اب بس کام میں مگن ہو جائیں........
08 دسمبر 2018 2018-12-08

آخر کب تک ہم ” ایک ‘ ‘ نمبر دنیا سے دوسری دنیا اور تیسری دنیا میں رہنے والے لوگوں کا طعنہ سنتے رہیں گے۔ ہمیں بھی تو کبھی اپنے بارے میں سوچنے کی گنجائش نکالنی ہوگی۔ ہمارا ایسا کیا قصور ہے کہ امت محمدی کے دعوے دار ہونے کے باوجود دنیا میں ہم وہ مقام حاصل نہیں کرسکے جو کہ ایک غیرت مند قوم کی پہچان دنیا میں روشناس کراسکے۔ حکمران سے لے کر عوام تک ہر شخص صرف چند روزکی پیش بینی تک کیوں سوچتا ہے؟ ایسی کیا ذہنی کمزوری ہمیں لاحق ہے کہ ہم اگلے 100 سالوں تک کا نہیں سوچ سکتے جیسے کہ پہلی اور دوسری دنیا کے لوگ سوچتے ہیں۔

موجودہ حکومت کی 100 روزہ کارکردگی پر 1825 دنوں (5 سالہ حکومت) کا حساب کیوں مانگ رہے ہیں؟ مان لیا کہ حکومت کے 100 روزہ وعدوں میں کارکردگی کے لحاظ سے بہت جھول ہیں جن پر تنقید بھی ہورہی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ لیکن ہمیں دھیان کرنا ہو گا کہ کہیں نہ کہیں ہم طویل مدتی پلاننگ میں رخنہ تو نہیں ڈال رہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ جتنا کڑا احتساب ابتدائی 100 دنوں کا مانگا جارہا ہے ہم نے اتنا تکلف 70 سال میں کیوں نہیں کیا۔ صرف یہ ہی سوچ لیں کہ پاکستان کی لوٹی گئی دولت واپس لانے کے لیے 26 ملکوں سے معاہدے موجودہ حکومت سے پہلے آج تک کیوں نہیں کیے گئے۔ کیا 70 سالوں میں پاکستان کو لوٹا نہیں جارہا تھا۔ کیا جمہوریت کی مکروہ شکل دکھاتے ہوئے میثاق جمہوریت کے نام پر ” اِک واری تیری اگلی واری میری “ ہم نے نہیں دیکھی۔ کسی نے نہیں پوچھا رسی گلے میں ڈال کر گھسیٹنے اور لوٹے گئے پیسوں کو ملک میں واپس لانے کے انتخابی نعرے پر کیا کبھی عمل کرنے کی کوشش کی گئی؟

پورے ملک میں تجاوزات قائم ہورہی تھیں وہ بھی حکمرانوں کے زیردست قبضہ مافیا کئی دہائیوں سے مصروف تھا کسی کی نظر کیوں نہ پڑی۔ بجلی چوروں کو صوبائیت کا تعصب دے کر کون نفرتیں بانٹتا رہا۔ 150 ارب روپے کی بجلی چوری کھربوں روپے کے موبائل اور دیگر اشیا سمگلنگ کے ذریعے ملک میں آتی رہیں اور معیشت کی کمر توڑتی رہیں۔ کوئی کچھ کیوں نہیں بولا؟ پہلی دنیا کے ممالک نے سیاحت کے ذریعے پوری دنیا پر راج کیا ہوا ہے۔ ہمیں اس کے فروغ کے لیے کام کرنے میں 70 سالوں میں کس چیز نے روکے رکھا۔ پورے ملک میں ایک تعلیمی نظام پر بات کرنا کفر کے زمرے میں کیوں گردانا گیا؟ درختوں کی بے جا کٹائی نے ملکی موسموں کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا اور اسی جیسی غلط پلاننگز کی وجہ سے زلزلے جیسی آفات اب آئے روز آتی ہیں کوئی دور رس پلاننگ کیوں نہیں کی گئی؟

40 سال میں ایک ڈیم نہیں بنا اور ہم اگلی دہائی میں قحط سے دوچار ہونے کے خطرہ میں ہیں۔ پاکستان کے قیمتی پانی کو صحیح جگہ پر ٹھکانے لگانا ہے یہ کس نے سوچنا تھا؟ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ پاکستان میں ہو رہا ہے اور اسکے لیے ہمیں آگاہی ڈبلیو ایچ او کیوں دے رہاہے؟

روٹی، کپڑا اور مکان میں 50 لاکھ مکان ہماری ضرورت ہیں گزشتہ حکومتوں کو یہ سوچنے سے کس نے روکے رکھا؟

کم از کم ہم یہ تو سوچ سکتے ہیں کیا پاکستان میں ایسا کوئی سربراہ گزرا جو خود اعتراف کررہا ہو کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہاں اتنی کرپشن ہے۔ معافی چاہتا ہوں ہوم ورک مکمل نہیں تھا غلطی کو تسلیم کرنے کے لیے بہت حوصلے کی ضرورت ہے۔

ہم پر امید رہنا چاہتے ہیں لیکن اس شرط پر کہ حکومتی منصوبوں کے ثمرات اسی صورت میں سامنے آئیں گے جب اس پر عمل کیا جائے گا۔

تاریخ میں دیکھا ہے ایک پلان امریکی صدر روزویلٹ نے بھی دیا تھا اور ابتدائی 100 دنوں میں جو قانون سازی کی اسے امریکی ترقی میں تاریخی سمجھا جاتا ہے۔ ملائیشیا کے رہنما مہاتیر محمد نے بھی 100 روزہ پلان دیا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد کچھ پر عمل ہوا اور بیشتر ٹارگٹ پورے کرتے ہوئے غلطی کا اعتراف بھی کیا اور آنے والے دنوں میں ازالے کا وعدہ بھی۔

کیا ہی اچھا ہوتا اپنے 100 روز مکمل ہونے کے بعد عمران خان بھی اسی انداز میں عوام کو اعتماد میں لیتے۔ موجودہ حکومت اپنی توانائیاں اکٹھی کرے، اپنی خوش قسمتی کا اندازہ کرے۔ صدر مملکت کے علاوہ 3 صوبوں میں انکی حکومت ہے۔ فوری طور پر کسی بڑی سیاسی مخالفت کا انہیں سامنا بھی نہیں ہے۔ تمام قومی ادارے تنقید کے بجائے مسلسل آپ کی مدد کرتے ہوئے آپکا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ مذہبی احتجاجی گروپس کو حکومتی رٹ کے اندر لانے میں ادارے آپ کے ہم نوا ہیں۔

اب تک کی کارکردگی میں بس اتنا جان لیں کہ ہم عوام پر امید ہیں مگر مایوسی کے کنارے ہی کھڑے ہو کر کیوں کہ ابتدائی 100 دنوں میں موجودہ حکومت کوئی بڑا ریلیف عوام کو نہیں دے پائی بلکہ تکالیف میں مسلسل اضافہ ہی دکھا رہی ہے۔ اس کی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان ہے اور ہوم ورک کی کمی ہے۔

رہی بات 100 دنوں پر ہونے والی تنقید کی ملک کی کسی اپوزیشن پارٹی یا عوام نے عمران خان کی حکومت کو 100 دنوں کا وقت نہیں دیا تھا۔ حکومت نے ازخود اپنی حکومت کے لیے پہلے 100 دنوں کے اہداف مقرر کیے تھے اور یوں انہوں نے عوام اور اپوزیشن کو اپنی کارکردگی جانچنے کے لیے پیمانہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ 100 دنوں تک سب صبر کا پیمانہ تھامے آپکی کارکردگی والے خطاب کا انتظار کررہے تھے۔ خلوص نیت سے دیکھا جائے 5 سالہ دور کا موازنہ 100 دنوں سے نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ موقع آپ نے ہی فراہم کیا ہے۔

بھارت پر آپ اخلاقی برتری حاصل کرچکے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب نے اپنے معاملات میں آپ کو ثالث کا درجہ دے دیا ہے۔ چین ایک اوربڑی Investment کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ امریکہ ڈومور ڈومور کرتے کرتے ہیلپ می ہیلپ می پر آگیا ہے۔ ہر طریقے سے سیاسی گراو¿نڈ میں آپ چوکے، چھکے لگانے کی پوزیشن میں ہیں یوں کہیے کہ کارنامے دکھانے کا وقت آگیا ہے۔ گفتار نرم، اپوزیشن کے ساتھ مصالحتی رویے اپنا کر بس کام میں مگن ہوجائیں۔


ای پیپر