اپوزیشن میں پھوٹ پڑگئی ،شہباز شریف پر بڑا الزام 
08 اگست 2020 (23:22) 2020-08-08

لاہور :قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گوسلوپالیسی کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا اور پیپلزپارٹی نے (ن) لیگ سے واضح جواب مانگا ہے کہ بتایا جائے کہ شہباز شریف اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں یا وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل چکے ہیں اور اے پی سی منعقد نہیں کرنا چاہتے ۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک اے پی سی کی تاریخ تو کیا اس کا ایجنڈا بھی طے نہیں ہوسکا اور اس کی بڑی وجہ بھی دونوں جماعتوں کاایک پیج پر نہ آنا ہے ۔ اسی بناء پر اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس مزید تاخیر کا شکار ہوگئی۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے ن لیگ کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ساتھ اہم بیٹھک پر غور شروع کردیا،پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کی خاموشی کے بعد آئندہ کی حکمت عملی پر غور شروع کردیا۔ 

پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ مسلم لیگ ن نے عید کے فورن بعد اے پی سے سے متعلق یقین دہانی کرائی تھی ۔عید گزرنے کے باوجود ن لیگ تاحال خاموش ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ پیپلزپارٹی نے اے پی سی بلانے پر غور شروع کردیا ہے، غور کیا جا رہا ہے کہ اے پی سی بلاکر ن لیگ کو شرکت کی دعوت دی جائے۔یہ مسلم لیگ ن پر ہے کہ وہ اے پی سی میں شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اے پی سی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ساتھ ایک اہم بیٹھک پر بھی غور ہو رہا ہے۔اگر اے پی سی نہیں بلائی جاتی تو ایک دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ایک اہم بیٹھک ہوگی۔


ای پیپر