2018 ء کے عام انتخابات
08 اگست 2018 2018-08-08

پاکستان میں ہونے والے ہر عام انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور اٹھتا ہے۔ ہمارنے والی سیاسی جماعتیں اور امیدوار دھاندلی کا الزام عائد کرتی ہیں جبکہ جیتنے والی سیاسی جماعت یا جماعتیں اس انتخاب کو مثالی اور صاف ستھرا قرار دیتی ہیں۔ 2002ء میں مسلم لیگ (ق) ، ایم ایم اے اور نیشنل الائنس کے لئے وہ انتخابات صاف ستھرے اور دھاندلی سے پاک تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے دھاندلی کا شور مچایا تھا۔ اس طرح 2008ء میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما دھاندلی کا شکوہ کرتے نظر آئے تھے۔ جبکہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کے لئے یہ عام انتخابات نبستاً بہتر تھے۔ 2013 میں تحریک انصاف کو عام انتخابات میں دھاندلی نظر آئی تھی جبکہ پیپلز پارٹی نے صرف پنجاب میں انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کو سندھ کے حوالے سے تحفظات تھے جبکہ پنجاب اور بلوچستان میں ان کے نزدیک دھاندلی سے پاک انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ تحریک انصاف نے پانچ سال تک دھاندلی کا شور مچایا۔ مسلم لیگ (ن) کے مینڈیٹ کو چوری شدہ اور جعلی قرار دیا۔ تحریک انصاف نے 4 حلقے کھلوانے کے لئے احتجاج کا راستہ چنا ۔126 دن طویل دھرنا دیا گیا۔ 

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسی قسم کا ردعل سامنے آ رہا ہے جیسا کہ ہر انتخابات کے بعد سامنے آتا ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی تقریباً آدھی سیٹیں کم ہوئی ہیں۔ پیپلز پارٹی بھی سیٹوں میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ان نتائج کی روشنی میں مرکز پنجاب اور کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت بننے جا رہی ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت برقرار رہے گی۔ بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (BAP) کی قیادت میں مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے۔ 

ابھی نو منتخب ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیوں نے رکنیت کا حلف بھی نہیں اٹھایا کہ دھاندلی اور نتائج میں ردوبدل کا شور بلند ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن تنقید کی زد میں ہے جو کہ نتائج کی بروقت ترسیل اور اعلان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات میں اگرچہ دہشت گردی کی چند واقعات ہوئے جن میں سینکڑوں قیمتی بے گناہ افراد نشانہ بنے۔ مگر مجموعی طور پر انتخابی ماحول پر امن رہا۔ صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک کوئٹہ میں دہشت گردی حملے کے علاوہ انتخابی پرامن رہی۔ پولنگ اسٹیشنوں کے باہر بھی لڑائی جھگڑے کے اکا دکا واقعات ہی ہوئے۔ اس لحاظ سے یہ انتخابات انتہائی پرامن اور اچھے طریقے سے منقعد ہوئے۔ پاکستان کروڑوں ووٹروں نے گھروں سے باہر نکل کر ووٹ ڈالے۔

میرے ذاتی خیال میں صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک انتہائی سازگار پرامن اور صاف شفاف انتخابات منعقد ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے نتائج کی ترسیل کے نظام RTS کے کام نہ کرنے کے باعث اور گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالنے اورفارم 45 پر پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج مرتب کر کے اور ان پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخط نہ کروانے اور فارم 45 ان کو مہیا نہ کرنے کے الزامات نے اس سارے عمل پر سوالات ضرور اٹھا دیئے ہیں۔ اگر فارم 45 فراہم کر دیئے جاتے اور نتائج کو بروقت جاری کر دیا جاتا تو شاید اتنے شدید الزامات عائد نہ ہوتے اور نہ ہی اتنے تحفظات سامنے آتے۔ الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ اس کے پاس اتنی انتظامی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ ان تمام معاملات سے بنٹ سکے۔ 

اتنی بڑی انتخابی سرگرمی کو موثر اور شفاف انداز میں سرانجام دے سکے پہلے تو الیکشن کمیشن اختیارات کا رونا روتا تھامگر انتخابی اصلاحات کے بعد تو اس کے پاس بہت سارے اختیارات موجود ہیں مگر الیکشن کمیشن ان عام انتخابات کو متنازع بنانے سے روکنے میں ناکام رہا اور ایک بار پھر دھاندلی کا شور اٹھا ہے۔ میرے ذاتی خیال میں یہ کہنا غلط ہو گا کہ تمام 272 حلقوں میں دھاندلی ہوئی تا نتائج میں گڑ بڑ ہوئی۔ ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی چند حلقوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار پھر نشانہ30 سے 40 حلقے ہی تھے۔ میں ذاتی طور پر نہ تو اس بات کی حمایت کرتا ہوں کہ سارے انتخابات ہی دھاندلی زدہ تھے اور بڑے پیمانے پر نتائج تبدیل ہوئے اور نہ ہی اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ پورا انتخابی عمل صاف شفاف تھا اور ہر طرح کی خامیوں ، کمزوریوں اور نقائص سے پاک تھا۔ میرے خیال میں ہمیں عام انتخابات کو پوری طرح مسترد کرنے یا پھر ہر خامی اور نقص سے پاک قرار دینے کی بجائے زمینی حقائق کی روشنی میں حقیقت پسندانہ بحث اور بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ تمام انتخابات کی طرح 25 جولائی کے عام انتخابات بھی بندوبستی یعنی (Manged) تھے۔ ہر عام انتخابات سے پہلے ایک مخصوص فضاء بنائی جاتی ہے۔ کسی ایک جماعت یا جماعتوں کے اتحاد کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کیا جاتا ہے۔ مخصوص امیدوار ایک جماعت کے جھنڈے تلے جمع کئے جاتے ہیں۔ یہ تاثر کیا جاتا ہے کہ فلاں جماعت کامیابی حاصل کرنے جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ انتخابات سیپہلے ہوتا ہے۔ اسی طرح اب تک نگران حکومتوں کا تجربہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔ نگران حکومتیں نہ تو 2013 ء میں اور نہ ہی 2018ء میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک جیسے مواقع اور ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ان سے جس قسم کی غیر جانبداری اور شفافیت کی توقع کی جاتی ہے وہ اسے پورا کرنے میں قاصر نظر آتی ہیں۔ لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے آئین میں ترمیم کرنی چاہئے اور اس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔ 

اگر اربوں روپے خرچ کر کے بھی ایسے بھی انتخابات منعقد نہیں ہو سکتے کہ دھاندلی کے الزامات سے پاک ہوں اور وہ اچھی ساکھ کے حامل ہوں۔ کسی بھی حکومت کی اخلاقی اورجمہوری ساکھ کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ ایسے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آئے جس کی ساکھ پر سوالات کھڑے نہ ہوں۔ دھاندلی اور دھونس کے نتیجے میں نہ صرف انتخابات کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی حکومت کی ساکھ اور اخلاقی جواز پر بھی سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ان انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ فوری طور پر 4 چیزوں کی روک تھام ضروری ہے (1) سرمائے کا بے دریغ استعمال(2) میڈیا کی متوازن اور یکساں رپورٹنگ (3) قبل از انتخابات دھاندلی اور دھونس کی روک تھام(4) تمام جماعتوں کو یکساں مواقع کی فراہم اور برابری کا سلوک۔ صاف شفاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس تاثر کو ختم کیا جائے کہ مقتدر قوتیں کس جماعت کی حامی ہیں اور اسے اقتدار میں لانا چاہتی ہیں۔ اس تاثر کے خاتمے کے نتیجے میں انتخابات کی ساکھ بہتر ہو جائے گی۔ جہاں انتخابات کے دوران دھاندلی اور دھونس نہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح انتخابات سے قبل بھی سازگار اور یکساں ماحول کی فراہمی ضروری ہے۔ انتخابی نتائج کو ووٹروں کی پسند یا نا پسند کا عکس ہونا چاہئے نہ کہ کسی اور کی پسند کا۔


ای پیپر