے تھوڑا ہی عرصہ رہ گیا ہے تو ایسے میں ان کا ”حق“ اور ”فرض“ بنتا ہے حرام کمائی و دیگر حرام کاریوں کی وہ انتہائی کر دیں۔ ویسے تو ایسے فنکار افسروں کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کسی نہ کسی عہدے سے نواز دیا جاتا ہے جس کے بعد ان کی حرام کاریوں کے سلسلے جاری و ساری رہتے ہیں.... خیر اپنے گزشتہ کالم ”بیورو کریسی اور گورنر کریسی“ میں کچھ دیانتدار اور نفیس سول و پولیس افسران کو یاد کرتے ہوئے مجھے ذہن پر بڑا زور دینا پڑ رہا تھا جبکہ مردم بیزار ، بدنام اور بددیانت افسران کے نام دھڑا دھڑ ذہن میں آتے ہیں۔ شاید یہ بھی ایک المیہ ہے نفیس اور دیانتدار لوگ ہماری آنکھ سے زیادہ تر اوجھل ہی رہتے ہیں۔ اپنے گزشتہ کالم میں کچھ اچھے افسران کا ذکر کر کے اپنے اسی المیے کا میں نے کچھ ازالہ کیا تھا !


ای پیپر