دیسی کتا، ولایتی بھونک…
08 اگست 2019 2019-08-08

دوستو، سرائیکی وسیب کی پرانی کہاوت ہے، دیسی کتا، ولایتی بھونک۔۔اب اگر اس کہاوت کی تشریح کرنے بیٹھ جائیں گے تو آپ اس کا لطف لے نہ پائیں گے۔۔ ویسے یہ کہاوت آج کل ہمارے پڑوسی ملک کے وزیراعظم پر فٹ بیٹھتی ہے۔۔ کشمیر میں جو کچھ مودی سرکار نے شروع کردیا ہے اس پر صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ شروعات تم نے کی ہے تو ’’دی اینڈ‘‘ ہم نے کرنا ہے۔۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے جب مودی سرکار نے ’’ایڈونچر‘‘ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن منہ کی کھانی پڑی۔۔ اپنے جہاز تباہ کرائے اور ’’ابھی نندن‘‘ کو شاید ہی بھارتی قوم کبھی بھلا پائے۔۔جہاز پر یاد آیا۔۔ پاکستان میں جہاز کا استعمال صرف دو لوگوں نے بروقت اور بہترین انداز میں کیا۔۔ایک ایم ایم عالم تھے، جو پینسٹھ کی جنگ کے ہیرو تھے اور جنہوں نے ایک منٹ میں پانچ بھارتی جہاز مارگرائے تھے۔۔دوسرے جہانگیر ترین ہیں۔۔اب جہانگیر ترین کیوں ہیں اس کی وجہ ہم نہیں بتاسکتے ،کیوں کہ ہمارا یہ کالم قطعی غیرسیاسی ہوتا ہے۔۔ کچھ باتیں پردے میں رہنے دیا کریں۔۔ چلیں باتیں بہت ہوگئیں اب کچھ اوٹ پٹانگ گفتگو کا وقت ہواچاہتا ہے۔۔

میری گیس کا پریشر نہیں آرہا،پڑوسن نے جب صبح صبح فون کرکے ہمارے پیارے دوست سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیاتو انہوں نے پڑوسن کو ایک چمچ نہارمنہ ’’پھکی‘‘ کھانے کا مشورہ دے ڈالا۔۔اس کے بعد پڑوسن نے اسے وہ ’’کوسنے‘‘ دیئے کہ جسے اس نے سب ’’ان سنے‘‘ کردیئے۔۔ایک پریشان حال خان صاحب سرپکڑے بیٹھے تھے، کسی دوست نے پوچھ لیا ، اتنے پریشان کیوں ہو، کوئی وجہ ہے تو بیان کرو۔۔خان صاحب نے اسے بتایا کہ۔۔بچپن میں اپنے باپ کی سن لیتا تو آج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔۔دوست کو حیرت ہوئی، اس نے پوچھا، آپ کے والد بزرگوار بچپن میں آپ کو کیا کہتے تھے۔۔خان صاحب نے جھلا کر جواب دیا۔۔ اگر سن لیتا تو بتا نہ دیتا ۔۔ہمارا بھی آپ کو مشورہ ہے کہ اگر آپ سے کوئی کام کی بات کرے تو اسے فوری سنا کریں اور کام کی بات اچھی لگے تو اسے اپنے پلو سے باندھ لیا کریں۔ اب آپ کہیں گے کہ ’’پلو‘‘ تو خواتین کا ہوتا ہے، مرد حضرات اچھی بات کہاں باندھ لیا کریں؟؟ اس کے لئے آپ کو جگہ خود تلاش کرنا ہوگی، ہمارا کام تھا سمجھانا سو سمجھا دیا۔۔

ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے۔۔میں کیوں کہوں کہ میری عمر بھی آپ کو لگ جائے، ہوسکتا ہے میرا آخری دن ہو اور آپ بھی میرے نال ہی ’’ٹنگے ‘‘جاؤ۔۔لڑکی بالیوں کا حسن دیکھ کر وہ دل جلے انداز میں مزید فرماتے ہیں کہ ۔۔سوہنا ہونا کونسا’’ سوکھا ‘‘کام ہے، اتنے فشل اورا سکن پالشیں کرنی پڑتی ہیں۔۔ایک ادھیڑ عمر کی خاتون جب کسی تقریب کے لئے بیوٹی پارلر سے سج سنور کر گھر میں داخل ہوئیں تو شوہر اخبار پڑھ رہا تھا، خاتون خانہ نے اپنے شوہر کی توجہ چاہی اور پوچھ بیٹھی، سنیئے ، بیوٹی پارلر سے ہوکر آئی ہوں ،بتائیے تو کیسی لگ رہی ہوں؟ شوہر جو شاید کافی بیزاری کی حالت میں اخبار پڑھ رہا تھا یا پھر اخبار پڑھ پڑھ کر بیزار ہوچکا تھا، ایک نظر بیگم پر ڈالتے ہی بول اٹھا۔۔کیوں کیا بیوٹی پارلر بند تھا؟؟ہمارے پیارے دوست کے استاد محترم جناب باباجی فرماندے نے۔۔جو لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، لوگ ان کے ہر کام۔ سے کام رکھنے لگتے ہیں۔۔باباجی کاہی ایک اور قول ہے۔۔مرد کے لئے سب سے بڑا موضوع عورت ہے، اور عورت کے لئے سب سے بڑا موضوع دوسری عورت۔۔باباجی جب اپنے ایک عزیز دوست کی بیوی کی میت پر اظہار افسو س کے لئے گئے تو دیکھا کہ ان کے دوست ’’ہشاش،بشاش‘‘ اور خوش و خرم نظرآرہے تھے، آنسو نام کی کوئی شئے ان کے دوست کی آنکھوں میں نظر نہیں آرہی تھی، تو بابا جی نے چپکے سے اپنے عزیزدوست کے کان میں مشورہ دیا۔۔یاریہی تصور کرلے کہ وہ واپس آرہی ہے۔۔

اب ہم جو مشورہ آپ کو دینے لگے ہیں اسے خواتین اپنے ’’ پلو‘‘ سے باندھ لیں، مردحضرات اسے اپنے موبائل میں ’’ محفوظ‘‘ کرلیں، بچے اسے اپنے کمپیوٹرز میں اور لڑکیاں اسے اپنے میک اپ باکس میں ہمیشہ کے لئے رکھ لیں۔۔مشورہ یہ ہے کہ ۔۔ کچھ لوگ دیکھنے میں عجیب عجیب لگتے ہیں ،مگر کچھ دیر بات کرنے سے ہی پتہ لگتا ہے ’’چول ‘‘بھی ہیں۔۔جس طرح چپلی کباب میں، چپل نہیں ہوتی، آلو بخارے میں آلو نہیں ہوتا۔۔روح افزا میں روح نہیں ہوتی۔۔فیئراینڈ لولی میں فیئرنس اور لولی پن نہیں ہوتا۔۔لوہے کے چنوں میں بھلا کب لوہا ہوتا ہے؟ وٹہ سٹہ میں کب وٹے ہوتے ہیں؟؟میٹھا سوڈے میں تو کچھ بھی میٹھا نہیں ہوتا۔۔تاشقند میں کب تاش ہوتے ہیں؟؟گلاب جامن میں گلاب نہیں ہوتا۔۔ افغانی پلاؤ میں افغانی نہیں ہوتا۔۔۔مٹی کے تیل میں مٹی نہیں ہوتی۔۔جمال گھوٹے میں جمال نہیں ہوتا۔۔کشمیری چائے میں کشمیر نہیں ہوتا۔۔ماسٹر بریانی میں ماسٹر نہیں ہوتا۔۔ اسی طرح عمران یات میں عمران نہیں ہوتا۔۔

شادی کی ایک تقریب میں گیا تو وہاں مختلف قسم کی آنٹیوں سے ملاقات ہوئی۔۔ ان آنٹیوں کے فیشن دیکھ کر تو کترینہ اور کرینہ کو بھی آجائے پسینہ۔۔ ایک آنٹی نے تو لپ اسٹک اس طرح لگائی ہوئی تھی جیسے سموسے پر چٹنی رکھی ہو۔۔ ایک مسلسل اور کالی سیاہ آنٹی نے اتنا پوڈر چہرے پر تھوپا ہوا تھا کہ ایک کمرے کی دیواریں سفید ہوجاتیں۔۔ایک آنٹی نے ہمیں بتایاکہ ان کی شادی کی سلورجوبلی جنوری میں ہوگی،ہم نے پوچھا،یہ بتائیںاچھے اور برے شوہر میں کیا فرق ہوتا ہے؟؟۔۔ وہ حیرت سے بولیں۔۔ کیا اچھے شوہر بھی ہوتے ہیں۔؟ ویسے ان آنٹیوں اور نیوز چینل میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔۔ جب تک ایک بات سو دفعہ نہ کرلیں دونوں کو ہی سکون نہیں ملتا۔۔ ایک آنٹی دوسری آنٹی سے پوچھ رہی تھیں کہ یہ دلہنوں کو شادی کے وقت سرخ جوڑا ہی کیوں پہنایا جاتا ہے تو دوسری والی آنٹی نے جواب دیا۔۔ معلوم نہیں کیا لال رنگ خطرے کی علامت ہوتا ہے۔۔ایک آنٹی تو شادی کی تقریب میں اتنی زیادہ جیولری پہن کر آئی تھیں کہ ایسا لگا وہ’’ بپی لہری‘‘ ہوں، ویسے سائز میں بپی لہری سے کم نہیں تھیں۔۔ سونے کے کڑوں میں موٹی موٹی کلائیوں کا دم گھٹ رہا تھا، گردن تو جیسے تھی ہی نہیں مگر پھر بھی اس میں بڑا سا ہار لٹکایاہواتھا۔۔دو آنٹیاں بہت قہقہے لگا کر ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر باتیں کررہی تھیں۔۔ہم نے اپنے ریڈارکان ان کی جانب کان لگادیئے۔۔ ایک آنٹی دوسرے کو کہہ رہی تھی۔۔ کوئی شوہر اتنا برا بھی نہیں ہوتا جتنا اس کی بیوی سمجھتی ہے اور کوئی اتنا اچھا بھی نہیں ہوتا جتنا اس کی ماں سمجھتی ہے۔۔ایک آنٹی نے دوسری والی آنٹی سے پوچھا۔۔ تمہارے شوہر کہاں ہیں۔۔ کہنے لگیں۔۔ ہمارے علاقے میں کئی ماہ سے پانی نہیں آرہا تھا تو ہم نے پارکنگ ایریا کے پاس بورنگ کیلئے کنواں کھدوا لیا۔۔ میرے شوہر کل اس میں گر گئے۔۔آنٹی نے ایک انگلی دانتوں تلے دبائی اور پوچھا پھر؟۔۔ دوسری والی آنٹی شانے اچکا کر بولی۔۔ نوپرابلم، گرگئے تو کیا ہوا، میں تو ویسے بھی فلٹر والا پانی پیتی ہوں۔


ای پیپر