08 اگست 2018 2018-08-08

آئین پاکستان میں ہر شہری کو بلاتفریق تمام بنیادی حقوق فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ان حقوق کا تحفظ عدلیہ کے اختیار میں ہے. لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے غریب لوگوں کی کمی نہیں جو ظلم و ستم کا شکار ہو کر انصاف کے لئے در در بھٹکتے رہتے ہیں. بطور صحافی آئے روز ایسے دردناک اور افسوسناک واقعات سے پالا پڑتا ہے کہ عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آج میں جن دو واقعات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ایسے ہیں کہ پانچ روز کے بعد بھی فراموش نہیں ہو سکے، ایک اس دکھیاری عورت کے بین تھے جو اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے چیف جسٹس پاکستان کے پاس فریاد لے کر آئی تھی اور دوسرا ایک طالب علم تھا جو انصاف کی تلاش میں کراچی سے اپنے جوتے بیچ کر لاہور پہنچا تھا. لیکن دونوں سائلین کی یہ بدقسمتی رہی کہ وہ چیف جسٹس سے نہ مل سکے اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ناروا سلوک سے مزید اذیت کا شکار ہو کر نامراد واپس لوٹ گئے. ان واقعات کا ذکر اس لئے بھی ضروری ہے کہ شاید ارباب اختیار تک ان کی فریاد پہنچ جائے اور کوئی ان کے دکھوں کا مداوا کر سکے. فیصل آباد سے آنے والی نسرین اقبال نامی خاتون شدید گرمی اور حبس میں سپریم کورٹ کے فٹ پاتھ پر بیٹھی دہائیاں دے رہی تھی. اس عورت کے بین اتنے دردناک تھے کہ ہر دیکھنے اور سننے والے کی آنکھیں نم تھیں حتیٰ کہ وہاں احتجاج کے لئے آئے ہوئے دیگر شہری بھی اپنی تکلیف بھول کر اس خاتون کو تسلی دیتے رہے. پوچھنے پر خاتون نے بتایا کہ زمین پر قبضہ کے لیے اس کے رشتہ داروں نے پولیس کے ساتھ مل کر اس کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی پر بدترین تشدد کیا بعد ازاں ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے جیل بھجوا دیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ بدترین تشدد کی وجہ سے اس کے تینوں بچوں کی حالت غیر ہے جسم کی کئی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں۔ انصاف کی بھیک مانگتی اور بین کرتی یہ خاتون سپریم کورٹ رجسٹری کی دیوار سے ٹکریں مار مار کر بے ہوش ہو گئی، دوسرا بدنصیب سندھ سے آیا ہوا خیر پور یونیورسٹی کا طالب علم تھا. شکیل نامی اس نوجوان نے اپنی فریاد پہنچانے کے لیے چیف جسٹس کی گاڑی کے سامنے آنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے دھر لیا تاہم پوچھ گچھ کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا. متاثرہ طالب علم نے بتایا کہ اس کے خاندان کے 6 افراد کو سندھ میں قتل کر دیا گیا تھا لیکن انصاف نہیں ملا، بھائی کے اعضا کاٹ کر قتل کرنیوالے ملزم سرعام پھر رہے ہیں. اپنے جوتے بیچ کر ٹرین پر سفر کر کے لاہور پہنچا ہوں لیکن چیف جسٹس پاکستان سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے چیف جسٹس واقعہ کا نوٹس لے کر ملزمان کے خلاف کارروائی کا حکم دیں، مظلوم عورت کے بین اور طالب علم کی فریاد چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار تک نہیں پہنچ سکی، میرے نزدیک یہ ان لوگوں کی بدقسمتی تھی کہ اس روز چیف جسٹس مصروفیت کے باعث چلے گئے اور باہر کھڑے سائلین کی دادرسی کے لیے سماعت نہیں کر سکے، ہر مظلوم اتنا خوش قسمت نہیں کہ اس کی رسائی چیف جسٹس تک ہو جائے. آنے والے سائلین کی اکثریت کا تعلق دوردراز کے علاقوں سے ہوتا ہے اور بعض لوگ تو اپنی بات بھی مناسب طریقے سے سمجھا نہیں پاتے. مجھے اس بات کا یقین ہے کہ عوامی خدمت کے لیے کوشاں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار تک اگر یہ سائلین پہنچ جاتے تو یقیناً ان کی دادرسی ہو جاتی. چیف جسٹس جس روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کرتے ہیں، اس روز ملک بھر سے سائلین صبح سویرے ہی وہاں پہنچ جاتے ہیں، سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کے باعث یہ سپریم کورٹ میں داخل نہیں ہو پاتے. مجبوراً یہ سائلین شدید دھوپ میں کھڑے یا فٹ پاتھ پر بیٹھ کر انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب چیف جسٹس انھیں بلائیں. شدید گرمی میں گھنٹوں انتظار کرنے والے کئی مرد و خواتین کے بے ہوش ہونے کے واقعات بھی ہو چکے ہیں. بزرگ سائلین اندر داخل ہونے کے لئے سیکیورٹی اہلکاروں کی منتیں کرتے نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی انھیں اجازت نہیں ملتی، روز مرہ کے مقدمات کی سماعت کے بعد چیف جسٹس سائلین کو بلوا لیتے ہیں اور سب کے مسائل سن کر موقع پر احکامات جاری کرتے ہیں. لیکن تب تک بہت سے لوگ مایوس ہو کر جا چکے ہوتے ہیں. ان سائلین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ انتظامیہ ایسا نظام وضع کرے کہ آنے والے سائلین بلا تفریق اپنی درخواستیں جمع کروا سکیں. اگر عوامی شکایات کی وصولی کے لیے ایک خصوصی ڈیسک قائم کر دیا جائے اور سائلین کے لیے سپریم کورٹ کے باہر سایہ دار شیڈ اور پانی کا انتظام ہو جائے تو شاید ان کی مشکلات کچھ کم ہو جائیں۔


ای پیپر