پی ٹی آئی عوامی توقعات پورا نہ کر سکی تو۔۔۔
08 اگست 2018 2018-08-08

حالیہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کر نے والی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے قائدعمران خان نے اپنی تقریر کے دوران یہ واضح کیا ہے کہ وہ وزیر اعطم ہاوس میں قیام نہیں کریں گے بلکہ وزیر اعظم ہاوس کو تعلیمی ادارہ بنا ئیں گے یا کسی اور عوامی مفاد کیلئے استعمال کیا جائے گا وزیر اعظم ہاوس میں اب تک منتخب اور غیر منتخب 25 وزیراعظم قیام کر چکے ہیں عمر ان خان کے وزیراعظم ہاوس میں نہ رہنے کے بیان کو عوام میں بہت زیادہ پذیرائی ملی اور عوامی حلقوں میں وزیر اعظم ہاوس کے استعمال کے حوالے سے گفتگو کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ روز حمید بابا بھی چائے کی دوکان پر اپنے دونوجوان نواسوں کے ساتھ وزیر اعظم ہاوس کے استعمال کے موضوع پر گفتگو کر رہا تھا اس کے ایک نواسے جو کہ کمپیوٹر کی تعلیم سے وابستہ ہے نے تجویز دی 

کہ اگر وزیر اعظم ہاوس کو ٹکٹ لگا کر عوام کیلئے کھول دیا جائے تو اس سے ملک کو روزانہ کی بنیاد پر اچھی خاصی آمدن ہو سکتی ہے جبکہ اسکے بھائی جو کہ پی ٹی آئی کا بڑا متحرک کارکن دکھائی دیتا تھا نے اپنے بزرگ سے کہا کہ بابا جی اگر وزیر اعظم ہاو س کو عوام کیلئے ٹکٹ لگا کر کھول دیا جا ئے تو اس سے مالی آمدنی کے ساتھ ساتھ سیاسی آمدنی بھی ہوسکتی ہے تو باباجی نے جھانک کر اپنے نواسے کی طرف دیکھا اور کہا کہ سیاسی آمدنی سے تمہاری کیا مراد ہے تو نوجوان نے کسی دانشور کی طرح اپنی نظریں جمائی اور اپنے آئیڈیا کی وضاحت کر تے ہوئے کہا کہ جب عام آدمی وزیر اعظم ہاوس کا وزٹ کر ے گا تو اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ ایک ایسا ملک جس میں طبی سہولیات کی کمی ہو نے کے باعث روزانہ سینکڑوں لوگ تڑ پ تڑپ کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور نوجوان بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشی جیسے سنگین اقدام پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اس ملک کے حکمران پر آسائش وزیر اعظم ہاوس میں اپنی زندگی کے شب و روز گزار ے رہے اوراس سے عوام میں ماضی کے حکمرانوں کیلئے نفرت کا ایک عنصر پیدا ہوگا جس کا فائدہ پی ٹی آئی کو پہنچے گا اس طرح روزانہ کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے ووٹرز اور سپورٹرز میں اضافہ ہو نے کا امکان ہے باباجی نے اپنے نواسے کے خیالات سن کر اس کا ماتھا چوما اور اسے کہا کہ ہاں تمہارے اس آئیڈیامیں بڑی جان ہے اگر وزیر اعظم ہاوس کو عوام کیلئے ٹکٹ لگا کر کھول دیا جا ئے تو آمدنی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کو سیاسی آمدنی ضرور ہو گی دوسرے نواسے نے گفتگو میں اپنا حصہ ڈالتے ہو ئے کہا کہ میرے خیال میں وزیراعظم ہاوس کے کچھ حصے کو عوام کیلئے کھولنے کیسا تھ ساتھ دیگر حصے میں ایک تعلیمی ادارہ بھی قائم کیا جانا چاہیے 

وزیر اعظم ہاوس اسلام آباد جس کی تعمیر 1963 میں شروع ہو ئی اور 1970 میں مکمل ہو ئی وزیر اعظم ہاوس کا نقشہ کی تیاری اور تعمیر اسلام آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کی وزیر اعظم ہاوس اسلام آباد کا کل رقبہ 135 ایکڑ ہے جو تقریبا ساڑھے پانچ مربع سے زائد بنتا ہے پاکستان کے وزیر اعظم ایک ایسا ملک میں رہتے ہیں کہ جہاں پر عوام مہنگائی کے اس دور میں اپنی زندگی میں ایک مرتبہ بھی اپنا گھر تعمیر کر نیکی خواہش پوری نہیں کرسکتی اور وزیراعظم ایک ایسے محل میں رہتے ہیں کہ اس کے کل رقبہ پر دو بہترین ہاوسنگ کالونیاں بنائی جاسکتی ہے اور ان کالونیوں میں ان غریبوں کو رہنے کیلئے گھر دیئے جاسکتے ہیں لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ایک وزیراعطم ساڑھے پانچ مربع کے زائدرقبہ کے عالیشان محل میں اپنی زندگی کے شب وروز گزارتا ہے اور غریب عوام کی اکثریت فٹ پاتھ پر سونے پر مجبور ہے اور اس کا روزانہ کا خرچہ تقریبا 10 لا کھ روپے ہیں اگر وزیر اعظم ہاوس کو عوام کیلئے کھول دیا جائے تو بیرون ممالک سے بھی لوگ لا کھوں کی تعداد میں اس ہاوس کو دیکھنے کیلئے آئیں گے اور وہ اس ہاوس کی سیر کر نے کے بعد حیران ہو گے کہ ایک ایسا ملک جو کہ قرضوں کے بوجھ تلے دیا ہوا ہے اور اس کے حکمران کس قدر پرآسائش گھر میں اپنے شب و روز گز ارتے رہے اور جب ’’تبدیلی ‘‘ کا نعر ہ لگا نے والی ایک جماعت نے حکومت میں آکر تبدیلی کے نعرے کوعملی شکل دینا شروع کی تو اس جماعت پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے اس وزیر اعظم ہاوس میں رہنے سے انکار کردیا اس اقدام سے جہاں اقوام عالم کے وزیزٹر میں پاکستان کا اییمج بہتر ہوگا وہی پر پاکستا ن میں ٹورازم کو فروغ ملنے کے واضح امکانات ہیں حالیہ انتخابات 2018 میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو نے والی پارٹی کے قائد اور پا کستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان نے 

جہاں وزیر اعظم ہاوس میں نہ رہنے کا اعلان کیا وہی پر انہوں نے پروٹوکول لینے سے بھی انکار کر دیا جس بات کو پا کستان عوام میں مثبت نظر سے دیکھا جارہا ہے پاکستانی عوام کہتی ہے کہ تبدیلی کا نعر لگانے والی جماعت نے حکومت سنبھالنے سے پہلے ہی جو اقدامات اور اعلانات کیئے ہیں ان سے لگتا ہے کہ ملک میں واقعی ہی تبدیلی آنی شروع ہو گئی ہے تاہم پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ عوام نے انکی جماعت سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرلیں ہیں انہوں نے عوام کو مایوس کیا تو پھر انکا حال گزشتہ 25 سال سے حکمران جماعت سے بھی برا ہوگا کیونکہ اب عوام میں شعوری بیداری کا عمل شروع ہو چکا ہے اگر چہ پی ٹی آئی کے متعدد راہنماوں کی سوچ کا دھارا عمران خان کی سوچ سے مختلف ہے جس کی وجہ سے جماعت کو مشکلات پیش آنے کے قوی امکانا ت موجود ہیں۔


ای پیپر