منظر وہی پرانا 
08 اگست 2018 2018-08-08

نئی حکومت ابھی بنی نہیں۔لیکن منظر وہی 2002 والی قومی اسمبلی ایسا لگتا ہے۔خدا نخواستہ قلمکار کا مقصد موجودہ اسمبلی کو ڈی گریڈ کرنا ہرگز نہیں۔ قابض حکمران کی چھتری تلے بنی اسمبلی،موجودہ پارلیمنٹ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہے۔ ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔انتخابی عمل پر شدید تحفظات کسی ایک جماعت نے نہیں ظاہر کیے۔ہر طرف سے آہ وبکا،شور و غل اور چیخ وپکار کی آوازیں آ رہی ہیں۔ وہ جو جیت گئے شکوہ کناں ہیں،جو ہار گئے شور مچائیں تو ان کا حق ہے۔ پی ٹی آئی ایسی جماعت جو اب اقتدار سے چند قدم دور ہے۔اس کے ہارے ہوئے امیدوار بھی فارم 45 نہ ملنے پر واویلا کر رہے ہیں۔ وہ بھی دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں۔یہ الیکشن تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جس کے نتائج نے لوگوں کو کھل کر جشن نہیں منانے دیا۔ بات کسی اور طرف نکلتی جاتی ہے۔ اپنی تمام تر قباحتوں کے باوجود جمہوریت آگے بڑھی ہے۔ سست روی سے ہی سہی لیکن دو چار قدم تو آگے بڑھ کر فاصلہ طے ہوا ہے۔ ایک نیم جمہوری اور دوجمہوری حکومتوں ے نے اپنے ادوار مکمل کیے ہیں۔جمہوریت پسند ہونے کے ناطے اس خاکسار کی شدید خواہش ہے کہ نوزائیدہ اسمبلی اور کپتان کی حکومت اپنی مدت پوری کریں۔ عمران خان کے ساتھ وہ نہ ہو جو ماضی میں حکمرانوں اور اسمبلیوں کے ساتھ ہوتا رہا۔ ماضی اور حال کے زیرعتاب واحتساب سیاسی لیڈر تو چونکہ ذرا سخت جان تھے۔لہٰذا ستم کی سب مشقیں اپنے جسم و جاں پر سہہ گئے۔ البتہ لاڈلوں کیلئے ذرا مشکل رہے گی۔
2002 میں الیکشن کرانا صاحب اقتدار کی خواہش ہر گز نہ تھی۔وہ تو بطور باوردی چیف ایگزیکٹو کے وطن عزیز پر بلا شرکت غیرے حکمران چاہتے تھے۔ لیکن حالات ان کے موافق نہ تھے کچھ بین الاقوامی دباؤ تھا۔کچھ اندرونی صورتحال ایسی تھی کہ ان کیلئے جمہوریت کی طرف لوٹنے سے انکار ممکن نہ تھا۔ بین الاقوامی دباؤ کی ان کو ایسی پرواہ نہ تھی۔ جو حکمران اپنے عوام کو خاطر میں نہ لاتے ہوں وہ کسی اور کی پرواہ کیوں کرینگے۔لہٰذا وہ ٹالتے چلے گئے۔ پھر جارحے مزاج،ضدی،ہٹیلے اور جمہوریت پسند سید ظفر علی شاہ بروئے کار آئے۔ خم ٹھونک کر سپریم کورٹ میں جا کھڑے ہوئے۔عوا م جمہوریت اور الیکشن کا مقدمہ جی جان سے لڑا۔آخر کار مقدمہ جیت گئے۔ وہ مقدمہ بھی اپنی تاریخ کی انوکھی ترین نظیر چھوڑ گیا۔ عدالت عظمیٰ نے حاکم وقت کو عام انتخابات کا پابندکر دیا۔ لیکن اس سے پہلے تین سال کا روڈ میپ بھی دیدیا۔ گویا اپنی پلاننگ 
کیلئے، مرضی کا سیٹ اپ تیا رکر نے،کنگز پارٹی تحلیق کرنے کیلئے تین سال کا طویل وقت مل گیا۔ ساتھ ہی اضافی سہولت یہ ملی کہ آئین میں اپنی مرضی کی ترمیم بھی کرنے کااختیار مل گیا۔ اس عرصہ میں بلدیاتی انتخابات کے ذریعے پہلے اپنی مرضی کی ضلعی حکومتیں بنائی گئیں۔ ان حکومتوں کے بل بوتے پر ریفرنڈم کر دیا گیا۔ اس ریفرنڈم کی بدولت پرویز مشرف صدر منتخب ہوگئے۔ ایک ٹکٹ میں دومزے۔بہر حال آخر کار تین سال کا عرصہ گزر ہ گیا۔ اس عرصہ میں مسلم لیگ (ق)،ملت پارٹی،ایم کیو ایم،بعض آزاد ارکان کی خوب سر پرستی کی گئی۔ انتخابات جتوانے کے بھر پور لوازمات فراہم کیے گئے۔جن کو ہرانا مقصود تھا۔ ان کی حوصلہ شکنی کا بھر پور سامان کیا گیا۔ نا موافق،نا ساز گار حالات پیدا کیے گئے۔ایک فریق کیلئے میدان کھلا تھا جبکہ دیگر فریقین کیلئے پابندیاں،قدغنیں اور رکاوٹیں تھیں۔ بہر حال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بندھے ہاتھوں کے ساتھ الیکشن لڑا۔تب مسلم لیگ (ق) کو سادہ اکثریت بھی نہ ملی۔ اتنا فرق تھا کل اور آج میں۔ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ میاں محمد اظہر اپنے دونوں حلقوں سے الیکشن ہار گئے۔ شائد ان کی پارٹی کے طاقتور احباب کی خواہش بھی یہی تھی۔ بہر حال قرعہ فال ظفر اللہ جمالی کے نام پر نکلا۔ووٹ پورا کرنے کی ذمہ داری سرپرستوں کو ملی۔ تب ابھی جہازوں کے استعمال کا چلن نہیں ہوا تھا۔بہر حال ایک ووٹ پورا کرنے کیلئے در در پر بھٹکنا پڑا۔ پیپلز پارٹی میں نقب لگی۔ پیٹریاٹ بنی۔ کچھ منتخب ارکان کو نیب کی فائلیں دکھائی گئیں۔کچھ افرادوزارتوں کے چکر میں خود ہی لم لیٹ ہو گئے۔ پھر بھی کام نہ بنا تو دانیال عزیز بروئے کار آئے۔ انہوں نے گبر نیٹ ورک پر ایم ایم اے کے رکن قومی اسمبلی امیر مقام سے رابطہ کیا۔ ان کے ووٹ کا تحفہ اپنے اصل باس کو پیش کیا۔ با س خوش ہوا۔ لیکن پھر بھی ایک آنچ یعنی ایک ووٹ کی کمی تھی۔ یاد آیا کہ جیل میں پابند سلاسل مولانا اعظم طارق رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ الزام دہشت گردی کا تھا۔ لیکن حکومت سازی کا معاملہ ہوتو ایسے الزامات کی کیا حیثیت۔ ان کو جیل سے نکالا گیا وہ قومی اسمبلی کے ایوان میں آئے۔ حلف اٹھا یا۔ اپنا ووٹ میر ظفر اللہ جمالی کو پیش کیا۔ جمالی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔جلد ہی فیصلہ سازوں کا دل ظفر اللہ جمالی سے اٹھ گیا۔ حکم ہوا کہ چہرہ تبدیل کر دو۔ ہو گیا۔ بہر حال وہ دور کیسے گزرا آج کا موضوع نہیں۔نہ ہی اس کے بعد ادوار۔ الیکشن ہوتے رہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں۔ 
2018 کے الیکشن ہو چکے۔فافن کی رپورٹ سامنے ہے۔ بین الاقوامی ادارے الیکشن کے متعلق اپنی رائے دے چکے۔ انٹر نیشنل اخبارات، نتائج کے متعلق تجزیے ادارے لکھ رہے ہیں۔ بہر حال ہر الیکشن میں ایسے الزام لگتے ہیں۔ سچے ہیں یا جھوٹے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دھاندلی کا مقدمہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر لڑا جاتا رہے گا۔ ہار جیت کس کی ہو گی وقت بتائے گا۔ ابھی حکومت سازی کا مرحلہ جاری ہے۔ منظر 2002 ایسا ہے۔ پی ٹی آئی کو اکثریت نہیں ملی۔ البتہ وہ دوسری جماعتوں سے آگے ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو سی بننا ہے۔ سپیکر، ڈپٹی سپیکر شپ کے عہدے بھی پی ٹی آئی کے پاس جائینگے۔ اپوزیشن کو خوش فہمی ہے۔ لیکن مسئلہ متو قع حکمران جماعت کا ہے۔ جس کو ایک ایک ووٹ کیلئے نت نئے دروازے کھٹکھٹانے پڑ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم، بی این پی، بی اے پی، مسلم لیگ (ق) اور آزاد ارکان۔ عمران خان کے عزائم بہت بلند ہیں۔اور اکثریت بہت محدود ہے۔اللہ نہ کرے کہ معاملہ جمالی والا ہو۔ لیکن پانچ سال گزارنے بہت مشکل ہو ں گے۔ ہر روز صبح اٹھ کر تپسیا کرنی پڑے گی۔ حلفیوں کو منانا ہو گا۔تب کہیں جا کر کاروبار مملکت چلے گا۔ منظر وہی ہے 2002 والا۔ 


ای پیپر