عمران خان، راحیل شریف اور نوا زشریف 
08 اگست 2018 2018-08-08

عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ میں ناجائز تعمیرات اور تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ارشاد فرمایا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان آئندہ وزیراعظم ہیں۔ لہٰذا بنی گالہ میں تجاوزات کے معاملے کو وہ خود دیکھیں۔۔۔ یہ ان کے لیے ٹیسٹ کیس ہو گا۔۔۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بنی گالہ میں تجاوزات پر دفعہ 144 نافذ ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ نئی حکومت کو بنی گالہ میں تجاوزارت سے متعلق فیصلے کا حکم جاری کیا جائے۔۔۔ جس پر چیف جسٹس ریمارکس دیے کہ بنی گالہ تجاوزارت کی درخواست عمران خان نے ہی دی تھی اب ان کی حکومت بننے والی ہے لہٰذا بنی گالہ تجاوزارت کے معاملے کو وہ خود ہی دیکھیں۔ وہ بنی گالہ کے مسائل سے آگاہ ہیں اگر وہ مسائل حل کر لیتے ہیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہین عمران خان لوگوں کے لیے مثال بنیں۔۔۔ عمران خان کے وکیل نے کہا میں یقین دلاتا ہوں کہ وزیراعظم لوگوں کے لیے مثال بنیں گے۔۔۔ جس پر چیف جسٹس نے تصحیح کرتے ہوئے فرمایا کہ عمران خان ابھی وزیراعظم نہیں بنے۔۔۔ آئندہ وزیراعظم ہیں۔۔۔ محترم المقام چیف جسٹس نے عمران کو جو ملک کے منتخب وزیراعظم بننے جا رہے ہیں یہ گنجائش بہم پہنچا کر کہ وہ بنی گالا میں جہاں مستقبل کے وزیراعظم کی تقریباً اسی کنال کو محیط شاندار رہائش گاہ ہے۔ تجاوزات کے مسئلے کو خود دیکھیں اور لوگوں کے لیے مثال بنیں منصف اعلیٰ کے طور پر کمال درجے کی عالی ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے۔۔۔ خود کوئی فیصلہ صادر نہیں فرمایا۔۔۔ حالانکہ صبح شام از خود نوٹس لیتے ہیں۔۔۔ حکومتی اہلکاروں کی ناقص کارکردگی پر سخت باز پرس کرتے ہیں۔۔۔ فیصلے بھی صادر فرماتے ہیں۔۔۔ لیکن عمران خان کا معاملہ ان کی نگاہ میں قدرے مختلف ہے۔۔۔ وہ وزیراعظم بننے جا رہا ہے۔۔۔ اسے عوام نے کثرت رائے کے ساتھ اس منصب پر فائز ہونے کے قابل سمجھا ہے۔۔۔ اس سے توقع رکھنی چاہے اگر اس کی شہرہ آفاق رہائش گاہ کے ارد گرد کے علاقے میں کسی نے بھی تجاوزارت یا غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے قانون کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے تو وہ خود اس معاملے میں ضروری اقدام کرے گا کیونکہ وزیراعظم بنا چاہتا ہے۔۔۔ اس طرح چیف جسٹس اور ان کے ساتھی دو ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے عدل و انصاف کی اعلیٰ ترین روایات کا سامنے رکھتے ہوئے عمران خان کو خود مثال بننے کا موقع فراہم کر دیا ہے کہ اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا بھی ہے تو متوقع وزیراعظم صاحب خود آگے بڑھیں اور اپنے ہاتھوں سے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔۔۔ ظاہر ہے وہ عام آدمی نہیں۔۔۔ بیس کروڑ عوام کی واضح اکثریت کے نمائندے ہیں۔۔۔ ان کے مقام و مرتبے کے پیش نظر انہیں خصوصی رعایت ملنی چاہیے اگرچہ چیف جسٹس کے مندرجہ بالا ارشادات پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ آئینی ماہرین اور سینئر تجزیہ کاروں نے رائے دی ہے کہ عمران خان آئندہ کے وزیرواعظم ہیں، بنی گالہ تجاوزارت کے معاملے میں وہ خود فیصلہ نہیں کر سکتے جو متعلقہ ادارے ہیں اور اس پر عمل درآمد کروائیں۔۔۔ اگر بلڈوز کرنا ہے تو غیر قانونی تعمیرات کو بلڈوز کر دیں درخواست گزار اپنے کیس کا فیصلہ خود کیسے کر سکتا ہے جو قوانین ہیں ان پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔۔۔ یہ معاملہ کورٹ کا ہے نہ عمران کا اس کو انتظامی بنیاد پر پر حل ہونا چاہیے۔۔۔ اگر عام آدمی کا مسئلہ ہوتا تو شاید متعلقہ انتظامیہ قانون کے مطابق اقدام کا حکم جاری کر دیا جاتا۔۔۔ لیکن عالی مرتبت چیف جسٹس نے ان باتوں سے بلند ہو کر اور بابا رحمت کا کردار نبھاتے ہوئے چند روز کے اندر وزیراعظم کا منصب سنبھالنے والی شخصیت کو مثال قائم کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں کہ اپنی درخواست پر خود فیصلہ کریں۔۔۔

اسی طرح اور اسی روز ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جناب چیف جسٹس نے ملتی جلتی ایک اور نظر قائم کی ہے۔۔۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ اور اعلیٰ سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سابق آرمی چیف کی بیرون ملک اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کے طور پر تقرری کے معاملے کی کارروائی مزید کارروائی کے لیے موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی ۔۔۔ جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت کے معاملات وفاقی کابینہ کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔۔۔ جنرل راحیل شریف کے معاملے میں وفاقی حکومت سے منظوری نہیں کی گئی۔۔۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الحسن پر 

مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز دہری شہریت کیس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی بیرون ملک اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کے طور پر تقرری کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری افسران کی ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد تک بیرون ملک ملازمت کے لیے ’این او سی‘ لینا ضروری ہے اور قواعد و ضوابط کے مطابق یہ ’این او سی‘ وفاقی حکومت دیتی ہے۔۔۔ اور اس کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری لینا ضروری ہے۔۔۔ لیکن راحیل شریف کے معاملے میں وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی۔۔۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’این او سی‘ کا اختیار کسی محکمے کا ہے یا حکومت کا۔۔۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں وفاقی کابینہ سے اجازت لینا ضروری ہے اس حوالے سے ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔ عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ راحیل شریف کی اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کے طور پر تقرری پر جنرل ہیڈ کوارٹر نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔۔۔ اور اس کی منظوری کے بعد معاملہ وزارت دفاع کو حتمی منظوری کے بعد معاملہ وزارت دفاع کو حتمی منظوری کے لیے بھجوایا گیا تھا انہوں نے کہا اس حوالے سے وفاقی حکومت سے این او سی نہیں لیا گیا تھا بلکہ وزیر دفاع نے منظوری دے دی تھی۔۔۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے۔۔۔ وفاقی حکومت کے اختیارات وفاقی کابینہ کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔۔۔ یہ معاملہ عجلت میں کیا گیا ہے۔۔۔ انہوں نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ راحیل شریف کی تقرری کے معاملے کو منظور یا مسترد کرنے کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں۔۔۔ جس پر اٹارنی جنرل مہلت طلب کی تو عدالت نے کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں تک ملتوی کر دی۔۔۔ ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل شجاع پاشا نے اطلاع دی ہے کہ وہ بیرون ملک کوئی نوکری نہیں کر رہے ہیں۔۔۔ اس لیے انہیں کسی قسم کے این او سی کی ضرورت نہیں۔۔۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران بھی عالی مرتبت چیف جسٹس نے فوری کارروائی کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی۔۔۔ اس قدر حساس معاملے پر انصاف متاخر (Delayed) ہونے دیا ہے اور معاملہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد نئی کابینہ پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔ جناب چیف جسٹس اور ان کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بنچ نے جنرل راحیل شریف کو جو بہرصورت پاکستان کے شہری ہیں طلب کر کے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ اپنے ملک کے قوانین کے تقاضے پورے کیے بغیر ملکی حکومت کو اپنی دفاعی خدمات پیش کرنے کیوں چلے گئے۔۔۔ لیکن جنرل راحیل شریف معمولی آدمی نہیں ہیں۔۔۔ ہمارے کئی ایک بلکہ حساس ترین دفاعی اور ریاستی رازوں کے امین ہیں۔۔۔ وہ اگر قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتنی بڑی نوکری پر پاکستان سے باہر چلے گئے اور اپنی دفاعی خدمات اغیار کے سپرد کر دیں تو یقیناًبابا رحمت نے کسی عظیم مصلحت کے پیش نظر انہیں بلا کر کھلی عدالت میں یا بند کمرے کے اندر کسی قسم کا استفسار کیے بغیر معاملے کو اگلی کابینہ پر چھوڑ دیا۔۔۔ قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے مگر ہر کوئی برابر نہیں ہوتا۔۔۔ جناب چیف جسٹس جنرل شجاع پاشا کے بارے میں بھی دریافت کر سکتے تھے کہ اگر وہ دیاغیر میں کسی کی نوکری نہیں کر رہے تو کیا کر رہے ہیں۔۔۔ کیونکہ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ کسی بڑی اور غیرملکی کمپنی میں اعلیٰ درجے اور حساس نوعیت کی ملازمت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔۔۔ اب اگر جنرل پاشا نے اس کی تردید کی ہے تو قوم اور عدالت کو کم از کم یہ تو معلوم ہونا چاہیے بیرونی دنیا میں انہوں نے کیا مشغلہ اختیار کر رکھا ہے۔

ان دونوں اور تازہ ترین مقدمات کی کارروائی کے قومی اخبارات میں شائع ہونے والے مندرجات کو پڑھ کر راقم کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ ہمارے عظیم چیف جسٹس المعروف بابا رحمت نے عمران خان اور جنرل (ر) راحیل شریف کو ان کے مقام و مرتبہ کے پیش نظر ملکی قوانین کے بے لاگ اور بلاامتیاز اطلاق کے حوالے سے اچھی خاصی لچک عنایت فرما کر یقیناًقانون کے کسی بہت اونچے معیار کو پیش نظر رکھا ہوگا۔۔۔ مگر یہ اعلیٰ معیار عوام کے ووٹوں سے تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے والے نوازشریف کے معاملے میں کسی کو کیوں نظر نہ آیا۔۔۔ نہ محسوس ہوا۔۔۔ اس کی ملک کے اعلیٰ ترین انتظامی منصب سے یکدم برطرفی اور عمر بھر کے لیے نااہل قرار دینے کا ’’تاریخی‘‘ فیصلہ بھی تو آخر اسی عدالت کی جناب سے جاری ہوا تھا اور یہ سال پہلے کی بات ہے۔۔۔ نوازشریف کا جرم یہ بتایا گیا کہ اس نے بیٹے کی کمپنی سے جس کے کاغذات میں اقامہ کی خاطر اس کا نام بطور ملازم درج ہے اپنے لیے طے شدہ تنخواہ کو انتخابی نامزدگی کے کاغذات میں ظاہر کیوں نہیں کیا۔۔۔ محترم جج حضرات کی جانب سے سابق اور منتخب وزیراعظم کو بھی اسی طرح کی عادلانہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا جا سکتاتھا کہ جو تنخواہ آپ نے کبھی حاصل نہیں کی۔۔۔ جو رقم آپ کی جیب یا اکاؤنٹ میں نہیں گئی اسے نامزدگی کے کاغذات میں ظاہر کرنے میں بھول چوک ہو گئی ہو گی۔۔۔ کاغذات نامزدگی منظور کرنے والے سرکاری افسر کی نگاہ بھی اس سقم پر نہ گئی۔۔۔ آئندہ محتاط رہیے گا کیونکہ آپ کے منصب کا تقاضا ہے۔۔۔ مثال بنیے۔۔۔ لیکن ہوا کیا۔۔۔ تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو اتنی سی فروگزاشت پر نہ صرف بیک گونی دو گوش ایوان اقتدار سے بوریا بستر لپیٹ دینے کا حکم صادر ہوا بلکہ عمر بھر کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا بعدازاں ایک اور نادر روزگار فیصلے کے ذریعے طے ہوا کہ وہ اپنی جماعت کی صدارت کے منصب پر بھی نہیں رہ سکتا۔۔۔ مزیدبرآں اس کی جماعت کے اراکین کو جاری شدہ ٹکٹوں پر سینٹ کا انتخاب لڑنے سے بھی روک دیا گیا۔۔۔ مقدمے کی ساری کارروائی پانامہ کے انکشافات سے شروع ہوئی تھی جن میں نوازشریف کا نام کہیں نہ تھا۔۔۔ اس کے بچوں کی لندن میں جائیداد ایوان اقتدار جو جوہری طور پر دادا کا ورثہ ہے اس کی زر خرید قرار دے کر احتساب عدالت کی جانب سے بھاری جرمانے سمیت دس سال بامشقت سزا کا اعلان کر دیا گیا۔۔۔ بیٹی اور داماد بھی ساتھ ہی پابند سلاسل کر دیئے گئے ہیں۔۔۔ احتساب عدالت کے فیصلے میں لکھا گیا ہے اگرچہ سابق وزیراعظم کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا مگر ان کے اثاثے آمدنی سے زیادہ ہیں۔۔۔ کتنے زیادہ اور کون سی آمدنی سے زیادہ یہ ہرگز نہیں بتایا گیا۔۔۔ من چلے نے پخ لگائی یہ وہ مبہم الزام ہے جس کا شبہ پاکستان کے دو نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں خوشحال افراد گھرانوں یہاں تک کہ جملہ حکمرانوں پر کیا جا سکتا ہے۔۔۔ لیکن کیا کسی قسم کے ناقابل تردید ثبوت کی عدم موجودگی میں ان میں سے کوئی ازروئے قانون دس برس کیا ایک دن کی قید کا مستحق قرار دیا جاسکتا ہے۔


ای پیپر