شہدائے پولیس وشوہدائے پولیس! ....(دوسری قسط)
08 اگست 2020 2020-08-08

پولیس کے کچھ شہیدوں اور ”شوہدوں“ کے حوالے سے لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں ایک نفیس پولیس افسر رانا ایاز سلیم کا ذکر کررہا تھا، اُسے محض نون لیگی رہنما رانا ثناءاللہ کا عزیز ہونے کی وجہ سے موجودہ حکمرانوں نے اقتدار میں آتے ہی ”پنجاب نکالا“ دے کر اُس کے ساتھ نہیں اپنے ساتھ زیادتی کی، اگرحکمرانوں کا بس چلتا یا کچھ منافق اور گھٹیا پولیس افسروں کا بس چلتا اُس کا عہدہ بھی اُس سے اِس الزام کے تحت چھین لیتے کہ اُس کا سی ایس ایس کا امتحان بھی اُس کی جگہ رانا ثناءاللہ نے دیا تھا، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے حکمران شاید اتنی سوچ کے مالک نہیں ہوتے جتنے کچھ افسران ہوتے ہیں، سو ممکن ہے رانا ایاز سلیم کے کسی ”گھٹیا باس“ نے ہی خود کو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کرنے کے لیے یہ بات وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے کان میں ڈال دی ہو کہ پنجاب میں رانا ثناءاللہ کا ایک عزیز بطور ایس ایس پی کام کررہا ہے، اُس کا پنجاب سے نکالے جانا انتہائی ضروری ہے ورنہ پنجاب حکومت نہیں چل سکے گی، ہمارے اکثر پی ایس پی بڑے بزدل ہوتے ہیں، خصوصاً اپنے عہدے کی آخری حدتک پہنچ کر بزدل ہونے کے ساتھ ساتھ وہ منافق اور کاسہ لیس بھی ہو جاتے ہیں، موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی، پنجاب میں چار آئی جی تبدیل ہوئے، رانا ایاز سلیم جیسے گریٹ افسر کو پنجاب میں لانے کی کسی ایک نے کوشش نہیں کی، شاید اِس خدشے کے تحت کوشش نہیں کی کہ اِس سے کہیں حکمراں خود اُن کے بارے میں اِس شک میں مبتلا نہ ہوجائیں کہ یہ آئی جی اندر سے ”نون لیگیا“ ہے، .... دوسری جانب پنجاب میں اہم انتظامی عہدوں پر تعینات اکثر افسران ”نون لیگی“ ہیں، اہم سیاسی عہدوں پر تعینات اکثر حکمران بھی اندر سے نون لیگی ہی ہیں، خصوصاً جس انداز میں وہ لُوٹ مار کررہے ہیں، یا اس کام کے لیے اپنے کچھ عزیزوں کو اُنہوں نے آگے رکھا ہوا ہے، اُس سے تو شک وشبے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی وہ اندر سے نون لیگی ہی ہیں، سچ پوچھیں اپنی ٹیم اور دیگر کئی اعتبار سے مجھے تو اپنے وزیراعظم بھی اندر سے کبھی کبھی ”نون لیگی“ ہی لگتے ہیں، ....مرکز میں تبدیل ہونے کے بعد رانا ایاز سلیم کو موٹروے پولیس میں تعینات کردیا گیا، اب پتہ چلا ہے وہ ”سٹڈی لیو“ پر مع فیملی ایک سال کے لیے کینیڈا چلے گئے ہیں، میرا اُن سے مشورہ ہے ممکن ہو توواپس آکر اِس گھٹیا سسٹم کا دوبارہ وہ حصہ نہ ہی بنے تو اچھا ہے، یہاں جو جتنا لُچا ہے اُتنا اُچا ہے، جو جتنا بدکردار ہے اُتنی اہم پوسٹنگ کا حقدار ہے، صوفی دانشور حضرت واصف علی واصف نے تو بہت پہلے فرمادیا تھا ” اِس بے عزت معاشرے میں عزت دراصل بے عزتی ہے“ ....جہاں تک رانا ثناءاللہ کے ساتھ اُس کی عزیز داری کا تعلق ہے میں یہ بات پورے وثوق پورے دعوے سے کہہ رہا ہوں اپنی کسی ایک اہم پوسٹنگ کے لیے اس تعلق کا ناجائز استعمال تو دُور کی بات ہے جائز استعمال بھی اُس نے نہیں کیا، ایاز سلیم اپنی بے پناہ خصوصیات کی وجہ سے سگے بھائی کی طرح مجھے عزیز ہے، نون لیگ کے اقتدار میں مختلف حوالوں سے رانا ثناءاللہ کو جتنا تنقید کا نشانہ میں نے بنایا شاید ہی اور کسی نے بنایا ہو، خصوصاً سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے اُن کے خلاف جو زبان استعمال کی اُن کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق کا لحاظ بھی نہ رکھا، میرے اخلاقیات اور میری تربیت مجھے یہ زبان استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتے تھے، پر وہ سانحہ اتنا بڑا تھا دل کی بھڑاس میں نہ نکالتا تو مرجاتا، ” ضبط لازم ہے مگر دُکھ ہے قیامت کا فراز.... ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مرجائے گا“ .... اُس دوران ایک بار بھی رانا ایاز سلیم نے رانا ثناءاللہ کے حوالے سے ”ہاتھ ہولا“ رکھنے کے لیے مجھ سے نہیں کہا، نہ ہی اس سے میرے اور اُس کے تعلقات میں کوئی دراڑ آئی، .... مجھے ہمیشہ یہ دُکھ رہے گا خان صاحب اس حوالے سے بھی ”تبدیلی“ نہیں لاسکے کہ کسی افسر کو صرف اُس کی اہلیت اور کردار کے حوالے سے پرکھا جائے نہ کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ اُن کے کسی مخالف سیاستدان کا عزیز ہے، پاکستان میں خان صاحب کی خواہش یا خواب کے مطابق کوئی ”تبدیلی“ اس لیے بھی نہیں آرہی یہاں سب ایک دوسرے کے عزیز ہیں، جرنیلوں نے اپنے بچے ججوں کے ہاں بیاہے ہوئے ہیں، ججوں نے اپنے بچے سیاستدانوں اور جاگیرداروں کے گھر بیاہے ہوئے ہیں، سیاستدانوں نے اپنے بہن بھائی ججوں اور جرنیلوں کے گھر بیاہے ہوئے ہیں، افسروں نے اپنے بچے افسروں کے گھروں میں بیاہے ہوئے ہیں، موجودہ سسٹم کے تقریباً تمام کردار ایک دوسرے کے عزیز نہ ہوئے موجودہ سسٹم کچھ نہ کچھ اب تک ضرور تبدیل ہوچکا ہوتا، لہٰذا انفرادی سطح پر کسی افسر کو محض اِس لیے کسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا کہ وہ حکمرانوں کے کسی مخالف سیاسی پارٹی کے کسی رہنما کا عزیز ہے انتہائی گھٹیاسوچ ہے، جو ہمارے اکثر حکمرانوں پر غالب رہتی ہے، ہمارے محترم وزیراعظم مغربی دنیا میں پلے بڑھے ہیں، اگر اس حوالے سے اُن کی ذہنیت تبدیل نہیں ہوسکی، دوسرے شعبوں میں خاک تبدیلی وہ لے کر آئیں گے؟ افسر کی کسی اہم عہدے پر تعیناتی کے لیے اُنہیں صرف اُس افسر کی اہلیت اور کردار کو پیش نظر رکھنا چاہیے، جو وہ شاید اس لیے نہیں رکھتے ابھی خود اپنی اہلیت ثابت کرنے کے مراحل سے وہ گزر رہے ہیں، .... چند برس پہلے، شاید 2016ءکی بات ہے، میں امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے سن فرانسسکو میں تھا،اُس کے ایک شہر یا علاقے ” یونین سٹی“ میں میئر کے الیکشن ہورہے تھے، ایک امریکی فرم کا مالک اُس الیکشن میں اُمیدوار تھا، اُس کا جو مدمقابل اُمیدوار تھا وہ اُسی کی فرم کا ایک جنرل منیجر تھا، دونوں اپنے اپنے منشور کے تحت اپنی اپنی انتخابی مہم چلا رہے تھے، اُس دوران دونوں کے تعلقات میں رتی بھر فرق نہ آیا، فرم کا مالک اپنے جنرل منیجر سے الیکشن ہارگیا، اُس نے اُس کے گھرجاکر اُسے مبارک دی،یہ نہیں ہوا الیکشن ہارنے کے بعد کسی بغض یا انتقامی کارروائی کے تحت اپنے جنرل منیجر کو فرم سے اُس نے فارغ کردیا ہو، جیسے ہم نے اپنی روایات بنارکھی ہیں اور اِن غلیظ روایات کی بناءپر دنیا بھر میں ذلیل ورسوا ہوئے پھرتے ہیں، .... جیسا کہ کالم کے عنوان سے ظاہر ہے میں یہ کالم پولیس کے شہیدوں اور کچھ شوہدوں بارے لکھنا چاہتا تھا، پر ایک عظیم پولیس افسر کے بارے میں حقائق لکھ کر میں نے ایسے تمام افسروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے جو بے پناہ اہلیتوں اور صلاحیتوں کے مالک ہونے کے باوجود صرف اس لیے زیرعتاب ہیں کہ اُن کی حکمرانوں کی کسی مخالف سیاسی پارٹی کے کسی رہنما کے ساتھ کوئی عزیزداری ہے، یہاں دال صرف اُس کی گلتی ہے جس کی ”پیسے“یا ” تگڑی سفارش“ کے ساتھ کوئی ”عزیزداری“ ہے، سارا نظام ہی ”کچھ لوکچھ دو“ کے سنہری اصولوں پر قائم ہے، ہمیں خواب اِس نظام کو تباہ وبرباد کرنے کا دکھایا گیا تھا، ہمارے ساتھ دھوکہ ہو گیا، ” ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی.... آنکھ میں ”موتیا“ اُترآیا ....(جاری ہے)


ای پیپر