بس تجھے آگے بڑھنا ہے!

08 اگست 2018

ناصف اعوان

ابھی عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا نہیں کہ بگڑے معاملات ٹھیک ہونے کی طرف چل پڑے ہیں یہ بات بھی پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ لوگوں کو پہلی بار احساس ہوا ہے کہ ان کا کوئی سربراہ آ رہا ہے جو ان کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو ہر لمحہ تیار ہو گا۔کسی لیڈر کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ محو سفر لوگ اسے اپنے دل میں ٹٹولتے ہوئے آگے بڑھیں اور وہ لیڈر پیچھے مڑ کر نہ دیکھے!
میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے بعد پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں کہ وطن عزیز کو ایک لیڈر ملا ہے جو صرف اور صرف عوام کے لیے خود کو مختص کر چکا ہے جس کے ذہن میں غربت، مفلسی اور بے بسی کے خاتمے کا خیال ہے ۔ ان لوگوں کے لیے انصاف مہیا کرتا ہے ۔ جو اکہتر برس سے تڑپ رہے ہیں مگر انہیں نا امیدی کے نخلستان میں بھٹکنا پڑا ہے ۔ چند روز پہلے جو لوگ اس کی مخالفت میں بانہیں کھڑی کر کے اچھل اچھل کر چیختے ہوئے نظر آ رہے تھے ان میں سے زیادہ تر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ عمران خان واقعی لیڈر ہے جسے اپنی نہیں ملک کے لوگوں کی فکر ہے اور اس نے جومنشور پیش کیا ہے اس پر ہر ممکن عمل در آمد کرنے کی کوشش کرے گا۔ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے مسائل کیا ہیں کیونکہ کپتان کے بہترین علم میں ہے اب تک انہوں نے اپنی تقریروں ، مزاکروں اور مباحثوں میں ان ہی کو بیان کیا ہے اور اسی لیے ہی انہین کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ لہٰذا وہ (عوام ) پر امید ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان ( متوقع) ہر صورت ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیں گے۔ یوں قیام پاکستان سے لیکر اب تک جنم لینے والے مسائل سے انہیں نجات مل جائے گی۔
بہر حال افسوس اور دکھ اس بات کا ہے کہ گزشتہ ادوار میں حکمرانوں نے انصاف، تعلیم اور صحت کے ضمن میں کوئی خاص کارنامہ سر انجام نہیں دیا ۔ غریبوں کے لیے شفا خانوں تعلیمی اداروں کے علاوہ دیگر سرکاری اداروں میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ یعنی وہ سفارش اور رشوت کے بغیر ان سے مستفید نہیں ہو سکتے تھے۔ سیانوں کے مطابق تعلیم عام سستی اور مفت کرنے کے لیے حکمران کبھی بھی سنجیدہ نہیں ہوئے کیونکہ وہ اس بات سے خائف ہوتے ہیں کہ انتظامی اداروں میں ان کی مداخلت بڑھ جانے سے ان کے مفادات جو معاشی ہوتے ہیں اور سیاسی بھی متاثر ہوتے ہیں علاوہ ازیں ان کے انتخاب میں وہ با شعور ہو جانے سے ان سے رخ موڑ لیتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ووٹ ڈالنے کی شرح تیس چالیس فیصد ہوتی ہے ان میں زیادہ تر کا نقطہ نظر ہوتا ہے کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دیں یعنی انہیں منتخب کرنے میں سخت دشواری پیش آتی ہے کیونکہ وہ اپنی تعلیم کی کسوٹی پر جب انہیں پر کھتے ہیں تو وہ پورا نہیں اترتے۔ لہٰذا پچھلی حکومت نے دانستہ تعلیم اور صحت کے شعبے سے چشم پوشی اختیار کیے رکھی۔ چلیے جو ہو گیا سو ہو گیا اب اس کا تزکرہ کیا کرنا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پی ٹی آئی کیسے کامیاب ہوتی ۔ اب وہ آرہی ہے بلکہ آچکی ہے ۔ پارلیمانی اجلاس میں عمران خان کو اتفاق رائے سے وزیر اعظم نامزد کیا جا چکا ہے ۔ پنجاب کے پی کے اور بلوچستان میں اس کی حکومتیں بن رہی ہیں۔ لہٰذا پی ٹی آئی سے متعلق ہی عرض کیا جانا چاہیے اور اسے یہ یاد دلاتے رہنا ہو گا کہ وہ بر سر اقتدار آئی ہے ۔ تو اسے پسے اور بے بس لوگوں کے لیے کچھ کرنا ہے ۔ اسے تھانہ کلچر تبدیل کرنا ہے ۔ غنڈہ راج جو ریاست کے اندر قائم ہو چکا ہے اسے ختم کرنا ہے ۔
قبضہ گروپوں، مہنگائی مافیا، کمیشن خوروں، جعلی دوائیں فروخت کرنے والوں اور رشوت خوروں کو راہ راست پر لانا ہے ۔ مگر انتقامی سیاست ہر گز نہیں کرنی چاہیے کچھ بھی ہو جائے ۔ تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی راہ ہموار ہو سکے۔ اگرچہ ہارنے والی سیاسی جماعتیں وا ویلا کر رہی ہیں کہ وہ ہروائی گئی ہیں لہٰذا وہ احتجاج کا حق رکھتی ہیں وہ مظاہرے بھی کر سکتی ہیں اور پھر وہ ایوانوں کے اندر شور مچا سکتی ہیں۔ اس کے با وجود پی ٹی آئی کی حکومت کو حوصلے، برد باری اور حکمت و دانائی کا دامن کسی صورت نہیں چھوڑنا کیونکہ اگر وہ طیش میں آتی ہے تو منظر یہ سیاسی تبدیل ہو جائے گا اور یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ سیاسی جماعتیں اس اہل نہیں کہ ملک کی باگ دوڑ سنبھال اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکیں۔ ویسے دیکھا جائے تو سچ یہی ہے کہ پچھلے دس برسوں میں ان سیاسی و منتخب حکومتوں نے عوام کی حالت سدھاری نہیں بگاڑی ہے انہیں عالمی مالیاتی اداروں کا غلام بنانے کی کوشش کی ہے ۔ خزانے کو گِدھوں کی طرح نوچاہے ۔ ستم مزید یہ کہ لوٹ کر بیرون ملک بھجوایا ہے ۔ اب جب انہیں اس سے متعلق پوچھا جا رہا ہے تو وہ سراپا احتجاج ہیں کہ ان سے کیوں حساب کتاب کی بات کی جا رہی ہے ۔ یہ زیادتی ہے یہ ظلم ہے ۔ غریب لوگ پانی کو ترسیں دواؤں کے لیے پریشان ہوں تعلیم انہیں میسر نہ ہو اعلیٰ عہدوں سے وہ فاصلے پر کھڑے ہوں اور زندگی گزارنا ان کے لیے نا ممکن ہوتا جائے تو وہ کیوں نہ پوچھنے کے کٹہرے میں لائی جائیں۔ اب تو پوری طاقت سے پوچھا جائے گا ۔ تحریک انصاف کی حکومت اس حوالے سے کوئی کسی سے رعایت برتنے کے لیے آمادہ و تیار نہیں ہو گی۔ اس پر کچھ لوگ رولا ڈالتے ہیں تو سو بار ڈالیں قانون ان سے نمٹ لے گا۔ کیونکہ متعلقہ اداروں کو اب نرم ہاتھ رکھنے کی اوپر سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی جائے گی۔ یہ فہم رکھتے ہوئے بھی ہمارے بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ عمران خان کیسے اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔ مگر وہ یہ نہیں کہتے کہ وہ کیوں نہیں پورے کہ پائیں گے۔ اس سے تو یہی تاثر ابھرتا ہے کہ یہ معیشت یہ نظام حیات اور یہ لوٹ کھسوٹ اسی طرح رہے گی۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ سب ایسے نہیں رہے گا اسے تبدیل ہونا ہے کیونکہ ملک ایسی خرابیوں کا اب متحمل نہیں ہو سکتا ۔ عوامی جزبات مشتعل ہو رہے ہیں انہیں اپنی زندگیاں خطرات میں گھری دکھائی دے رہی ہیں ہاں مگر عمران خان کی کامیابی سے انہیں کافی حوصلہ ملا ہے جیسا کہ میں آغاز میں یہ کہہ چکا ہوں کہ اب وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ کوئی ان کا سربراہ ہے جو ان کے لیے سوچے گا کچھ کرے گا ان کے مصائب کو محسوس کرے گا لہٰذا وہ ان کو خوشحال بنانے کے لیے کبھی بھی چین سے نہیں بیٹھے گا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ خلوص نیت کے آگے یہ کسی سانڈ کی طرح بپھرے مسائل پلک جھپکنے میں غائب ہو جائیں گے۔ انہیں جان بوجھ کر پیدا کیا جاتا رہا۔ تاکہ عوام ان کے غم میں ڈوبیں رہیں سہمے رہیں جس سے ان میں اقتدار کے حصول کی خواہش بیدار نہ ہو۔ یوں ان کو غلامانہ ماحول میں جینے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ یقین کیجیے وہ خود کو لاوارث تصور کرنے لگے تھے۔ انہیں سوائے اپنی ذات کے کسی سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ کیا ایسی صورت حال میں ریاستیں اپنا وجود قائم رکھ سکتی ہیں ان کے اندر آگے بڑھنے کا جزبہ جنم لے سکتا ہے وہ اداس، مضمحل اور مضطرب دکھائی دینے لگتی ہیں جو ان کے سمٹنے کا واضح اشارہ ہوا کرتا ہے ۔ خیر ہم اس کیفیت سے آزاد ہو چکے ہیں۔ ایک نیا ولولہ اور جوش امڈ آیا ہے ۔ رہی بات عمران خان کو ناکام بنانے کی تو وہ سیاسی قوتیں اپنے اس مشن میں کامیاب نہیں ہو سکیں گی کیونکہ انہیں ملک کو لوٹ کر بدیش لے جانے کا بتانا ہے ۔ عمران خان کو مگر کرنا یہ ہے کہ وہ جنگی بنیادوں پر اپنے اہداف کی طرف بڑھیں عوامی بھونچال ان کی (سیاسی مخالفین) ٹانگیں لرزا کر رکھ دے گا بقول آفتاب جاوید۔
سیدھے رہو تاکہ ٹیڑھے لوگوں کے قابل نہ رہو !

مزیدخبریں