نئی حکومت نیا چیلنج: پاک امریکہ تعلقات
08 اگست 2018 2018-08-08

پاکستان کی نئی حکومت کی کارکردگی کا سارا دارو مدار اس بات پر ہے کہ سپر پاور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کی کیا نوعیت ہے۔ آپ نے یہ بات نوٹ کی ہو گی کہ سعودی عرب ، ایران ، افغانستان، برطانیہ ، امارات اور دیگر ممالک کے سفیر الیکشن جیتنے پر خیر سگالی کے طو رپر عمران خان سے ملاقات کر چکے ہیں۔ چائنا کے سفیر نے بھی خصوصی ملاقات کی ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردوان کی جانب سے مبارکباد بھیجی گئی ہے حتی کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی تک نے عمران خان کو نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے افغان صدر یوسف غنی نے تو عمران خان کو افغانستان کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی ہے اس سارے منظر سے ایک سین غائب ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی بھی سطح پر عمران خان سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا نہ تو امریکی سفیر نے ملاقات کی زحمت گوارا کی اور نہ ہی وزیر خارجہ یا صدر ٹرمپ کی طرف سے کوئی ٹویٹ کیا گیا اس کی وجوہات پر غور کرنے سے پہلے دیکھیں کہ امریکہ کا یہ غیر سفارتی رویہ پاکستان کے خلاف ہے یا عمران خان کے خلاف بہرحال انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان کی نئی منتخب حکومت کو قبول کرنا ہو گا۔ اس سرد مہری کی وجوہات میں سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ انڈین میڈیا پر زبردست لابنگ چل رہی ہے کہ عمران خان کے وزیراعطم بننے سے انڈیا کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ اس بے بنیاد پراپیگنڈے کے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں یہی نہیں بلکہ عمران کے سیاسی مخالفین نے بھی بین الاقوامی چینلوں کو بھاری معاوضے دے کر اپنی مرضی کی رپورٹیں نشر کروائی ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ گزشتہ چار دہائیوں سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ معاملات کر رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کی رگ رگ سے واف ہے۔ اس لیے امریکہ کو بھی نواز شریف کے ہارنے پر صدمہ پہنچا ہے۔ دوسرا وہ عمران خان کو dark horse یا چھپا رستم سمجھتے ہیں اور اس کی باڈی لینگوئج کو ایک عرصے سے نوٹ کیا جا رہا ہے یہ وہی عمران خان ہے جس نے 2011ء میں ایک پاکستانی چوکی پر امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں 20فوجیوں کی شہادت کے بعد نیٹو سپلائی رکوا دی تھی اور افغانستان میں امریکی فوج کی سپلائی لائن کاٹ دی گئی تھی۔ 
25 جولائی کے انتخابات کے فوراً بعد امریکہ کی طر فسے دو ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کی نئی حکومت کے بارے میں اچھے گمان نہیں رکھتا اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنا معاندانہ رویہ جاری رکھیں گے۔ ایک تو یہ ہے کہ امریکی حکومت نے آئی ایم ایف کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرضہ نہ دے۔ 1980ء سے لے کر اب تک عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کو 14 قرضہ پیکیج دیئے ہیں ۔ پاکستان کے پاس صرف ایک مہینے کی امپورٹ کی مالی استطاعت ہے اور نئی حکومت کے پاس نئے قرضے لینے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ اس میں ہلکا سا ایک ریلیف 2 ارب ڈالر چائنا کی طرف سے دینے کا کہا گیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ سعودی سفیر نے عمران خان سے ملاقات میں 4 ارب ڈالر کی خیر سگالی امداد کی پیشکش کی ہے یہ رقم سعودیہ سے پٹرول کی خریداری میں ایڈجسٹ ہو گی البتہ اس کی تصدیق ہونا باقی ہے مگر ماہرین کے مطابق پاکستان کی فوری ضرورت 12 ارب ڈالر کی ہے اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی۔ امریکہ کا دوسرا اقدام یہ ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگی اخراجات کی رقم میں کٹوتی کا فیصلہ 25 جولائی کے بعد کیا گیا ہے تاکہ عمران خان کو ٹف ٹائم دیا جا سکے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ جس سال نواز شریف نے اقتدار سنبھالا یعنی 2013ء میں یہ امداد 1400 ملین ڈالر تھی جو کہ اس سال 2018ء میں محض 150 ملین ڈالر کر دی گئی ہے۔ امریکہ پاکستان کو گزشتہ 15 سالوں میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے 33 بلین ڈالر دے چکا ہے۔ 
اس سال یکم جنوری کو اپنے نئے سال کے پیغام میں ڈونالڈ ٹرمپ کی پاکستان کے بارے میں ٹویٹ گزشتہ70 سالہ تعلقات میں سب سے زیادہ قابل اعتراض غیر اخلاقی غیر سفارتی اور غیر شائستہ تھی جس میں انہوں نے کہا کہ امریکی حکومتیں احمق ہیں جو پاکستان کے مسلسل جھوٹ اور دھوکہ بازی کے باوجود اس کو اربوں ڈالر کی امداد دیتی ہیں یہ بیان ایسے وقت آیا تھا جب نواز شریف کی حکومت کو ختم ہوئے چند ماہ ہی گزرے تھے کسی امریکی کی طرف سے یہ تاریخ کا سب سے زیادہ توہین آمیز ٹویٹ تھا۔ 
امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات زبردستی کی شادی کی مانند ہیں جس میں طلاق یا علیحدگی کا آپشن میں قید کر دیا گیا ہو جہاں یہ دوسرے کو زخم لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے امریکیوں نے پاکستان کے لیے ایک نئی اصطلاح گھڑ رکھی ہے جسے یہ frenemy کہتے ہیں یہ لفظ friend اور enemy کو یکجا کر کے بنایا گیا ہے جس کا مطلب دوست نما دشمن ہے امریکی جرنیل اورسفارتکار یہ لفظ اپنی رپورٹوں اور بائیو گرافی 
تک میں استعمال کرتے ہیں۔ پتا نہیں پاکستان میں اس پر تبصرہ کیوں نہیں ہوتا۔ 
عمران خان کو نیا پاکستان بنانا ہے لیکن اس سے پہلے ہمیں نیا فارن آفس بنانا ہو گا۔ پاکستان کے ساتھ ایک زیادتی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ کی کہ ایک نو عمر لڑکے علی جہانگیر صدیقی کو جو کہ ان کی ایئر لائن کمپنی کا ملازم تھا اسے اٹھا کر امریکہ میں پاکستان کا سفیر بنا دیا اس سے پہلے میاں نوا زشریف نے اپنے ایک تعریفی کالمسٹ کو ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر لگوایا تھا۔ ہماری سفارتکاری اپنی پستی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج امریکہ کے ساتھ تعلقات کے قیام کے لیے Para Metres تشکیل دینا ہے۔ 2011ء کے ایبٹ آباد کے امریکی آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد یہ تعلقات رو بہ زوال ہیں جس کے بعد پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے امریکہ نے خطے میں انڈیا کو اتحادی بنا لیا اور پاکستان سی پیک کے بعد امریکہ کی بجائے چائنہ کے ساتھ چلا گیا جبکہ روس کے ساتھ بھی تعلقات کافی بہترہو گئے۔ 
ایشیا ہاور مڈل ایسٹ میں انڈیا امریکہ اور اسرائیل کی شکل میں جو الائنس وجود میں آئی ہے وہ پاکستان ، ترکی اور ایران کو بڑی غلط نظر سے دیکھتی ہے کیونکہ مسلم دنیا میں یہی 3 ممالک ہیں جن کے پاس فوجی طاقت ہے۔ اس نئے اتحاد کا چونکہ سعودی عرب کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے جبکہ دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات رکھتا ہے نئی حکومت کو سعودی چینل استعمال کر کے امریکہ کو قائل کرنا چاہیے کہ پاکستان ایک طاقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ نے افغانستان میں پاکستان کو سائیڈ لائن کر کے وہاں جنگ جیتنے کی کوشش کا نتیجہ دیکھ لیا ہے اس کا 17 سالہ مؤقف یہ تھا کہ امریکہ طالبان کو دہشت گرد سمجھتا ہے لہٰذا اُن سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اب وہی امریکہ طالبان کے ساتھ صلح اور براہ راست معاہدے پر آمادہ ہے بلکہ مذاکرات شروع کر چکا ہے۔ 
عمران خان کو یاد رکھنا ہو گا کہ امریکی پالیسیاں مستقل نہیں ہوتیں یہ اپنے فائدے کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں یمن میں حال ہی میں ایران نواز حوثی باغیوں کو شکست دینے کے لیے امریکہ اور سعودیہ نے وہاں القاعدہ سے اتحاد کر لیا ہے جس کی خبریں دنیا بھر کے میڈیا کی زینت ہیں۔ نئی حکومت کے لیے ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ اپنے مفادات کی خاطر افغانستان میں طالبان کے ساتھ اور یمن میں القاعدہ کے ساتھ اتحاد کر سکتا ہے تو پاکستان کے ساتھ کیوں نہیں۔لیکن پاکستان کے معاملے میں اپنے ماضی سے رجوع کرنا امریکہ کے لیے فوری طور پر اس لیے مشکل ہے کیونکہ عمران خان نے اپنی وکٹری سپیچ میں انڈیا کے ساتھ تعلقات کو کشمیر سے مشروط کرد یا ہے۔


ای پیپر