انتخابی نظام اور احتجاجی سیاست؟
08 اگست 2018 2018-08-08

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جتنے بھی انتخابات ہوئے ان کے پیش نظر ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتائج نے تاریخ پلٹ کر رکھ دی۔ایک طرف ملک کی دو بڑی سیاسی جما عتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو جہاں انتخابی نتائج نے اپ سیٹ کیا وہیں پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی جو کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک مثال ہے۔یہ مثال قائم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ملک میں مہنگائی‘بیروزگاری‘کرپشن و بد عنوانی‘انصاف کی عدم دستیابی‘تعلیم اور صحت کے حصول جیسے مسائل پر قابو پا کر عوام کا معیار زندگی بلند کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔حالیہ انتخابی نتائج نے ان تمام سیاستدانوں جو اپنے آپ کو سیاست کا مائی باپ سمجھ رہے تھے انہیں سرخ جھنڈی دکھا کر یہ 

پیغام دیدیا کہ وہ مستقبل قریب کی سیاست کیلئے ان فٹ ہو چکے ہیں۔ان انتخابات نے الیکٹیبلز کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی جو سمجھتے تھے کہ سیاست سے اقتدار کا سفر انہی کے کندھوں پر سوار ہو کر کیا جاسکتا ہے۔بڑے بڑے مضبوط پلر عوامی دوام سے مسمار ہوگئے جو کہ سیاسی قیادتوں کیلئے بڑا واضح پیغام ہے کہ اب عوام کو جو ڈلیور کریگا وہی انتخابی نتائج میں شہسوار بنے گا۔اس کی تازہ مثال خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی بہتر پرفارمنس کی بنا پر متواتر دوسری بار بڑی واضح کامیابی ہے کیونکہ اس صوبہ میں تین دہائیوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک انصاف نے دوسری بار فتح حاصل کی ہے۔ ملکی سیاست کا منظر تبدیل ہو رہا ہے تحریک انصاف مرکز‘کے پی کے‘پنجاب اور بلوچستان میں حکومت سازی کیلئے مشاورت کے عمل سے گذر رہی ہے ۔تحریک انصاف کے ترجمان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ عمران خان بطور وزیراعظم پاکستان کا حلف گیارہ اگست کو اٹھائیں گے لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے منتخب ممبران کے نوٹیفکیشن اور حلقوں میں گنتی کے مراحل مکمل نہ ہونے کے باعث اب ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے چودہ اگست کو تقریب حلف برداری منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔جبکہ الیکشن کمیشن ذرائع کیمظابق سات اگست کو کامیاب اراکین اسمبلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گاگیارہ اگست کو اراکین اسمبلی کی حلف برداری بارہ اگست کو اسپیکر ‘ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب اور پندرہ اگست کو وزیر اعظم کا انتخاب اور حلف برداری ہو گی ۔تادم تحریر پاکستان کی تمام حزب اختلاف کی جماعتوں نے اے پی سی بلا کر یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے وزیر اعظم‘اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکرکے عہدیداروں کے مقابلے میں وزیر اعظم‘اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کیلئے متفقہ امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے۔متحدہ اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ مبینہ انتخابی دھاندلی کیخلاف پارلیمان اور پارلیمان کے باہر بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔ اور ایک وائٹ پیپر شائع کیا جائیگا۔آر ٹی ایس کی نا کا می کی تحقیقات کیلئے ماہرین پر مشتمل قائم ہونیوالی کمیٹی کو پیپلز پارٹی نے مسترد کر دیا ہے۔جوں جوں ملک میں ایک نئی حکومت کو اقتدار سونپنے کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اسی رفتار کیساتھ متحدہ اپوزیشن پہلے سے مزید مضبوظ ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے باعث ملک کے سنجیدہ حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔اگر یہ تمام حزب اختلاف کی جماعتیں ایک صفحہ پر متحد رہیں اور احٹجاج کیلئے ترتیب دی گئی پالیسی پر عمل پیرا ہوگئیں تو پھر تحریک انصاف کی نو زائیدہ قائم ہونیوالی حکومت کیلئے حکومتی امور سر انجام دینے میں مشکلات پیش آئینگی۔ملک میں انتخابات کو منصفانہ‘شفاف اور پر امن بنانا کسی ریاستی ادارے یا سیاسی جماعت کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ یہ تمام تر ذمہ داری ملک میں قائم نگران حکومت کی ہوتی ہے اس سے قبل کہ یہ ملک سیاسی احتجاج کی نذر ہو کر سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہو جائے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چاہیے کہ ذمہ داری کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے جانیوالے انتخابی دھاندلی کے الزامات کو خود سنے اور 

سیاسی جماعتوں کے الیکشن نتائج کے بارے تحفظات کو دور کرے۔ملک پہلے ہی بہت سے چیلنجز اور بحرانوں کا شکار ہے معشیت کے دگرگوں اور ملکی داخلی و خارجی مسائل نازک صورتحال سے دوچار ہیں۔دو اگست کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس میں جو حزب اختلاف کی سیاسی‘لیبرل اور مذہبی جماعتوں نے متفقہ طور پر احتجاجی سیاست کی جو پالیسی ترتیب دی ہے اس میں بظاہر کسی کو اعتراض نہیں ہے جمہوری ممالک میں آزادی اظہار کا ایک عام شہری کو بھی اتنا ہی حق حاصل ہوتا ہے جتنا ملک کی سیاسی جماعتوں کو حق حاصل ہے لیکن ملکی حالات اگر اس کی اجازت دیں اگر آپ کا 

ملک مسائل‘چیلنجز اور بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اور ملک دشمن قوتیں متحد ہو کر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں کہ جس سے ملک کی معشیت ‘ریاستی اداروں‘سیاست‘ اور ملک کے داخلی معاملات کو عدم استحکام سے دوچار کر دے تو ایسے حالات میں وقت کے تقاضے مل بیٹھ کر فیصلے کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔کیا انتخابات میں ہونیوالی مبینہ دھاندلی کا ذمہ دار عمران خان‘ الیکشن کمیشن یا ریاستی ادارے ہیں الیکشن کمیشن سمیت ریاستی اداروں کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی ۔ انتخابی نظام پر عدم اعتماد کرنے والے یہ بتائیں اسکو مضبوط بنا کر چور راستے کیوں بند نہیں کئے گئے صرف اس لئے کہ انتخابی عمل کو سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار اور ذاتی مفادات کے حصول کیلئے ڈکٹیٹ کر سکیں۔ملک میں ہونیوالے ہر الیکشن میں شکست سے دوچار ہونیوالی سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کا ڈنکا سر بازار بجتا ہے آخر کب تک ایسا ہوتا رہیگا کب تک اس ملک کی سیاسی بساط احتجاج کے ذریعے لپیٹنے کی کوشش کی جاتی رہیگی چاہیے تو یہ تھا کہ الیکشن کے جتنے تجربات سے یہ ملک گذر چکا ہے حکمران حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی دعوت دیتیں اور ایک ایسا انتخابی نظام وضع کرتیں کہ دھاندلی کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند ہو جاتے لیکن بد قسمتی سے ملک میں ہر نئی آنیوالی حکومت کو سب سے پہلے الیکشن میں مینڈیٹ چوری کرنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں یہ شامل نہیں رہا کہ انتخابی نظام کو اتتنا مضبوط و مربوط بنا کر فول پروف بنا دیا جائے کہ دوبارہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا شور نہ اٹھے۔ہمیشہ ملکوں کی اساس وقت کے تقاضوں کے مطابق درست فیصلے کر کے مضبوط بنائی جاتی ہے۔پاکستان کسی بھی انتشاری سیاست کا متحمل نہیں ہے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر افہام و تفہیم کیساتھ معاملات کو سلجھائیں تا کہ ملک دشمن قوتیں جو اس ملک کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیساتھ ترنوالہ بنانے کیلئے بیقرار ہیں انکی اس طاقت کو تقویت نہ ملے۔ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو پارلیمان میں بیٹھ کر انتخابی نظام سے پیدا ہونیوالی دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے متعلق اس نظام کی مضبوطی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانا چاہیے ورنہ یہ نظام ہر آنیوالی حکومت کے گلے کا طوق بنا رہیگا۔جب تک اس انتخابی نظام پر شکوک و شبہات کے سائے منڈلاتے رہینگے اس پر سر بازار انگلیاں اٹھتی رہینگی اگر اس ملک کو ترقی کے دھارے پر گامزن کرنا ہے تو پھر سیاسی جماعتوں کو آگے بڑھ کر ریاستی اداروں کو مضبوطی دیکر ملکی نظام کی بہتری کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔۔۔!


ای پیپر