بارشیں جو کبھی بارانِ رحمت ہوا کرتی تھیں
08 اگست 2019 2019-08-08

انسان اپنی زندگی میں ہر طرح کی خوشیاں اور آرام و سکون کی خواہش رکھتا ہے اور اسی کوشش میں اپنی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب، دیہاتی ہو یا شہری، کسان ہو یا مزدور، ملازم ہو یا سیاستدان اس سے یہاں کوئی تفریق نہیں ہوتی، نہ عہدے و مرتبے کی، نہ مذہب کی ذات کی اور نہ ہی رنگ و نسل کی۔ کبھی اسے اپنی خواہشات کے مطابق خوشیاں مل جاتی ہیں کبھی ان کی جگہ پر کچھ نئی خوشیوں کا حصول ہو جاتا ہے لیکن اکثراوقات یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ انسان کی زندگی زیادہ تر تکالیف و مصائب سے ہی دوچار رہتی ہے۔ کبھی اس کی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے، کبھی مطلب پرست دنیا کی چالبازیوں کی وجہ سے تو کبھی جمہوری اربابِ اختیار کی لاپرواہیوں کی وجہ سے جن کا پہلا کام عوام کو مصائب سے نجات دلانا ہوتی ہے۔

بارشیں جو کبھی بارانِ رحمت ہوا کرتی تھیں ، بارشوں کے موسم کو سال کا بہترین اور خوشگوار ترین موسم قرار دیا جاتا تھا لیکن آج ہمارے قائدین کی کرم فرمائیوں سے وبالِ جان بن چکی ہیں۔ آج بارش ہوتی ہے تو اسے بارانِ رحمت کہنے والے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں۔ آج کی بارش تباہی اور بربادی کی خبریں لاتی ہے۔ ہر سال گٹر ابلتے ہیں، ہر سال بربادیاں نمودار ہوئے چلی جاتی ہیں مگر آفرین ہے ہمارے قائدین پر کہ وہ نہ جانے اور کس قسم کے ضروری کاموں کی طرف توجہ مرکوز کئے بیٹھے ہیں کہ انہیں ایک تسلسل کے ساتھ ہونے والے عمل سے نمٹنا نہیں آیا۔ آخر اس بات کی کیا منطق ہے کہ جس صورتحال سے ہمیں ہر سال واسطہ پڑتا ہے اس سے ہمارے ذمہ داران بطریق احسن نمٹنے کی کی کوئی حکمتِ عملی کیوں تیار نہیں کرتے؟ بات اگر کسی ناگہانی آفت کی ہو تو صفائی پیش کی جا سکتی ہے کہ سب کچھ اچانک اور غیر متوقع طور پر ہوا لہٰذا کوئی تدبیری اقدامات قبل از وقت نہیں کئے جا سکے لیکن ہر سال ہونے والی بارشوں کے حواے سے آخر پیشگی انتظامات اور بندوبست کرنے میں کون سے امور مانع ہیں؟ اکثر اربابِ اختیار کی جانب سے یہ اعتراض سننے میں آتا ہے کہ کہ پبلک پلاسٹک کے شاپر بیگز نکاسی کے نالوں میں پھینک کر انہیں بند کر دیتی ہے جس کی وجہ سے بارشوں کا پانی سڑکوں پر نکل آتا ہے لیکن یہ بہانہ اتنا مناسب نہیں کہ اسی کو حتمی تسلیم کر لیا جائے۔ ہمارے متعلقہ محکموں کے پاس ہیوی مشینری کی کوئی کمی نہیں ہے کہ وہ بارشوں کے موسم سے قبل تمام گندے نالوں اور گٹروں وغیرہ کی صفائی نہ کرا سکے۔ اگر ساری کی ساری ذمہ داری عوام کے شاپر بیگز پر ہی ڈالنی ہے تو پھر ان متعلقہ محکموں کے لئے اربوں کھربوں کا بجٹ مختص کرنے کی آخر کون سی ضرورت رہ جاتی ہے؟ اور باتیں تو ایک طرف ہمیں آج تک اس بات کی سمجھ نہیں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والی سڑکوں پر آخر کوئی نکاسیِ آب یعنی ڈرینج کا انتظام کیوں نہیں رکھا جاتا؟ اسفالٹ سے بنائی ہوئی سڑک پر اگر پانی جمع ہو جائے تو وہ اکھڑ جاتی ہے اور یہ نئی بنی ہوئی سڑک جب کسی ایک جگہ سے اکھڑتی ہے تو پھر اکھڑتی ہی چلی جاتی ہے۔ اگر نکاسی آب کا انتظام سڑک بنانے کے ساتھ ہی کر دیا جائے تو نہ پانی سڑک پر جمع ہو گا اور نہ ہی سڑک کسی جگہ سے اکھڑے گی۔

کراچی میں ہومے والی حالیہ شدید بارش کے نتیجے میں کاروباری اور سماجی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں ۔ سڑکوں پر پانی کا یہ عالم تھا کہ گاڑیاں تیرتی ہوئی نظر آتی تھیں ۔ حکومتِ سندھ اور بلدیاتی اداروں کے دعوے، احکامات اور انتظامات کہیں نظر نہ آئے، شہریوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا۔حالیہ مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے شہر کی آبادی میں تو تیزی سے اضافہ ہوا لیکن اس کے لئے سہولیات میں اضافہ نہیں کیا گیا اور آج وہاں عوام کی زندگی عذاب بنتی جا رہی ہے۔ اس سب خرابیوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرے کی تقدیر چند افراد کے ہاتھوں میں دے دی گئی ہو اور وہ افراد خود کو عقلِ کل تصور کرتے ہوں اس معاشرے کی حقیقی نشو نما کی توقع عبث ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سال میں ایک بار ہونے والی موسمی بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا آخر کوئی منصوبہ کیوں نہیں بنایا جاتا جس سے ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریوں کے عذاب سے بھی نجات ملے ، دوسری طرف خشک سالی کے مہینوں میں اس جمع شدہ پانی کو استعمال کر کے خشک سالی کے عذاب سے بھی نجات حاصل ہو سکے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس وقت وطنِ عزیز کو درپیش مسائل میں سے پانی سب سے اہم مسئلہ ہے مختلف اضلاع میں پانی کی کم فراہمی کی وجہ سے فصلیںتباہ ہو رہی ہیں۔ لہٰذا بارشوں اور سیلابوں کے پانی سے ایک طرف تو آبادیوں اور فصلوں کو بچایا جائے تو دوسری طرف اس پانی کو ان مہینوں کے لئے بچایا جائے جب فصلیں خشک سالی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس مقصد کی خاطر بنجر زمین پر بڑے بڑے تالاب بنائے جا سکتے ہیں۔

بہر حال اصل بات یہ ہے کہ کراچی میں بارش سے جس طرح معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں اس سے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ ہماری حکومتوں نے لانگ ٹرم پلاننگ کی بجائے وقتی پالیسی اپنا رکھی ہے، اس غفلت کا نتیجہ آج یہ ہے کہ کراچی کے عوام کو اتنی اذیت برداشت کرنا پڑی۔ بلا شبہ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ بارشوں سے ہونے والی تباہ کاریوں کا کوئی ٹھوس انتظامی ڈھانچہ ملک کی موسمیاتی تقدیر نہیں بدل سکا اور قوم برسوں سے موسم اور آفات کے رحم و کرم پر ہے، چاہے مون سون بارشیں ہوں یا دیگر آفات و غیر معمولی صورتحال ملک ہیجانی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ انفرااسٹرکچر کی کمی ، نکاسی آب کے میکنزم کے فقدان، حکومتی ریلیف اور ریسکیو آپریشنز میں مستعدی اور مربوط سائنسی پلاننگ کا دور دور تک پتہ نہیں ہوتا، کراچی شہر کو نامساعد حالات کا سامنا ہے، داخلی کشمکش جاری ہے، شہر برباد ہو رہا ہے۔ عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ ایمر جنسی اقدامات و فوری ریلیف، طبی امداد، نقل مکانی اور بحالی کے کاموں کی نگرانی کے امور میں فوجی جوان پیش پیش ہوتے ہیں۔ منی پاکستان میں فراہمی و نکاسی آب کا کوئی پائیدار، مثالی، شفاف اورفالٹ فری روڈ میپ تیار نہیں کیا جا سکا۔ اربابِ اختیار ایڈہاک ازم کے بجائے ملک کے کروڑوں عوام کو بارانِ رحمت سے لطف اندوز ہونے کے فطری مواقع مہیا کریں اور بارشوں کو زحمت بننے نہ دیں۔


ای پیپر