تعصب کی عینک اتاریں
08 اگست 2018 2018-08-08

بزرگ ن لیگ کے بہت بڑے سپورٹر ہیں۔ عمران خان ،فوج اور میڈیا کے خلاف تعصب کا شکار ہیں۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اتنی نفرت نواز شریف بھی عمران خان اور فوج سے نہیں کرتے ہوں گے جتنی یہ بزرگ کرتے ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ان کی نفرت اور تعصب کی شدت کا اندازہ لگانے کے لیے میں 25جولائی کو میرے اور بزرگ کے مابین ہونے والی گفتگوآپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔

ٹیلی ویژن بند تھا، ٹی وی لاونج میں ہُو کا عالم تھا۔ میں اندر داخل ہوگیا۔ بزرگ سے سلام کیا اور ٹی وی لاونج میں ٹیلی ویژن کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ بزرگ پریشان تھے۔ان کے چہرے پر مایوسی، پریشانی اور دکھ کے تمام اثرات واضع تھے۔میں سمجھ نہیں سکا کہ یہ میرا وہم ہے یا واقعی بزرگ کسی بات پر پریشان تھے۔ میں کچھ دیر بند ٹی وی کو گھورتا رہا اور پھر بزرگ سے کہاکہ ٹیلی ویژن آن کر دیں۔ بزرگ ٹیلی ویژن آن کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ کہنے لگے ٹیلی ویژن بند ہی رہنے دیں۔ سب بے کار چل رہا ہے تمام چینلوں پر۔ میں نے کہا جی کیا بے کار چل رہا ہے تو فرمانے لگے کہ وہی یار کہ پی ٹی آئی الیکشن جیت رہی ہے۔ بزرگ کے منہ سے پی ٹی آئی کی جیت کی خبریں چلانے کو بے کار کہنا میرے لیے حیران کن بھی تھا اور مضحکہ خیز بھی۔ خیر میرے کہنے پر انھوں نے ٹی وی آن کر دیا۔

میں نے کہا کہ چینلوں کا کام ہے الیکشن کی خبر چلانا لہذا وہ چلا رہے ہیں اور جہاں تمام چینلز تھوڑے بہت فرق کیساتھ ایک ہی خبر چلا رہے ہوں تو وہاں یہ بھی کہنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ سب جھوٹ چل رہا ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اس میں غلط کیا ہے؟کیا یہ خبریں جھوٹی چلا رہے ہیں؟ بزرگ نے کوئی جواب نہ دیا اوربے پروا لہجے میں دوسراالزام داغ دیا۔بزرگ نے فرمایا بہت بڑی دھاندلی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ کہاں ہوئی 

ہے؟ کہنے لگے پتہ نہیں کہاں ہوئی ہے لیکن دھاندلی ضرور ہو رہی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کس طرح کہہ سکتے کہ دھاندلی ہوئی ہے؟ اس مرتبہ تو فوجی پولنگ بوتھ کے اندر بھی تھی اور باہر بھی تھے۔ہر جگہ کیمرے لگے ہوئے تھے۔ بہت صاف اور شفاف الیکشن ہوئے ہیں۔ بزرگ طنزیہ لہجے میں مسکرائے اور گردن جھٹک کر بولے ہم۔۔۔ فوج۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے تیسرا الزام بھی داغ دیا ۔ انھوں نے فرمایا کہ یہ دھاندلی فوج ہی کروا رہی ہے۔ میں نے کہا کونسی دھاندلی؟ کہاں ہے دھاندلی؟ کیسے ہو رہی ہے دھاندلی؟ کیا ثبوت ہیں آپ کے پاس کہ فوج دھاندلی کروا رہی ہے؟ بزرگ کے پاس میرے سوالوں کے جواب نہیں تھے۔پھر بھی انھوں نے چوتھا الزام پیش کر دیا کہ فارم 45 نہ دے کر الیکشن کمیشن دھاندلی کر رہا ہے۔ میں نے کہا الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا ہے اس لیے فارم 45دینے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ آپ صرف اپنی نفرت کی بنیاد پر تنقید نہ کریں۔ بزگ نے بغیر کسی وقفے کے پانچواں الزام داغ دیا کہ گیارہ بج رہے ہیں اور تیس حلقوں میں سے کسی ایک بھی پولنگ بوتھ کے کوئی نتائج نہیںآئے۔ ان کے نتائج روک دیے گئے ہیں۔ لہٰذا یہ دھاندلی ہو رہی ہے۔ میں نے کہا آپ کیسے کہ سکتے ہیں؟ بزرگ نے ٹی وی کی طرف ہاتھ بڑھا کر تشویش ناک لہجے میں فرمایا کہہ رہا ہے۔ میں نے جیو کی طرف اشارہ کر کے انھیں بتایا کہ جیو کے الیکشن ٹیبل کے مطابق 272 حلقوں میں سے 265 کے نتائج آ رہے ہیں تو تیس کے نتائج نہ آنے کی خبر کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟ ٹھیک تیس سیکنڈ بعد انھوں نے چھٹا الزام میری خدمت میں پیش کر دیا۔ بزرگ فرمانے لگے کہ عمران خان چور ہے۔ یہ شوکت خانم کے پیسے کھاتا ہے۔ شوکت خانم ہسپتال لاہور کی ایک منزل اس کے ذاتی استعمال میں ہے۔ میں نے پوچھا کوئی ثبوت ہے تو دیں۔ فرمانے لگے ثبوت تو نہیں ہیں۔ میں نے کہا تو پھر الزام لگانے سے پہلے اس کی تحقیق تو کر لیں کہ الزامات سچے ہیں یا جھوٹے؟ بزرگ لاجواب ہو گئے اور سوچنے لگے کہ اب اگلا الزام کیا لگاؤں؟ وہ کچھ دیر رکے او ر ساتواں ا لزام داغ دیا کہ تحریک انصاف کے سپورٹرز انتہائی نا سمجھ ، جذباتی اور عقل سے خالی ہیں۔ ان کی یہ لاجک انتہای غلط اور بیوقوفانہ ہے کہ ایک موقع نئی پارٹی کو ضرور دینا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ اپنی سوچ کے بل بوتے پر تبدیلی کے خواہشمندوں کو بیوقوف کیسے کہہ سکتے ہیں۔ آپ اپنی رائے کو بنیاد بنا کر پورے ملک میں تبدیلی کے سپورٹروں کو کیسے بیوقوف کہہ سکتے ہیں؟ بزرگ خاموش تھے کیونکہ وہ لاجواب ہو چکے تھے۔ انھوں نے لمبا سانس لیا آٹھواں الزم سوچا اور میزائل کی رفتار سے میرے سینے میں داغ دیا۔فرمایا خواجہ سعد رفیق کے حلقے کے نتیجے میں تاخیر کر کے یہ دھاندلی کر رہے ہیں۔ آپ ہی بتائیں نتائج میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟میں نے کہا کہ اس حوالے سے 

ہمیں الیکشن کمیشن کی بات ماننی چاہیے۔ ابھی الفاظ میرے منہ میں ہی تھے کہ بزرگ نے طنزیہ مسکراہٹ دی اور فرمایا اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔وہ کیوں کہے گا کہ اس نے الیکشن غلط کروائے ہیں؟ میں نے عرض کیا تو پھر آپ ہی بتائیں کس کی رائے زیادہ اہم ہونی چاہیے۔ فرمانے لگے پولنگ ایجنٹس کی۔ میں نے کہا کہ پولنگ ایجنٹ کی رائے پر فیصلہ کون دے گا۔کہنے لگے الیکشن کمیشن۔ میں نے کہا کہہ یہی تو میں کہ رہا ہوں۔آپ پہلے ہی میری بات مان جاتے۔ لہٰذا جب تک الیکشن کمیشن نہ کہے کہ دھاندلی ثابت ہو گئی ہے تب تک آپ الزام مت لگائیں۔ بزرگ اب تک الزامات کے آٹھ محاذوں پر شکست سے دو چار ہو چکے تھے کوئی نیا الزام ان کے ذہن میں نہیں آرہا تھا۔ میں نے ان سے اجازت لی اور یہ کہہ کر محفل بر خاست کر دی کہ جتنا وقت اور طاقت آپ عمران خان اور فوج کے خلاف الزامات سوچنے میں لگاتے ہیں اس کا صرف دس فیصد آپ اپنی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتارنے اور اپنے خیالات ن لیگ کے پلیٹ فارم سے پیش کرنے کے بجائے پاکستان کے پلیٹ فارم سے پیش کرنے میں لگائیں تو آپ کے خیالات مثبت ہو جائیں گے، آپ کے دلائل میں جان آجائے گی، آپ نوجوانوں کے ہیروبن جائیں گے اور لوگ آپ کو ن لیگی کہنے کی بجائے پاکستانی کہنے لگیں گے۔آپ کی سوچ اور خیالات آنے والی نسلوں پر آپ کی چھاپ چھوڑ کر جائے گی اور وقت نے ثابت کیا ہے کہ جن قوموں کے بزرگ متوازن رائے دینے کی بجائے تعصب پر مبنی رائے دیتے ہیں، ان قوموں کے نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ کے بچے تعصب زدہ سوچ کے ساتھ زندگی گزاریں یا متوازن سوچ کے مالک بنیں۔


ای پیپر