مودی سرکا رکے لیے کام آسان نہیں!
08 اگست 2019 2019-08-08

مودی سرکار نے انتخابی کامیابی اور نمبروں کے کھیل کے نشے میں مست ہوکر ایسا کا م کیا جو اس کی سیاست اور طاقت کے لیے بھی ایک دن خطرہ بن جائے گا۔راجا ہری سنگھ نے شروع میں آزاد رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی بھی ملک میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔ لیکن بعد میں کشمیریوں نے اپنے حق کے لیے جہاد کیا تو ہری سنگھ نے ہندوستان سے مدد مانگی۔تب ہندوستان نے کہا کہ اگر وہ جموں و کشمیر کے انسٹرومنٹ آف ایکسیشن پر دستخط کرتے ہیں، تو ہندوستان مدد کر سکتا ہے۔ اس طرح نہرو نے بلیک میل کیا جس کے جواب میںہری سنگھ نے 26 اکتوبر 1947 کو انسٹرومنٹ آف ایکسیشن پر دستخط کیے ا ور اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 27 اکتوبر 1947 کو اس کو منظور کیا۔ہندوستان کی اس وقت کی یہ پالیسی تھی کہ جہاں کہیں بھی ہندوستان میں شامل ہونے یا نہ ہونے کو لیکر تنازعہ ہے، وہاں پر عوام کے فیصلے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا ۔سال 1948 میں حکومت ہند کے ذریعے جموں و کشمیر پر پیش کئے گئے وہائٹ پیپرز میں لکھا گیا تھا کہ ہندوستان میں کشمیر کا شامل ہونا پوری طرح سے عارضی اور لمحاتی ہے۔ جو منظر نامہ مودی سرکار نے بنا دیا ہے اس کے لیے ہمیں د نیا کی مدد کی ضرورت ہے۔نیب کی جانب سے احتساب کی جو حکمت عملی ہے وہ اس نازک صورت حال میں اچھا تاثر پیدا نہیں کر رہے ہیں ۔

ہم کیا لوگ ہیںایک سال کی محاز آرائی میں چور اور ڈاکو کی گردان میں ہم 5اگست کا سبق بھی بھول گئے کہ بھارت کی راجیا سھبا میں سوا گیارہ بجے بھارتی وزیر داخلہ نے آئین سے 370 کی شق نکالتے ہوئے اپوزیشن کو کہا کہ بل کے حق میں زور دار بحث کریں ۔ جب بحث کا آغاز ہوا تو پرانے کانگرسی ممبر کیپل سپل نے مائیک لیا اور بے جے پی کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی دھجیاں بکھیر دیں ۔انہوں نے خبر دار کیا کہ نمبروں کی اکثریت سے آپ آئین کو ایسے بدل دیں گے ۔آپ ہم سے کہتے ہو آئین کی چرچا کرو کس بات کا چرچا کریں آپ نے سٹیک ہولڈر کو،سیاسی جماعتوں کو۔ پالیمنٹیرین کو پوچھا تک نہیں اور گورنر کو اعتماد میں نہیں لیا۔آپ تو کہتے تھے’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘۔ لوک سبھا میں بھی کانگرس اکھلیش یادو ،ششی تھروور،اسد الدین اویسی نے دھواں دار تقریر یں کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی کا اصل چہرہ دکھایا۔ہم نے کیا کیا پارلیمنٹ نے ایک قراد داد پاس کی اچھی بات یہ متفقہ تھی مگر ہماری حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر نہیں تھی کسی نے دھیان نہیں دیا جب سید مشاہد حسین نے کہا تھا کہ مودی نے جو کچھ کیا ہے وہ سازش ہے ۔ ایوان میں ایک دوسرے کو ننگا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، اگلے دن آپ نے وہ کام کیا جو کشمیر میں کشمیریوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ مریم نواز جو نواز شریف سے جیل میں ملاقات کے لیے گئی ہوئی تھیں، ان کو گرفتار کر لیا ۔ گرفتاری کی وجہ سمجھ میں آگئی ہے۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر جلسے کر رہی تھیں ۔ جم غفیر ان کے جلسوں میں ہو تا تھا۔ ابھی مریم نے سینٹ کے انتخاب پر جو ٹویٹ کیا تھا وہ اشرافیہ کو پسند نہیں آیا تھا۔ ایک ایسے موقع پر جب پاکستان عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑنے جارہا ہے۔ جب کشمیریوں کو دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے تو پاکستان کی حکومت شہباز شریف کے مطابق اپوزیشن کو دیوار میں چنوا رہی ہے۔ ایسے رویے سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔یہ حکومت کے سوچنے کا لمحہ ہے۔ سینٹ میں جو ہوا ضمیر فروشی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ بھارت کے اپوزیشن لیڈروں کو تو اتنی آزادی ہے کہ وہ مودی سرکار کے ظالمانہ اقدام کے خلاف لوک سبھا میں مودی کی موجودگی میں آواز اٹھائیں۔اور انہوں نے لوک سبھا میں تقریریں کیں کانگرس اور ان کے اتحادی لیڈر ہماری زبان بول رہے تھے کشمیریوں کے لیے انصاف مانگ رہے تھے۔ ۔ ہم ایک دوسرے کے ایوان کے اندر گریبان پکڑ رہے ہیں گالی گلوچ کر رہے ہیں ۔دنیا سے ہم کہہ رہے ہیں ہماری مدد کرو۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ لیام برن نے کشمیریوں کی حمایت کر دی، انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بھارتی فیصلہ کسی طور قبول نہیں ، بھارتی حکومت کو تمام غیرقانونی اقدامات واپس لینے ہوں گے۔

مہاتیر محمد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا اس معاملے میں چاہتا ہے کہ فریقین اس مسئلے پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی پاسداری کریں تاکہ عالمی امن کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ کمزور آوازیں ہیں ۔ مودی سرکار کشمیر کو تقسیم کر کے مسلم اکثریت کو ختم کر نے جارہی ہے۔یہاں سرمایا کاروں کو لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ہر کوئی یہاں جائیداد خرید سکے گا۔جموں و کشمیر میں غیر ریاستی باشندو ں پر جائیدادیں خریدنے پر پابندی کا قانون 1927ء میں ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے کئی عوامل کی وجہ سے لاگوکیا تھا۔ ایک وجہ کشمیری پنڈتوں کا اس بات پر احتجاج تھا کہ سرکاری نوکریوں میں غیر ریاستی باشندوں کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے‘ جس سے پنڈتوں کی نمائندگی پر اثر پڑ رہا ہے۔ کشمیری مسلمان عموماً ان پڑھ اور سرکاری ملازمتوں میں برائے نام ہی تھے، اس لئے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔مہارا جہ کو یہ خوف تھا کہ کہیں برطانوی افسران کشمیر میں مستقل رہائش اختیار نہ کر لیں، تقسیم کے بعد 1948ء میں جموں و کشمیر پر حکومت نے ایک وہائٹ پیپر جاری کیا تھا‘ جس میں سردار پٹیل کا یہ بیان موجود ہے؛الحاق کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت ہند نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اسے بالکل عارضی مانتی ہے جب تک کہ اس بارے میں ریاست کے لوگوں سے ان کی رائے نہیں معلوم کی جائے گی۔ ہندو اس وعدے سے مکرتے رہے ۔جموں کشمیر کو اس کے خصوصی درجہ سے محروم کرنے اور اس کے دو ٹکڑے کرنے کے مودی سرکار کے فیصلے پر منگل 6اگست کو لوک سبھا میں بھی مہر لگادی۔ اس کے ساتھ ہی وزیر داخلہ امیت شا نے اعلان کیا کہ حکومت جموں وکشمیر کے ان علاقوں کو بھی حاصل کرنے کیلئے کوشش کرتی رہے گی جو پاکستان اور چین کے قبضے میں ہیں۔ اس بیچ اپوزیشن نے حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے شکایت کی کہ اس نے جن کے بارے میں قانون بنا یا ہے ان سے صلاح و مشورہ تک نہیں کیا جارہا ہے۔ دفعہ 370? اور دفعہ 35 اے کو ختم کرنے والی قرار داد اور جموں کشمیر تشکیل نو بل 2019 پر ووٹنگ میں 424 اراکین پارلیمان نے حصہ لیا جن میں سے قرار داد کے حق میں 351 ووٹ پڑے جبکہ قرار داد کے خلاف محض 72 ووٹ ہی پڑ سکے۔ اس کے بعد جموں کشمیر تشکیل نوبل 2019 پر ووٹنگ ہوئی جس میں 433 اراکین نے حصہ لیا۔ 366 ووٹ بل کے حق میں پڑے جبکہ محض 66 ووٹ بل کے خلاف ڈالے گئے۔آرٹیکل 370 کو 17 اکتوبر 1949 کو ہندوستان کے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ سارا کچھ ووٹوں کی اکثریت پر کیا گیا ۔ جس کو اپوزیشن جماعتوں نے بھارت کی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے

آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کے بارے میں پار لیمنٹ کے قانونی اختیارات کو پابند کرتا ہے۔‘ انسٹرومنٹ آف ایکسیشن‘ میں شامل کئے گئے موضوعات سے متعلق کسی مرکزی قانون کو جموں و کشمیر میں نافذ کرنے کے لئے ریاستی حکومت کا مشورہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ہندوستان اور پاکستان کی تشکیل کے بعد انسٹرومنٹ آف ایکسیشن لایا گیا تھا۔ اس کے ذریعے تقریباً 600 ریاستوں کو ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے کی تجویز رکھی گئی۔ ہندوستان میں شامل ہونے کے لئے انسٹرومنٹ آف ایکسیشن کے ذریعے جموں و کشمیر سمیت دیگرریاستوں نے اصول اور شرطیں رکھی تھیں۔

اصول کے مطابق، انسٹرومنٹ آف ایکسیشن میں لکھے سبھی وعدوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور اگر ان کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو دونوں فریق اپنی ابتدائی حالت میں لوٹ سکتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے علاوہ دیگر ریاستوں کو بھی آرٹیکل 370 کے تحت (آرٹیکل 371اے سے لیکر آرٹیکل 371آئی تک) خصوصی درجہ دیا گیا ہے۔


ای پیپر