یہ جو سکول جَل رہے ہیں۔۔۔
08 اگست 2018 2018-08-08

کچھ عرصہ پہلے حکومت پاکستان نے ملک میں تعلیم کی صورتحال پر ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی اس رپورٹ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پورے پاکستان کے تمام اضلاع کی رینکنگ کی گئی تھی۔اس میں جی بی نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا سکردو اور ہنزہ میں انرولمنٹ سو فیصد کے قریب پہنچ چکی تھی۔ گلگت بلتستان میں دیامر وہ ضلع ہے جو تعلیم میں دیگر اضلاع سے بہت پیچھے ہے۔ تعلیم شعور کی پہلی سیڑھی ہے جب معاشرے میں تعلیم عام ہو جاتی ہے تو لوگوں میں شائستگی آ جاتی ہے ، علاقے کے رہن سہن سے لیکر کھانے پینے تک ہر چیز پر اس کے اثرات ہوتے ہیں اور معاشرتی رویے بڑی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔انتہا پسندی جو دہشتگردی کی پہلی سیڑھی ہے، تعلیم اس میں رکاوٹ بنتی ہے اس لیے انتہا پسند ہمیشہ علم کے دشمن ہوتے ہیں، ان کو تعلیم دینے والے اساتذہ اور جہاں تعلیم دی جاتی ہے یعنی سکول اور کالج اپنی مدمقابل کھڑے محسوس ہوتے ہیں۔اس لیے یہ ہر اس علامت کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں جو تعلیم کی طرف لے جاتی ہے۔

دیامر میں بارہ سکول جلا دیے گئے ہیں۔ یہ واقعات چلاس اور اس کے اردگرد کے علاقے میں ہوئے ہیں یہاں دہشتگردوں کی جڑیں کافی پرانی ہیں یہ چلاس کا ہی علاقہ تھا جہاں پر مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کر کے انہیں قتل کیا گیا،بہت سے لوگوں کو علاقے کے غیور انسان دوست لوگوں نے اپنی جان پر کھیل کر بچایا تھا اور اسی طرح گھات لگا کر حملہ کرنے کے کئی واقعات بھی ہوئے۔یہاں پاک فوج پر حملوں میں ایک کرنل اور کیپٹن شہید ہو گئے تھے ،اسی طرح ایک ایس ایس پی کو شہید کر دیا گیا تھا۔سانحہ نانگا پربت جس میں دس سیاح مارے گئے تھے جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہوئی تھی یہ بھی اسی علاقے میں ہی ہوا تھا۔

سوات میں علم اور دہشتگردی کا مقابلہ کافی عرصہ چلتا رہا طالبان ہمیشہ سکولوں پر حملے کرتے تھے۔ طالبات سکول سے چھٹی کر کے گھر جاتیں اور جب صبح واپس آتیں تو ان کا سکول ملبے کا ڈھیر بن چکا ہوتا تھا۔گارڈین کے مطابق صرف سوات میں چار سو سکول بارود کی نظر کیے گئے ان میں ساٹھ فیصد سکول بچیوں کے تھے اور باقی بچوں کے تھے۔دیامر میں جو بارہ سکول تباہ کیے گئے ان میں سے اکثریت بچوں کو سکولوں کی ہے۔دنیا میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے بہت حساسیت پائی جاتی ہے کہیں پر بھی ذرا سا مسئلہ ہو جائے تو فورا بین الاقوامی میڈیا اور ادارے حرکت میں آتے ہیں اس لیے دہشتگرد گروہ بچیوں کے تعلیم اداروں اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں پر زیادہ حملے کرتے ہیں۔سوات میں ساٹھ فیصد بچیوں کے سکول تباہ ہوئے اور چالیس فیصد لڑکوں کے سکول تباہ ہوئے مگرخبروں میں فقط لڑکیوں کے سکولوں کو پیش کیا جاتا رہا ہے۔ملالہ یوسف زئی پر حملے نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح کا مسئلہ بنا دیا جس کا اعتراف بین الاقوامی اداروں نے بھی کیا۔دیا مر میں بارہ سکولوں کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور حیران کن طور پر ساٹھ فیصد سکول بچوں کے ہیں۔

دہشتگردتعلیمی اداروں پر حملے کیوں کرتے ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو ایسا کرنے سے بڑے پیمانے پر افرا تفری کا گمان ہوتا ہے دہشتگردوں کا بنیادی مقصد معاشرے میں افراتفری پیدا کرنا ہوتا ہے جس سے لوگوں کے دلوں پر ان کا رعب بیٹھ جائے دوسرا اہم عامل یہ ہے کہ دہشتگرد جس عمر میں بچوں کی دہشتگردی کے لیے ذہن سازی کرتے ہیں وہ عمر اگر بچہ سکول میں گذارے گا تو ان کے ہاتھ سے نکل جائے دہشتگرد کبھی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی پوری مومنٹ میں نرسری کا کردار ادا کرنے والی نسل اس سے دور ہو جائے اس لیے وہ ان تعلیمی اداروں کو اپنا خاموش دشمن جانتا ہے اور موقع ملنے پر اسے بارود کی نظر کر دیتا ہے۔سوات میں ہونے والی بربریت کا مشاہدہ کریں تو یہ دونوں چیزیں سامنے آتی ہیں کہ دہشتگردوں نے حملوں کے ذریعے افرا تفری پیدا کر کے عوام کے مدمقابل آنے والے جذبے کو کمزور کر دیا اور سکولوں کی تباہ حالی کے بعد معاشرے میں موجود بہت سے بچے دہشتگرد گروہوں کا حصہ بن گئے اسی کا نتیجہ تھا کہ سوات ویلی ایک مدت تک دہشتگردوں کی آماجگاہ بنی رہی۔

ان حملوں کو سی پیک کے تناظر میں دیکھنے کی بھی ضرورت ہے جیسے جیسے سی پیک کے منصوبے مکمل ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں دشمن ہر طرف سے حملے کر رہا ہے۔سی پیک کا بنیادی راستہ جو چائنہ کے ساتھ جوڑ رہا ہے وہ چلاس سے گذرتا ہے اس کے آس پاس بارہ سکولوں پر ایک ہی رات میں حملہ کر کے چائنہ اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے اور وہ جس راستے کی وجہ سے وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں اس پر دہشتگردوں کے سائے موجود ہیں۔اربوں ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوتا سی پیک اس حساس علاقے کو مزید حساس بنا رہا ہے۔سی پیک پاکستان کی ترقی کا راستہ ہے اس کے ذریعے چین پاکستان سمیت ممالک سے متصل ہو جائے گا۔کچھ قوتیں علی الاعلان اور کچھ خفیہ طور پر اس کی دشمن ہیں اس لیے اس طرح کیو اقعات کی روک تھا ضروری ہے۔

امن و تعلیم کے دشمن در اصل انسانیت کے دشمن ہیں جو نسل نو کو جہالت کے اندھیروں میں پھینکنا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں ہو سکے گا اب قوم نے تعلیم کا انتخاب کیا ہے۔ ابھی ابھی گلگت کے ایک دوست سے فون پر بات ہوئی وہ بتا رہے تھے ڈاکٹر صاحب اس وقت بھی چلاس میں ایک بڑا جلسہ جاری ہے جس میں لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے؟ کیوں ہمارے سکول جلائے جا رہے ہیں؟ یہ اتنا طاقتور دشمن کہاں سے آ گیا جو ہمارے گھر میں روشنی کے مناروں کو منہدم کر رہا ہے؟جہالت کے پجاریوں کو ،جہل کے ان پرستاروں کو چاہے وہ اندر کے ہوں یا باہر کے ہوں پاکستان کا یہ پیغام ہے ہمارا انتخاب تعلیم ہے اور یہی ہمارا ہتھیار بھی ہے۔


ای پیپر