پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!
08 اگست 2018 2018-08-08

یہ دوسری صدی ہجری کے وسط کا واقعہ ہے۔ لوگ بنی امیّہ کے مظالم سے تنگ آ چکے تھے اور ہر صبح شام ایک نئی حکومت کے منتظر تھے جس کی ایک روایت کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشن گوئی فرمائی تھی۔دوسری طرف ہاشمی (یا عباسی) خاندان کے کچھ لوگ بنی امیّہ کے کھنڈر پر اپنی شاہی عمارت اٹھانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اس صورت حال نے ایک طرف عوام اور دوسری طرف عباسی حوصلہ مندوں کے لئے ایک مشترک نقطہ فراہم کر دیا۔۔۔بنی امیّہ کا خاتمہ۔ اگرچہ مظلوم عوام کے لئے اس کا محرک کچھ اور تھا اور عباسی حوصلہ مندوں کے لئے کچھ اور۔ اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجہ میں ۲۳۱ھ میں خلافت بنوامیّہ کا خاتمہ ہو گیا اور سفاح تخت نشین ہوا، جو عباسیوں کا پہلا خلیفہ تھا ۔ سفاح کے بعد اس کا بھائی ابو جعفر منصور خلیفہ ہوا۔ ۲۳۱ ھ میں اس کے ہاتھ بیعت ہوئی۔بنو امیّہ کے آخری زمانہ میں جو لوگ ان کے خلاف تحریک چلا رہے تھے ان میں محمد بن عبداللہ (نفس ذکیہ) اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ خاص طور پر مشہور ہیں۔ یہ لوگ امام حسن ابن علی کی اولاد سے تھے۔ 

بنو عباس جو نسلی وجوہ سے اپنے آپ کو خلافت کا مستحق سمجھتے تھے اور امومی سلطنت کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ جب انھیں مذکورہ بالا دونوں بھائیوں کی خفیہ تحریک کا علم ہوا تو وہ ان سے مل گئے۔ حتیٰ کہ خود المنصور (جو بعد کو خلیفہ ہوا)نے نفس ذکیہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ امومی سلطنت ختم ہوئی اور عباسی سلطنت اس کی جگہ قائم ہو گئی۔ مگر صورت حال میں کو ئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ مظالم اور زیادہ بڑھ گئے، حتیٰ کہ شاعر کو کہنا پڑا :

فبھلا یا نبی العباس مھل

لقد کویت بغدرکما الصدور

اے بنی عباس اپنا ظلم چھوڑ دو تمھاری غداری سے سینے داغدار ہو چکے ہیں۔

چنانچہ نفس ذکیہ اور ان کے بھائی دونوں روپوش ہو گئے اور جو "انقلابی تحریک "پہلے وہ بنی امیّہ کے خلاف چلا رہے تھے اس کو اب بنو عباس کے خلاف چلانے لگے۔ یہاں تک کہ موقع پا کر انھوں نے خروج (سلطنت سے بغاوت)کا اعلان کر دیااور مدینہ میں اپنی آزاد حکومت قائم کرلی۔ اس کے بعد ان کا جو انجام ہوا وہ یہ کہ نفس ذکیہ ۵۴۱ ھ میں مارے گئے اور ان اور ان کا سر منصور کے دربار میں پیش کیا گیا۔ وہی منصور جس نے ان کے ہاتھ پر نوجوانی کی عمر میں بیعت کی تھی۔

عباسی سلطنت کے قیام سے پہلے نفس ذکیہ کی تحریک اور عباسی تحریک دونوں کا مشترک دشمن ایک تھا۔ یعنی بنو امیّہ۔ مگر جب عباسی تحریک نے بنو امیّہ کی تحریک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور عباسی سلطنت قائم ہو گئی تو اب صورت حال بدل گئی۔ اب عباسی سلطنت کے 

لئے نفس ذکیہ دشمن کی حیثیت رکھتے تھے۔ کیوں کہ وہ موجودہ عباسی سلطنت سے بھی مطمئن نہیں تھے۔ وہی المنصور جو "انقلاب "سے پہلے نفس ذکیہ کا حلیف تھا، اب ان کا دشمن بن گیا ۔ اس نے ان کی تحریک کو ختم کرنے میں اتنی سر گرمی دکھائی کہ دو مہینے تک لباس نہیں بدلا اور بستر پر نہیں سویا۔اس کو اس وقت تک چین نہیں آیا جب تک اس نے اس تحریک کو ختم نہ کر لیا۔

تاریخ میں یہ واقعہ آج سے کم و بیش ہزار سال قبل پیش آیا تھا۔ اور آج بھی کسی نہ کسی شکل میں رونما ہوتا رہتا ہے۔ تاریخ ہی یہ بتاتی ہے کہ مختلف نظریات اور ترجیحات رکھنے والے افراد یا جماعتیں جب کسی ایک مقصد کے لیے متحد ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ اس فریق کو ہوتا ہے جو زیادہ بااثر، منظم ، ہشیاراور طاقتور ہوتا ہے۔ مگر نہ جانے کیوں تاریخ کے بے شمار صفحات میں رقم یہ سبق ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔جمال الدین افغانی نے مصر میں ملت کے احیاء کے لیے جدوجہد کا آغاز کے لیے انجمن الحزب الوطنی قائم کی جس کے ارکان کثیر تعداد میں تھے۔ ان میں شیخ محمد عبدہ، سعدز غلول پاشا، عبداللہ نعیم بے اور احسان بے جیسی شخصیات شامل تھیں۔ جمال الدین افغانی کی مقبولیت اور اثر کے سبب وہاں کی بااثر جماعت جمعیت مانوسیہ نے انھیں اپنا صدر نامزد کیا۔ ایک وقت آیا کہ ان کی جماعت کا رکن توفیق پاشا فرانس اور برطانیہ کی مدد سے مصر کے تخت پر براجمان ہوا۔ افغانی اور ان کی جماعت اس گمان میں رہی ہے کہ اب وہ اپنے منشورر کوعملی جامہ پہناسکے گے۔ لیکن توفیق پاشا نے تخت پر بیٹھتے ہی جمال الدین افغانی کو مصر سے جلاوطنی کا حکم دے دیا۔ 

پاکستان میں ۸۵۹۱ء کے مارشل لاء کے نتیجے میں قائم ہونے والی ایوب خان کی حکومت کے خلاف ملک کے تمام طبقات نے مل کر تحریک چلائی۔ ان میں مرکزی طور پر ایک طرف اسلام پسند طبقہ تھا اور دوسری جانب سیکولر اور سوشلسٹ فکر کے حامی تھے۔ دونوں ایوب خان کی بنیادی جمہوریت کے نظام کو اپنے اپنے حصولِ اقتدار کی راہ میں روکاوٹ سمجھتے تھے ۔ دونوں مکاتبِ فکر نے خوب تحریک چلائی اور افراتفری کا طوفان برپا کیا ، جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہوا (اگرچہ اس کے دیگر اسباب کی فہرست بھی طویل ہے)۔ اس تحریک کے نتیجے میں باقی ماندہ ملک کے اقتدار پر ذوالفقار علی بھٹو کا اقتدار قائم ہوا اور اسلام پسند وں کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ 

۷۷۹۱ء کے عام انتخابات کے نتائج کو ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بھٹو حکومت کے خلاف بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس تحریک میں بھی سیکولر اور مذہبی جماعتیں اپنے اپنے کروفر کے ساتھ شریک تھیں۔ اس اتحاد میں جماعت اسلامی، ولی خان ، مولانا مفتی محمود، ائرمارشل اصغر خان، اکبر بگٹی اور مولانا شاہ احمد نورانی سیمت دیگر ھی تھے۔ اس تحریک کے دوران ملک میں برپا ہونے والی انارکی کے نتیجے میں ضیاء الحق نے مارشل لاء کے نفاذ کے ذریعے بھٹو صاحب کی حکومت کو ختم کردیا اور ملک پر طویل مارشل لاء مسلط ہوا اور تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کردی گئی۔

۸۰۰۲ء سے ملک میں ہر پانچ سال کے بعد باقاعدگی سے عام انتخابات کا عمل جاری ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ہر منتخب حکومت کو سازش، افراتفری اور دیگر ہھتکنڈوں سے اقتدار سے محروم کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وطن عزیز کو جن سیاسی، اقتصادی، خارجی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے ان کا تقاضا تھا کہ ۸۱۰۲ ؁ء کے انتخابات کے نتیجے میں مرکز اور صوبوں میں مستحکم حکومتوں کا قیام عمل میں آئے۔تاکہ فتحیاب سیاسی جماعت اپنے منشور کے مطابق ملک کو درپیش مسائل کا حل نکال سکے۔ لیکن افسوس کہ کوئی بھی جماعت انفردی طورپر سادہ اکثریت حاصل نہیں کرپائی۔ جس کی پیشنگوئی انتخابات سے قبل ہی غیر جانبدار ملکی و غیر ملکی مبصرین کرچکے تھے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ۶۱۱ نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بلترتیب ۴۶ اور ۳۴ نشستیں حاصل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دیگر جماعتوں کے تعاون کے بغیر حکومت بناسکے۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ تحریک انصاف اس طرح کا میابی حاصل نہیں کر پائی جس طرح اس کو انتخابات کے لیے ماحول فراہم کیا گیا تھا۔جس کامیابی اور تبدیلی کی حد درجہ دھوم مچی تھی وہ کامیابی اور تبدیلی آزاد امیدواروں اور بدترین سیاسی مخالفین کی چوکھٹ پر جبیں اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر تعاون کی طلب گار ہے۔ اس ضمن میں تحریک انصاف نے آزاد امیدواروں کو ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں اپنے ساتھ ملانے کے لیے جو طرزِ عمل اختیار کررکھا ہے اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ :

جو چاہے آپ کا حُسن کرشمہ ساز کرے

اس کے باوجود اگر مخلوط حکومت بنی تو یہ ماضی کے حکومتی اتحادوں سے نہ صرف بہت حد تک مختلف ہوگی بلکہ اس حکومتی اتحاد کا کامیابی سے چلنا بھی مضبوط اپوزیشن کی موجودگی میں انتہائی دشوار ہوگا۔ دوسری جانب اپوزیشن کا اتحاد ہے جس کی بنیاد حالیہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات ہیں۔ جن پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حد تک کا احتجاج تو موجودہ صورتحال میں پھر بھی قبول ہے۔ لیکن اگر معاملہ بڑھ کر دھرنوں اور جلوسوں تک گیا جس کی روایت خود تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے گزشتہ چار سال کے دوران ڈالی ہے ۔ اس سے قومی معیشت اور وقار کو شدید خطرات تو لاحق ہونگے ہی، لیکن اس سیاسی افراتفری کے نتیجے میں خدانخواستہ پھر ایسا نہ ہو کہ وہ فریق یا موقع شناس اس صورتحال کا فائدہ اٹھائے جو زیادہ بااثر، منظم، ہشیار اور طاقتور ہو۔

یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین

پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!


ای پیپر