سندھ، مسائل ہی مسائل
08 اگست 2019 2019-08-08

آخر مسئلہ کیا ہے کہ سندھ میں ہرہفتے پندرہ روز میں کسی ایک یادوسرے شعبے کی کارکردگی منکشف ہوتی رہتی ہے؟ عوام مسائل اور تکالیف سے دوچار ہوتے رہتے ہیں۔تقریباً تمام شعبے باری باری اپنے’ کارنامے ‘ دکھا چکے ہیں۔لاڑکانہ میں آئی ایچ وی کے متعدد کیسز سامنے آئے۔ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اس طرح کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان آگیا۔ گھوٹکی، سکھر اورشکارپور کے علاقوں میںاغوا برائے تاوان کی وارداتیں منظم شکل اختیار کر گئی ہیں۔ جیسے اغوا برائے تاوان ایک نئی انڈسٹری بن گئی ہے۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران زنانہ آواز اور خواتین سے دوستی کے دھوکے میں آکر دودرجن سے زائد افراد اغوا ہو چکے ہیں۔ معاشرے کے کمزور طبقے خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہر ماہ خواتین پر تشدد یا زیادتی کے درجن بھر واقعات رونما ہو رہے ہیں۔یہی صورتحال بچوں کی ہے۔ صوبے میں بہبود خواتین کا محکمہ اور خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لئے ایک عد د کمیشن موجود ہے۔ اس کمیشن کے عہدیداران متاثرہ خاندان کے پاس تعزیت کے لئے جاتے ہیں،یہ ادارے صوبے میں خواتین کے خلاف ہونے والے واقعات کے اعدادوشمار بھی جمع نہیں کر پائے ہیں، اور نہ تحقیق کر کے ان واقعات کے کارفرما عوامل، محرکات اور اسباب کو عوام کے سامنے لا سکے ہیں۔ اگر ایسا کرتے تو حکومت کو پالیسی سازی یا انتظامی اقدامات کرنے پڑتے۔ لگتا ہے کہ یہ ادارے زمینی حقائق سے دور صرف خانہ پری کر کے فائلوں کے پیٹ بھر رہے۔

حالیہ بارشوں نے بلدیاتی اداروں اور حکومت دونوں کی کارکردگی کو بے نقاب کردیا۔ اگرگٹروں اور نالوں کی معمول کی صفائی بھی کی جاتی تو لاکھوں لوگوں کو بارش کی وجہ سے تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ تعلیم کے شعبہ کی بھی حالت زار ہے۔ سابق وزیر سردار علی شاہ نے اپنے تئیں اس کو بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن نجی سکولوں اور محکمہ تعلیم کے اند موجود لابیوں نے کچھ کرنے نہیں دیا۔ اس ضمن میں خود حکمران جماعت کے اراکین بھی آڑے آئے۔ ان سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لے لیا گیا ہے ۔ اب وزیراعلیٰ خود محکمہ تعلیم کو دیکھیں گے۔ نہ معلوم کہ وزیراعلیٰ اپنی گونا گوں مصروفیات میں تعلیم جیسے محکمے کو کس طرح سے دیکھ پائیں گے جس کی روزانہ کی بنیاد پر مانٹرنگ کی ضرورت ہے۔

ایسا بھی نہیں کہ حکومت متذکرہ بالا مسائل سے آگاہ نہیں۔یہ مسائل حکومت کے علم میں ہیں۔ لیکن وہ اس معاملے میں sensitised نہیں ہے، لہٰذا یہ سب کچھ اس کی ترجیحات میں نہیں آتا۔ دیکھا گیا ہے جب جب کوئی مسئلہ شدت اختیار کر گیا اور اسے بھرپور طریقے سے اٹھایا گیا، حکومت میں حساسیت پیدا ہوئی اور اس نے وقتی تدابیر تو کیں۔ لیکن مسئلے کی جڑ کو نہیں دیکھا یوں یہ مسئلہ عارضی طور پر تو دب گیا ، وہ پھر کسی وقت سازگار حالت پیدا ہونے پر دوبارہ سر اٹھالیتا ہے۔ اگر گزشتہ چار پانچ سال کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو نظر آئے گا کہ حکومت کبھی ایک مسئلے، تو کبھی دوسری اور کبھی تیسرے مسئلے کے پیچھے دوڑتی رہتی ہے۔ اصل میں سسٹم موجود نہیں،جو مسائل کو بروقت او رروزمرہ کی بنیاد پر دیکھے اور حل کرے، نتیجے میں اچانک مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں جو گورننس کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔

یہ سندھ کے بعض شعبوں کی کچھ جھلکیاں ہیں، اس صورتحال میں سندھ کابینہ میں دو نئے وزراء کو بھرتی کیا گیا ہے۔ اس سے نہیں لگتا ہے سندھ حکومت مسائل کے لئے سنجیدہ ہے۔ بلکہ کابینہ میں حالیہ توسیع پارٹی کے اندر اقتدار کے ڈھانچے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سے قبل بعض اضلاع اور لابیوں کو کابینہ میں نمائندگی حاصل نہیں تھی۔ انہیں نمائندگی دی گئی۔ سندھ کابینہ میں تین چار وزراء کو چھوڑ کرماضی کے سیاسی وڈیرے موجود نہیں۔اس طرح کے لوگ شامل نہیں جن کی پارٹی کے علاوہ کوئی سماجی یا سیاسی شناخت ہو یا اثر رسوخ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے زمیندار یا جاگیردار پیپلزپارٹی کے بجائے اس کے مخالف کیمپ میں ہیں۔ٹھٹھہ کے شیرازی خاندان کے ساتھ پیپلزپارٹی کے قربت اور رقابت کے تعلقات رہے ہیں۔ انہیں اختیار و اقتدار کے حوالے سے کم اہم سماجی بہبود کا قلمدان دیا گیا ہے۔یہاں پر وہ صرف پروٹوکول کا ہی مزہ لے سکتے ہیں۔ ہالہ کے مخدوم خاندان کے پاس بھی کم اہمیت کا حامل محکمہ ہے۔ دیکھا جائے تو ٹھٹھہ کے چانڈیو، بدین کے تالپور اور سید، میر پورخاص کے بھی سید اور تالپور کابینہ سے باہر ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ان خاندانوں کا طوطی بولتا تھا۔ یہی صورتحال میرپورخاص کے جیلانی خاندان کی ہے۔ میرپورخاص کی نمائندگی ہریرام کشوری لال کر رہے ہیں۔ وہ پیپلزپارٹی کے پرانے جیالے ہیں۔ تھر کا کوئلہ اور قحط حکومت لئے اہم ہیں، جہاں تھر کی مدد اور ترقی کے لئے اربوں روپے خرچ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس خطے کو سیاسی اہمیت حاصل نہیں۔ ارباب لطف اللہ کو وزارت اور سنیٹ کی سیٹ کاآسرا دیکر پیپلزپارٹی میں شمولیت کرائی گئی۔ لیکن اب ایک سال ہونے کو ہے تاحال وہ ایدجسٹ نہیں ہو سکے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا خاندانی پس منظر بتایا جاتا ہے۔اور یہ بھی کہ اقتدار کے لئے پارٹی تبدیل کرنے والوں کو کابینہ میں نہیں لیا گیا۔ خیرپور سے وسان خاندان بھی کابینہ میں موجود نہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ گھوٹکی کے سیاسی خاندانوں اور سکھر کے سید خاندان کا ہے، ان دو اضلاع سے چار وزراء لئے گئے ہیں۔

اصل میں پیپلزپارٹی نے پرانے اور روایتی سیاسی وڈیروں کو ہٹا کر ان کی جگہ پر اپنے اور نئے سیاسی وڈیرے بنائے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا سیاسی ، سماجی اور مالی حوالے سے رتبہ پیپلزپارٹی کی وجہ سے بنا لہٰذا وہ پیپلزپارٹی کے ہی احسان مند ہیں۔ ایک نظر میں لگتا ہے کہ سندھ کے اقتدار پر پارٹی کی گرفت مضبوط ہوئی ہے۔ لیکن عملاً پارٹی کی نہیں قیادت کی گرفت مضبوط ہوئی۔ کیونکہ یہ سوال اپنی جگہ پر ہے پارٹی اپنے ڈھانچے میں کتنی جمہوری ہے؟ خیال رہے کہ پارٹی کا عوامی ہونا اور جمہوری ہونا دو الگ الگ چیزیںہیں۔


ای پیپر